سنن ترمذي
كتاب فضائل الجهاد عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: فضائل جہاد
باب مَا جَاءَ فِي فَضْلِ النَّفَقَةِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ باب: اللہ کی راہ (جہاد) میں خرچ کرنے کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1625
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ الرُّكَيْنِ بْنِ الرَّبِيعِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يُسَيْرِ بْنِ عَمِيلَةَ، عَنْ خُرَيْمِ بْنِ فَاتِكٍ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَنْفَقَ نَفَقَةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، كُتِبَتْ لَهُ بِسَبْعِ مِائَةِ ضِعْفٍ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : وَفِي الْبَاب ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ ، إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ الرُّكَيْنِ بْنِ الرَّبِيعِ .ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´خریم بن فاتک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے اللہ کے راستے ( جہاد ) میں کچھ خرچ کیا اس کے لیے سات سو گنا ( ثواب ) لکھ لیا گیا “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن ہے ، اس حدیث کو ہم رکین بن ربیع ہی کی روایت سے جانتے ہیں ، ۲- اس باب میں ابوہریرہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 3188 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´اللہ کے راستے (جہاد) میں خرچ کرنے کی فضیلت کا بیان۔`
خریم بن فاتک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جس نے اللہ کے راستے میں کچھ خرچ کیا اس کے لیے اللہ تعالیٰ کے یہاں سات سو گنا بڑھا کر لکھا گیا۔“ [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3188]
خریم بن فاتک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جس نے اللہ کے راستے میں کچھ خرچ کیا اس کے لیے اللہ تعالیٰ کے یہاں سات سو گنا بڑھا کر لکھا گیا۔“ [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3188]
اردو حاشہ: نیکی کا ثواب دس گنا تولازمی چیز ہے۔ اس سے زائد متعلقہ شخص کے خلوص کے لحاظ سے ہے۔ کچھ ایسے مخلصین بھی ہیں جو سات گنا ثواب حاصل کرتے ہیں۔ وَمَا ذَالِکَ عَلَی اللّٰہِ بِعَزِیْز۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3188 سے ماخوذ ہے۔