سنن ترمذي
كتاب الصلاة— کتاب: نماز کے احکام و مسائل
باب مَا جَاءَ فِي تَعْجِيلِ الْعَصْرِ باب: عصر جلدی پڑھنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ : " صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ فِي حُجْرَتِهَا وَلَمْ يَظْهَرِ الْفَيْءُ مِنْ حُجْرَتِهَا " قَالَ : وَفِي الْبَاب عَنْ أَنَسٍ , وَأَبِي أَرْوَى , وَجَابِرٍ , وَرَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، قَالَ : وَيُرْوَى عَنْ رَافِعٍ أَيْضًا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي تَأْخِيرِ الْعَصْرِ وَلَا يَصِحُّ . قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ عَائِشَةَ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَهُوَ الَّذِي اخْتَارَهُ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مِنْهُمْ عُمَرُ , وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ , وَعَائِشَةُ , وَأَنَسٌ وَغَيْرُ وَاحِدٍ مِنَ التَّابِعِينَ : تَعْجِيلَ صَلَاةِ الْعَصْرِ وَكَرِهُوا تَأْخِيرَهَا ، وَبِهِ يَقُولُ عَبْدُ اللَّهِ ابْنُ الْمُبَارَكِ , وَالشَّافِعِيُّ , وَأَحْمَدُ , وَإِسْحَاق .´ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے عصر پڑھی اس حال میں کہ دھوپ ان کے کمرے میں تھی ، ان کے کمرے کے اندر کا سایہ پورب والی دیوار پر نہیں چڑھا تھا ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- عائشہ رضی الله عنہا کی حدیث حسن صحیح ہے ، ۲- اس باب میں انس ، ابوارویٰ ، جابر اور رافع بن خدیج رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ، ( اور رافع رضی الله عنہ سے عصر کو مؤخر کرنے کی بھی روایت کی جاتی ہے جسے انہوں نے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے روایت کیا ہے ۔ لیکن یہ صحیح نہیں ہے ، ۳- صحابہ کرام میں سے بعض اہل علم نے جن میں عمر ، عبداللہ بن مسعود ، عائشہ اور انس رضی الله عنہم بھی شامل ہیں اور تابعین میں سے کئی لوگوں نے اسی کو اختیار کیا ہے کہ عصر جلدی پڑھی جائے اور اس میں تاخیر کرنے کو ان لوگوں نے مکروہ سمجھا ہے اسی کے قائل عبداللہ بن مبارک ، شافعی ، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی ہیں ۔
تشریح، فوائد و مسائل
یہ حدیث کتاب المواقیت میں بھی گزر چکی ہے۔
(1)
عصر کے اول وقت (ایک مثل سایہ)
کی تعیین کے لیے امام بخاری ؒ کو اپنی شرائط کے مطابق کوئی حدیث نہ مل سکی، اس لیے انھوں نے ایسی احادیث ذکر کی ہیں جن سے اول وقت کا استنباط ہوسکے، اگرچہ امام مسلم ؒ متعدد ایسی احادیث لائے ہیں جو واضح طور پر مقصود پر دلالت کرتی ہیں۔
مذکورہ روایت سے تعجیل عصر کا استدلال امام نووی ؒ نے بایں الفاظ نقل کیا ہے: سیدہ عائشہ ؓ کے حجرے کا صحن انتہائی چھوٹا تھا اور اس کی دیواریں اس قدر نیچی تھیں کہ ان کی اونچائی صحن کی پیمائش سے کچھ کم تھی، اس لیے جب دیوار کا سایہ ایک مثل ہوگا تو صحن کی دھوپ بالکل کنارے پر پہنچ جائے گی۔
(شرح النووي، حدیث: 5/152،153) (2)
اس استدلال کی وضاحت یوں ہے کہ حجرے سے مراد صحن کی چار دیواری ہے، صحن کی پیمائش، چار دیواری سے کچھ زائد تھی، اس لیے ایک مثل کی دھوپ صحن میں رہے گی، لیکن دوسری مثل کے شروع ہوتے ہی دیوار پر چڑھنا شروع ہوجائے گی۔
چونکہ عائشہ ؓ کا فرمان ہے کہ نماز سے فراغت کے وقت دھوپ میرے صحن میں باقی ہوتی تھی، گویا عصر کی نماز مثل ثانی کے شروع ہوتے ہی پڑھ لی جاتی تھی۔
(فتح الباري: 35/2)
حضرت عائشہ ؓ کا حجرہ جس میں رسول اللہ ﷺ، حضرت ابو بکر صدیق ؓ اور حضرت عمر ؓ دفن ہیں، مسجد نبوی کے مشرقی جانب واقع تھا جبکہ قبلہ جنوب کی جانب تھا اور اس طرف حضرت حفصہ ؓ اور حضرت میمونہ ؓ کے حجرات تھے۔
مغرب کی طرف کوئی حجرہ نہیں تھا۔
مشرقی جانب جنوبی گوشے میں حضرت سودہ، اس کے آگے شمال کی طرف حضرت عائشہ، پھر حضرت فاطمہ اور آخر میں حضرت صفیہ ؓ کا حجرہ تھا۔
جبکہ شمالی جانب حضرت زینب بنت خزیمہ ؓ، ان کی وفات کے بعد وہی حجرہ حضرت ام سلمہ ؓ کی تحویل میں آگیا۔
مشرقی جانب ام حبیبہ ؓ، حضرت جویریہ اور حضرت زینب بنت حجش ؓ کے حجرات تھے۔
حضرت عائشہ ؓ کے حجرے کی اونچائی زیادہ سے زیادہ آٹھ فٹ تھی، کیونکہ حضرت حسن بصری ؒ کا بیان ہے کہ وہ ہاتھ اٹھاتے تو چھت سے لگ جاتا تھا۔
