حدیث نمبر: 1611
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ الْحَارِثِ بْنِ مَالِكِ بْنِ الْبَرْصَاءِ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ يَقُولُ : " لَا تُغْزَى هَذِهِ بَعْدَ الْيَوْمِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : وَفِي الْبَاب ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، وَسُلَيْمَانَ بْنِ صُرَدٍ ، وَمُطِيعٍ ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَهُوَ حَدِيثُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، فَلَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِهِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´حارث بن مالک بن برصاء رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` فتح مکہ کے دن میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” مکہ میں آج کے بعد قیامت تک ( کافروں سے ) جہاد نہیں کیا جائے گا “ ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ یعنی زکریا بن ابی زائدہ کی حدیث جو شعبی کے واسطہ سے آئی ہے ، ۲- ہم اس حدیث کو صرف ان ہی کی روایت سے جانتے ہیں ، ۳- اس باب میں ابن عباس ، سلیمان بن صرد اور مطیع رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔

وضاحت:
۱؎: یعنی مکہ اب دارالحرب اور کفار کا مسکن نہیں ہو گا کہ یہاں جہاد کی پھر ضرورت پیش آئے۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب السير عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 1611
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، الصحيحة (2427)
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 3280) (صحیح)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : مسند الحميدي: 582

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´فتح مکہ کے دن فرمان نبوی آج کے بعد مکہ میں جہاد نہیں کیا جائے گا کا بیان۔`
حارث بن مالک بن برصاء رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ فتح مکہ کے دن میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: مکہ میں آج کے بعد قیامت تک (کافروں سے) جہاد نہیں کیا جائے گا ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب السير/حدیث: 1611]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یعنی مکہ اب دار الحرب اور کفار کا مسکن نہیں ہوگا کہ یہاں جہاد کی پھر ضرورت پیش آئے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1611 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: مسند الحميدي / حدیث: 582 کی شرح از محمد ابراہیم بن بشیر ✍️
582- سیدنا حارث بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: فتح مکہ کے دن میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد فرماتے ہوۓ سنا ہے: آج کے دن کے بعد مکہ پر حملہ نہیں کیا جاسکے گا۔ سفیان کہتے ہیں۔ اس سے مراد یہ ہےٗ کفر کی بنیاد پر ایسا نہیں ہوگا۔ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:582]
فائدہ:
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تھوڑے وقت کے لیے مکہ میں لڑائی کی اجازت دی گئی تھی، اس کے بعد قیامت تک کے لیے منع کر دیا گیا۔
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 582 سے ماخوذ ہے۔