سنن ترمذي
كتاب فضائل الجهاد عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: فضائل جہاد
باب مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الْجِهَادِ باب: جہاد کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1620
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنِي مَرْزُوقٌ أَبُو بَكْرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْنِي : يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : " الْمُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ هُوَ عَلَيَّ ضَامِنٌ ، إِنْ قَبَضْتُهُ ، أَوْرَثْتُهُ الْجَنَّةَ ، وَإِنْ رَجَعْتُهُ ، رَجَعْتُهُ بِأَجْرٍ أَوْ غَنِيمَةٍ " ، قَالَ : هُوَ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ .ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ عزوجل فرماتا ہے : اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے والے کا ضامن میں ہوں ، اگر میں اس کی روح قبض کروں تو اس کو جنت کا وارث بناؤں گا ، اور اگر میں اسے ( اس کے گھر ) واپس بھیجوں تو اجر یا غنیمت کے ساتھ واپس بھیجوں گا “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث اس سند سے صحیح غریب ہے ۔