سنن ترمذي
كتاب السير عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: جہاد کے احکام و مسائل
باب مَا جَاءَ فِي الطِّيَرَةِ وَالْفَأْلِ باب: بدشگونی اور بدفالی کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ عِيسَى بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الطِّيَرَةُ مِنَ الشِّرْكِ وَمَا مِنَّا ، وَلَكِنَّ اللَّهَ يُذْهِبُهُ بِالتَّوَكُّلِ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : وَفِي الْبَاب ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَحَابِسٍ التَّمِيمِيِّ ، وَعَائِشَةَ ، وَابْنِ عُمَرَ ، وَسَعْدٍ ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، وَرَوَى شُعْبَةُ أَيْضًا ، عَنْ سَلَمَةَ هَذَا الْحَدِيثَ ، قَالَ : سَمِعْت مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيل ، يَقُولُ : كَانَ سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، يَقُولُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ : " وَمَا مِنَّا وَلَكِنَّ اللَّهَ يُذْهِبُهُ بِالتَّوَكُّلِ " ، قَالَ سُلَيْمَانُ : هَذَا عِنْدِي قَوْلُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ : " وَمَا مِنَّا " .´عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بدفالی شرک ہے “ ۱؎ ۔ ( ابن مسعود کہتے ہیں ) ہم میں سے کوئی ایسا نہیں ہے جس کے دل میں اس کا وہم و خیال نہ پیدا ہو ، لیکن اللہ تعالیٰ اس وہم و خیال کو توکل کی وجہ سے زائل کر دیتا ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ہم اسے صرف سلمہ بن کہیل کی روایت سے جانتے ہیں ، ۲- شعبہ نے بھی سلمہ سے اس حدیث کی روایت کی ہے ، امام ترمذی کہتے ہیں : ۳- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا : سلیمان بن حرب اس حدیث میں «وما منا ولكن الله يذهبه بالتوكل» کی بابت کہتے تھے کہ «وما منا» میرے نزدیک عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کا قول ہے ، ۴- اس باب میں ابوہریرہ ، حابس تمیمی ، عائشہ ، ابن عمر اور سعد رضی الله عنہم سے بھی روایتیں ہیں ۔
تشریح، فوائد و مسائل
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " بدفالی شرک ہے " ۱؎۔ (ابن مسعود کہتے ہیں) ہم میں سے کوئی ایسا نہیں ہے جس کے دل میں اس کا وہم و خیال نہ پیدا ہو، لیکن اللہ تعالیٰ اس وہم و خیال کو توکل کی وجہ سے زائل کر دیتا ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب السير/حدیث: 1614]
وضاحت:
1؎:
یہ اعتقاد رکھنا کہ طیرہ یعنی بدفالی نفع یا نقصان پہنچانے میں موثر ہے شرک ہے، اور اس عقیدے کے ساتھ اس پر عمل کرنا اللہ کے ساتھ شرک کرنا ہے، اس لیے اس طرح کا خیال آنے پر ’’لا إله إلا الله‘‘ پڑھنا بہتر ہوگا، کیوں کہ جسے بھی بدشگونی کا خیال آئے تو اسے پڑھنے اور اللہ پر توکل کرنے کی وجہ سے اللہ یہ خیال اس سے دور فرما دے گا۔
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار فرمایا: " بدشگونی شرک ہے اور ہم میں سے ہر ایک کو وہم ہو ہی جاتا ہے لیکن اللہ اس کو توکل سے دور فرما دیتا ہے۔" [سنن ابي داود/كتاب الكهانة والتطير /حدیث: 3910]
ذہن میں بے ساختہ اگر کسی بد شگونی کا کو ئی وہم آئے تو یہ معاف ہے چاہیئے کہ بندہ اس کے خلاف کرتے ہوئے اللہ عزوجل پر توکل کرے۔
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " بدشگونی شرک ہے ۱؎ اور ہم میں سے جسے بھی بدشگونی کا خیال آئے تو اللہ تعالیٰ پر توکل کی وجہ سے یہ خیال دور کر دے گا " ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3538]
فوائد ومسائل: اگر کسی موقع پر دل میں بدشگونی کا تصور پیدا ہوجائے۔
تو اس کا علاج اللہ پر توکل ہے یعنی یہ حقیقت ذہن میں لائی جائے کہ خیر وشر کا مالک اللہ ہے۔
یہ پرندے او دوسری مخلوقات کسی مصیبت کاباعث نہیں۔