حدیث نمبر: 1616
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَانَ يُعْجِبُهُ إِذَا خَرَجَ لِحَاجَةٍ ، أَنْ يَسْمَعَ يَا رَاشِدُ يَا نَجِيحُ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ سننا اچھا لگتا تھا کہ جب کسی ضرورت سے نکلیں تو کوئی یا راشد یا نجیح کہے ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔

وضاحت:
۱؎: راشد کا مطلب ہے صحیح راستہ اپنانے والا، اور نجیح کا مفہوم ہے جس کی ضرورت پوری کر دی گئی۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب السير عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 1616
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، الروض النضير (86)
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 624) (صحیح)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : معجم صغير للطبراني: 695

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´بدشگونی اور بدفالی کا بیان۔`
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ سننا اچھا لگتا تھا کہ جب کسی ضرورت سے نکلیں تو کوئی یا راشد یا نجیح کہے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب السير/حدیث: 1616]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
راشد کا مطلب ہے صحیح راستہ اپنانے والا، اور نجیح کا مفہوم ہے جس کی ضرورت پوری کردی گئی۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1616 سے ماخوذ ہے۔