سنن ترمذي
كتاب السير عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: جہاد کے احکام و مسائل
باب مَا جَاءَ فِي الْخُمُسِ باب: مال غنیمت میں اللہ و رسول کے حصے خمس نکالنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1599
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ الْمُهَلَّبِيُّ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِوَفْدِ عَبْدِ الْقَيْسِ : " آمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا خُمُسَ مَا غَنِمْتُمْ " ، قَالَ : وَفِي الْحَدِيثِ قِصَّةٌ ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وفد عبدالقیس سے فرمایا : ” میں تم لوگوں کو حکم دیتا ہوں کہ مال غنیمت سے خمس ( یعنی پانچواں حصہ ) ادا کرو ، امام ترمذی کہتے ہیں : اس حدیث میں ایک قصہ ہے ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
وضاحت:
۱؎: تفصیل کے لیے دیکھئیے صحیح بخاری وصحیح مسلم کتاب الایمان۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، نَحْوَهُ .ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے بھی` ابن عباس رضی الله عنہما سے اسی طرح کی حدیث مروی ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´مال غنیمت میں اللہ و رسول کے حصے خمس نکالنے کا بیان۔`
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وفد عبدالقیس سے فرمایا: " میں تم لوگوں کو حکم دیتا ہوں کہ مال غنیمت سے خمس (یعنی پانچواں حصہ) ادا کرو، [سنن ترمذي/كتاب السير/حدیث: 1599]
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وفد عبدالقیس سے فرمایا: " میں تم لوگوں کو حکم دیتا ہوں کہ مال غنیمت سے خمس (یعنی پانچواں حصہ) ادا کرو، [سنن ترمذي/كتاب السير/حدیث: 1599]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
تفصیل کے لیے دیکھئے صحیح بخاری و صحیح مسلم کتاب الایمان۔
وضاحت:
1؎:
تفصیل کے لیے دیکھئے صحیح بخاری و صحیح مسلم کتاب الایمان۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1599 سے ماخوذ ہے۔