سنن ترمذي
كتاب الصلاة— کتاب: نماز کے احکام و مسائل
باب مَا جَاءَ فِي تَأْخِيرِ صَلاَةِ الْعَصْرِ باب: نماز عصر دیر سے پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 163
وحَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ الْبَصْرِيُّ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ وَهَذَا أَصَحُّ .ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اسماعیل بن علیہ کی` ابن جریج سے روایت زیادہ صحیح ہے ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی: اس حدیث کا ابن جریج کے طریق سے مروی ہونا زیادہ صحیح ہے بہ نسبت ایوب سختیانی کے طریق کے، کیونکہ ابن جریج سے علی بن حجر کے علاوہ بشر بن معاذ نے بھی روایت کی ہے، واللہ اعلم۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´نماز عصر دیر سے پڑھنے کا بیان۔`
اسماعیل بن علیہ کی ابن جریج سے روایت زیادہ صحیح ہے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 163]
اسماعیل بن علیہ کی ابن جریج سے روایت زیادہ صحیح ہے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 163]
اردو حاشہ:
1؎:
یعنی: اس حدیث کا ابن جریج کے طریق سے مروی ہونا زیادہ صحیح ہے بہ نسبت ایوب سختیانی کے طریق کے، کیونکہ ابن جریج سے علی بن حجر کے علاوہ بشر بن معاذ نے بھی روایت کی ہے، واللہ اعلم۔
1؎:
یعنی: اس حدیث کا ابن جریج کے طریق سے مروی ہونا زیادہ صحیح ہے بہ نسبت ایوب سختیانی کے طریق کے، کیونکہ ابن جریج سے علی بن حجر کے علاوہ بشر بن معاذ نے بھی روایت کی ہے، واللہ اعلم۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 163 سے ماخوذ ہے۔