سنن ترمذي
كتاب السير عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: جہاد کے احکام و مسائل
باب مَا جَاءَ فِي بَيْعَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی بیعت کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ : كُنَّا نُبَايِعُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ ، فَيَقُولُ لَنَا : " فِيمَا اسْتَطَعْتُمْ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ كِلَاهُمَا .´عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سمع و طاعت ( یعنی آپ کے حکم سننے اور آپ کی اطاعت کرنے ) پر بیعت کرتے تھے ، پھر آپ ہم سے فرماتے : ” جتنا تم سے ہو سکے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ۲- حدیث جابر اور حدیث سلمہ بن الاکوع رضی الله عنہما دونوں حدیثوں کا معنی صحیح ہے ، ( ان میں تعارض نہیں ہے ) بعض صحابہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے موت پر بیعت کی تھی ، ان لوگوں نے کہا تھا : ہم آپ کے سامنے لڑتے رہیں گے یہاں تک کہ قتل کر دیئے جائیں ، اور دوسرے لوگوں نے آپ سے بیعت کرتے ہوئے کہا تھا : ہم نہیں بھاگیں گے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
حاکم وقت سے سمع و طاعت پر بیعت کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اگر وہ ایسی بات کا حکم دے جو ہماری طبیعت یا ذاتی رائے کے خلاف ہو تو اپنی ذاتی طبیعت کے رجحان اور ذاتی رائے کو نظر انداز کر کے اپنی ہمت کے مطابق اس کی بات کو ماناجائے۔
اگر ایسا نہ کیا گیا تو قدم قدم پر اختلاف و انتشار ہو گا۔
جو حکومت کے لیے بہت نقصان دہ ہے۔
ہاں اگر اس کی بات شریعت کے خلاف ہو تو پھر اس کی بات ماننا ضروری نہیں کیونکہ شریعت کا حکم مقدم اور سب سے بالا ہے۔
‘‘ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ انسان کو کسی چیز کا التزام اور پابندی اپنی قدرت اور طاقت کے دائرہ میں رہتے ہوئے کرنا چاہیے اور کسی ایسی چیز کے الزام کو قبول نہیں کرنا چاہیے، جو اپنی قدرت اور وسعت سے باہر ہو۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سننے اور اطاعت کرنے کی بیعت کرتے تھے اور ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم تلقین کرتے تھے کہ ہم یہ بھی کہیں: جہاں تک ہمیں طاقت ہے (یعنی ہم اپنی پوری طاقت بھر آپ کی سمع و طاعت کرتے رہیں گے)۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 2940]
1۔
اسلام اور جہادی بعیت کے بعد شوریٰ کے ذریعے سے منتخب حکمران کی بعیت بیعت حکومت کہلاتی ہیں۔
اس بعیت سے دو مقاصد حاصل ہوتے ہیں۔
2۔
یہ بعیت اس بات کی علامت تھی۔
کہ لوگوں نے تجویز ہونے والےنام کو قبول کرلیا ہے۔
اس بعیت کے بعد خلافت کا انعقاد ہوجاتا تھا۔
3۔
تمام مسلمان شوریٰ کے ذریعے سے منتخب حکمران ان سے تعاون کریں گے۔
یہ ایک طرف کا عمرانی معاہدہ ہے۔
خلفائے راشدین نے ان الفاظ کا اضافہ کرایا۔
کہ سمع وطاقت ان کاموں میں ہوگی۔
جو اللہ اور اس کے رسول ﷺکے احکامات اور سابقہ خلفائے راشدین کے اقدامات کے مطابق ہوں گے۔
رسول اللہ ﷺ نے بعیت کے الفاظ میں انسانی استطاعت کے مطابق کے الفاظ شامل کرنے کی تلقین اس لئے فرمائی کہ بعیت کرنے والے خود کو ایسی صورت حال میں نہ پایئں جس کی انسان استطاعت ہی نہیں رکھتا۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سمع و طاعت (سننے اور حکم بجا لانے) پر بیعت کرتے تھے، پھر آپ فرماتے تھے: " جتنی تمہاری طاقت ہے " ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4192]
«. . . 294- وبه: قال: كنا إذا بايعنا رسول الله صلى الله عليه وسلم على السمع والطاعة، يقول لنا رسول الله صلى الله عليه وسلم: "فيما استطعتم ." . . .»
". . . اور اسی سند کے ساتھ (سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے) روایت ہے کہ جب ہم سننے اور اطاعت کرنے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کرتے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں فرماتے: "جتنی تمہاری استطاعت ہو . . ." [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 16]
تفقه
➊ ہر انسان پر اس کی استطاعت کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت فرض ہے۔
➋ اسلام میں دو ہی بیعتیں ہیں: اول: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت
دوم: خلیفہ اور حکمران کی بیعت
ان کے علاوہ کسی تیسری بیعت کا اسلام میں کوئی ثبوت نہیں ہے، چاہے یہ بیعت کسی نام نہاد کاغذی پارٹی کی ہو یا کسی پیر کی۔
➌ سیدنا ابوغادیہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی تھی۔ شاگرد نے پوچھا: آپ نے اپنے دائیں ہاتھ کے ساتھ بیعت کی تھی؟ انہوں نے فرمایا: جی ہاں۔ [مسند أحمد 5/68 ح20666 وسنده حسن]
◈ سیدنا واثلہ بن الاسقع رضی اللہ عنہ نے دائیں ہاتھ کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی تھی، اس دائیں ہاتھ کو ابوالاسود الجرشی رحمہ اللہ نے لے کر اپنی آنکھوں اور چہرے پر پھیرا۔ دیکھئے [مسند أحمد 3/491 ح16016، وسنده صحيح]
معلوم ہوا کہ ایک ہاتھ سے مصافحہ افضل ہے۔ اسی طرح بعض آثار کو مدِ نظر رکھتے ہوئے عرض ہے کہ دو ہاتھوں سے مصافحہ بھی جائز ہے۔