سنن ترمذي
كتاب السير عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: جہاد کے احکام و مسائل
باب مَا جَاءَ فِي تَرِكَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ باب: رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کے ترکہ کا بیان۔
حَدَّثَنَا بِذَلِكَ عَلِيُّ بْنُ عِيسَى، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ فَاطِمَةَ جَاءَتْ أَبَا بَكْرٍ، وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، تَسْأَلُ مِيرَاثَهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَا : سَمِعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنِّي لَا أُورَثُ " ، قَالَتْ : وَاللَّهِ لَا أُكَلِّمُكُمَا أَبَدًا ، فَمَاتَتْ وَلَا تُكَلِّمُهُمَا ، قَالَ عَلِيُّ بْنُ عِيسَى : مَعْنَى لَا أُكَلِّمُكُمَا تَعْنِي : فِي هَذَا الْمِيرَاثِ أَبَدًا أَنْتُمَا صَادِقَانِ ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .´ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` فاطمہ رضی الله عنہا ابوبکر اور عمر رضی الله عنہما کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی میراث سے اپنا حصہ طلب کرنے آئیں ، ان دونوں نے کہا : ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے : ” میرا کوئی وارث نہیں ہو گا “ ، فاطمہ رضی الله عنہ بولیں : اللہ کی قسم ! میں تم دونوں سے کبھی بات نہیں کروں گی ، چنانچہ وہ انتقال کر گئیں ، لیکن ان دونوں سے بات نہیں کی ۔ راوی علی بن عیسیٰ کہتے ہیں : «لا أكلمكما» کا مفہوم یہ ہے کہ میں اس میراث کے سلسلے میں کبھی بھی آپ دونوں سے بات نہیں کروں گی ، آپ دونوں سچے ہیں ۔ (
امام ترمذی کہتے ہیں ) یہ حدیث کئی سندوں سے ابوبکر رضی الله عنہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے ۔