حدیث نمبر: 1599
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ الْمُهَلَّبِيُّ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِوَفْدِ عَبْدِ الْقَيْسِ : " آمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا خُمُسَ مَا غَنِمْتُمْ " ، قَالَ : وَفِي الْحَدِيثِ قِصَّةٌ ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وفد عبدالقیس سے فرمایا : ” میں تم لوگوں کو حکم دیتا ہوں کہ مال غنیمت سے خمس ( یعنی پانچواں حصہ ) ادا کرو ، امام ترمذی کہتے ہیں : اس حدیث میں ایک قصہ ہے ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔

وضاحت:
۱؎: تفصیل کے لیے دیکھئیے صحیح بخاری وصحیح مسلم کتاب الایمان۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، نَحْوَهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´اس سند سے بھی` ابن عباس رضی الله عنہما سے اسی طرح کی حدیث مروی ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب السير عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 1599
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح مختصر البخاري (40) ، الإيمان لأبي عبيد (59 / 1)
تخریج حدیث «صحیح البخاری/الإیمان 40 (53) ، والعلم 25 (87) ، والمواقیت 2 (523) ، والزکاة 1 (1398) ، والمناقب 5 (3510) ، والمغازي 69 (4369) ، والأدب 98 (6176) ، وخبر الواحد 5 (7266) ، والتوحید 56 (7556) ، صحیح مسلم/الإیمان 6 (17) ، والأشربة 6 (1995) ، سنن ابی داود/ الأشربة 7 (3692) ، والسنة 15 (4677) ، سنن النسائی/الإیمان 25، (5034) ، والأشربہة (5564) ، و 48 (5708) ، ( تحفة الأشراف : 6524) ، و مسند احمد 1/128، 274، 291، 304، 334، 340، 352، 361) ، سنن الدارمی/الأشربة 14 (27157) ، ویأتي عندع المؤلف في الإیمان برقم 2611 (صحیح)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´مال غنیمت میں اللہ و رسول کے حصے خمس نکالنے کا بیان۔`
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وفد عبدالقیس سے فرمایا: " میں تم لوگوں کو حکم دیتا ہوں کہ مال غنیمت سے خمس (یعنی پانچواں حصہ) ادا کرو، [سنن ترمذي/كتاب السير/حدیث: 1599]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
تفصیل کے لیے دیکھئے صحیح بخاری و صحیح مسلم کتاب الایمان۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1599 سے ماخوذ ہے۔