سنن ترمذي
كتاب السير عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: جہاد کے احکام و مسائل
باب مَا جَاءَ فِي إِخْرَاجِ الْيَهُودِ وَالنَّصَارَى مِنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ باب: یہود و نصاریٰ کو جزیرہ عرب سے باہر نکالنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1607
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَا : أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ : أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لَأُخْرِجَنَّ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى مِنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ ، فَلَا أَتْرُكُ فِيهَا إِلَّا مُسْلِمًا " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عمر بن خطاب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” میں جزیرہ عرب سے یہود و نصاریٰ کو ضرور نکالوں گا اور اس میں صرف مسلمان کو باقی رکھوں گا “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 1606 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´یہود و نصاریٰ کو جزیرہ عرب سے باہر نکالنے کا بیان۔`
عمر بن خطاب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اگر میں زندہ رہا تو ان شاءاللہ جزیرہ عرب سے یہود و نصاریٰ کو نکال باہر کر دوں گا “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب السير/حدیث: 1606]
عمر بن خطاب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اگر میں زندہ رہا تو ان شاءاللہ جزیرہ عرب سے یہود و نصاریٰ کو نکال باہر کر دوں گا “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب السير/حدیث: 1606]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
جزیرہ عرب وہ حصہ ہے جسے بحر ہند، بحر ِ احمر، بحرشام ودجلہ اور فرات نے احاطہ کررکھا ہے، یا طول کے لحاظ سے عدن ابین کے درمیان سے لے کر اطراف شام تک کا علاقہ اور عرض کے اعتبار سے جدہ سے لے کر آبادی عراق کے اطراف تک کا علاقہ، اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نبی اکرمﷺ کی خواہش تھی کہ جزیرہ ٔعرب سے کافروں اور یہودو نصاری کو باہر نکال دیں، آپﷺ کی زندگی میں اس پر پوری طرح عمل نہ کیاجا سکا، لیکن عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے دور خلافت میں آپ ﷺ کی اس خواہش کو کہ عرب میں دودین نہ رہیں یہودیوں اور عیسائیوں کو جزیرہ عرب سے جلاوطن کردیا۔
وضاحت:
1؎:
جزیرہ عرب وہ حصہ ہے جسے بحر ہند، بحر ِ احمر، بحرشام ودجلہ اور فرات نے احاطہ کررکھا ہے، یا طول کے لحاظ سے عدن ابین کے درمیان سے لے کر اطراف شام تک کا علاقہ اور عرض کے اعتبار سے جدہ سے لے کر آبادی عراق کے اطراف تک کا علاقہ، اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نبی اکرمﷺ کی خواہش تھی کہ جزیرہ ٔعرب سے کافروں اور یہودو نصاری کو باہر نکال دیں، آپﷺ کی زندگی میں اس پر پوری طرح عمل نہ کیاجا سکا، لیکن عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے دور خلافت میں آپ ﷺ کی اس خواہش کو کہ عرب میں دودین نہ رہیں یہودیوں اور عیسائیوں کو جزیرہ عرب سے جلاوطن کردیا۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1606 سے ماخوذ ہے۔