حدیث نمبر: 1641
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ أَرْوَاحَ الشُّهَدَاءِ فِي طَيْرٍ خُضْرٍ تَعْلُقُ مِنْ ثَمَرِ الْجَنَّةِ أَوْ شَجَرِ الْجَنَّةِ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´کعب بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” شہداء کی روحیں ( جنت میں ) سبز پرندوں کی شکل میں ہیں ، جو جنت کے پھلوں یا درختوں سے کھاتی چرتی ہیں “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب فضائل الجهاد عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 1641
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، ابن ماجة (4271)
تخریج حدیث «سنن النسائی/الجنائز 117 (2075) ، سنن ابن ماجہ/الجنائز 4 ( (1449) ، والزہد 32 (4271) ، ( تحفة الأشراف : 11148) ، وط/الجنائز 16 (49) ، و مسند احمد (3/455، 456، 460) (صحیح)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن نسائي: 2075 | سنن ابن ماجه: 4271

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 2075 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´مومنوں کی روحوں کا بیان۔`
کعب بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مومن کی جان جنت کے درختوں پہ اڑتی رہے گی یہاں تک کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اسے اس کے جسم کی طرف بھیج دے۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2075]
اردو حاشہ: مذکورہ روایت کو محقق کتاب نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے جبکہ سنن ابن ماجہ کی تحقیق میں بعینہٖ اسی روایت پر سنداً ضعف کا حکم لگانے کے بعد لکھتے ہیں کہ اس سے سنن ابن ماجہ ہی کی روایت نمبر: 4271، کفایت کرتی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ مذکورہ روایت محقق کتاب کے نزدیک بھی قابل حجت ہے۔ علاوہ ازیں دیگر محققین نے بھی اسے صحیح قرار دیا ہے۔ بنا بریں مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہونے کے باوجود دیگر شواہد اور متابعات کی بنا پر قابل حجت ہے۔ واللہ أعلم۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیے: (الموسوعة الحدیثیة مسند الإمام أحمد: 59-55/25، والصحیحة للألباني، رقم: 995، و ذخیرة العقبیٰ شرح سنن النسائي: 143-123/20) جسم سے مراد برزخی جسم ہے جس پر برزخی زندگی کی کیفیات گزریں گی جس کی اصل حقیقت اللہ ہی جانتا ہے، تاہم وہاں اسے جنت اور جہنم کی نعمتوں اور تکلیفوں کا احساس ہوگا۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2075 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 4271 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´قبر اور مردے کے گل سڑ جانے کا بیان۔`
کعب رضی اللہ عنہ کہتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مومن کی روح ایک پرندے کی شکل میں جنت کے درخت میں لٹکتی رہے گی، یہاں تک کہ وہ قیامت کے دن اپنے اصلی بدن میں لوٹ جائے گی۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4271]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سندا ضعیف قرار دیا ہے۔
جبکہ دیگر محققین نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔
محققین نے اس حدیث پر طویل بحث کی ہے۔
جس سے معلوم ہوتا ہے۔
کہ تصیح والی رائے ہی اقرب الی الصواب ہے۔
علاوہ ازیں ہمارے فاضل محقق نے سنن ابن ماجہ کی ایک روایت جو کہ اس مفہوم کی ہے۔
اس کی تحقیق میں لکھا ہے کہ آئندہ آنے والی روایت (4271)
اس سے کفایت کرتی ہے جبکہ مذکورہ روایت کو وہ خود ضعیف قراردے چکے ہیں۔
جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں شیخ سے تسامح ہوا ہے۔
بنابریں مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہونے کے باوجود دیگر شواہد اور متابعات کی بنا پر قابل حجت ہے۔
واللہ اعلم۔
مزید تفصیل کے لئے دیکھئے۔ (الموسوعة الحدیثیة مسند الإمام أحمد: 25/ 55، 59 والصحیحة للألبانی رقم: 995 وسنن ابن ماجة بتحقیق الدکتور بشار عواد رقم: 4271)

(2)
پچھلی حدیث میں مذکور تھا کہ میت کوقبر ہی میں جنت کی یا جہنم کی ہوا پہنچتی ہے۔
جبکہ اس حدیث میں ہے کہ وہ پرندے کی صورت میں جنت کے پھل کھاتا ہے۔
ممکن ہے کہ یہ انسان کے درجات کے لحاظ سے ہو کہ بعض مومنوں کو قبر میں جنت کی نعمتیں ملتی ہوں اور بعض کو جنت میں پہنچا دیا جاتا ہو جیسے شہداء کے بارے میں یہی الفاظ وارد ہیں۔
واللہ اعلم۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4271 سے ماخوذ ہے۔