(طبقات ابن سعد: 117/8)
قَبْلَ أَنْ تَظْهَر: دھوپ ابھی کمرہ میں موجود تھی، اسی مفہوم کو لَمْ يَفِئِ الْفَيْءُ سے ادا کیا گیا ہے کہ دھوپ کی جگہ سایہ نے نہیں لی تھی، دھوپ اٹھتی ہے تو اس کی جگہ سایہ پھیلتا ہے، اس لیے دونوں الفاظ میں تضاد نہیں ہے اور لَمْ يَظْهَرِ الْفَيْءُ کا معنی بھی یہی ہے کہ اس دھوپ کی جگہ سایہ ظاہر نہیں ہوا تھا، اس کی جگہ سایہ نہیں پھیلا تھا، اس طرح آپﷺ عصر کی نماز وقت ہوتے ہی پڑھ لیتے تھے۔
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر ایسے وقت میں ادا فرماتے تھے کہ دھوپ میرے حجرے میں ہوتی، ابھی دیواروں پر چڑھی نہ ہوتی۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة /حدیث: 407]
”حجرہ“ عربی زبان میں گھر کے ساتھ گھرے ہوئے آنگن کو بھی کہتے ہیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے صحن کی دیواریں چھوٹی ہی تھیں اس لیے دھوپ ابھی آنگن ہی میں ہوتی تھی۔ مشرقی دیوارپر چڑھتی نہ تھی کہ عصر کا وقت ہو جاتا تھا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ لیتے تھے۔ معلوم ہوا کہ آپ اوّل وقت میں عصر پڑھتے تھے۔
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر پڑھی، اور دھوپ ان کے حجرے میں تھی، اور سایہ ان کے حجرے سے (دیوار پر) نہیں چڑھا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 506]
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز پڑھی اور دھوپ میرے کمرے میں باقی رہی، ابھی تک سایہ دیواروں پر چڑھا نہیں تھا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصلاة/حدیث: 683]
اس سے معلوم ہو کہ نبی ﷺ نے عصر کی نماز جلدی ادا فرمائی کیونکہ اگر دیر کی جائے تو سایہ پورے صحن میں پھیل جائے گا اور دیوار پر چڑھنا شروع ہو جائے گا۔
عصر کا وقت ایک مثل پر شروع ہو جاتا ہے یعنی جب آدمی کا سایہ اس کے قد کے برابر ہو جائے تو نماز عصر پڑھی جاسکتی ہے اور یہ ایک مثل سایہ، زوال کے وقت باقی رہنے والے سائے سے زائد ہوتا ہے .......
یاد رہے ظہر کا وقت ختم ہوتے ہی عصر کا وقت شروع ہو جاتا ہے، چنانچہ فرمانِ مصطفی علیہ السّلام ہے: ”وقتُ الظُّهْرِ مَا لَمْ تَحْضُرِ الْعَصْرُ“ ”ظہر کا وقت باقی رہے گا جب تک نماز عصر نہ آجائے۔“ (مسلم: 173/ 612) نیز اختتام ظہر کے متعلق فرمایا: ”وَكَانَ ظِلُّ الرَّجُل كَطوله“ ”اور آدمی کا سایہ اس کے قد کے برابر ہو جائے۔“ (مسلم: 173/ 612)
ایک روایت میں ہے: ”وَصَلَّى بِيَ الْعَصْرَ حِينَ كَانَ ظِلُّهُ مِثْلَهُ“ ”اور جبریل علیہ السّلام نے مجھے نماز عصر اس وقت پڑھائی جب سایہ ایک مثل ہو گیا۔“ (ابو داؤد: 393، ترمذی: 419 و غیرہ) یہی وجہ ہے کہ امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے تمام شاگردوں نے یہی موقف اختیار کیا، خود امام صاحب سے بھی ایک روایت میں یہی منقول ہے، مولانا رشید احمد گنگوہی حنفی رحمہ اللہ تعالی اور مولانا عبد الحئی لکھنوی حنفی رحمہ اللہ تعالی نے حاشیہ موطا امام محمد میں اس موقف کی بھر پور تائید کی ہے۔ (مرعاة المفاتيح: 2/289)
اس حدیث مبارکہ سے یہ بھی ثابت ہوا کہ خبر واحد حجت ہے، اسی طرح علماء کا حکمرانوں کی اصلاح کے لیے ان کے پاس جانا درست ہے، بصورت دیگر حکمرانوں کی صحبت سے بچنا ہی بہتر ہے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیھم و تابعین رحمھم اللہ تعالی کا دور بہت سنہری تھا، وہ فریضہ امر بالمعروف ونہی عن المنکر کو بروقت ادا کرتے تھے اور اس میں غفلت و کوتاہی سے کام نہ لیتے تھے، سنت نبویہ کی ذرہ بھر مخالفت بھی ان کو گوارا نہ تھی، وہ نماز کی ادائیگی میں تھوڑی سی تاخیر پر بھی گرفت کرتے اور حاکموں کے درباروں میں بیباکی سے اظہار حق کرتے تھے، وہ یہ باور کراتے تھے کہ اوقات نماز کا معاملہ بہت عظیم ہے جس کی خاطر اللہ نے سید الملائکہ جبریل علیہ السّلام کو نازل فرمایا اور پریکٹیکل کے ذریعے رسول اللہ ﷺ کو اوقات نماز بتائے ...
حدیث مذکور سے حضرت عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ تعالی کی فضیلت اور احتیاط بھی عیاں ہوئی کہ باہمی اختلاف کے حل کے لیے فوراً سنت مصطفی ﷺ کی طرف رجوع کیا اور یہی حکم الہی ہے (سورۂ نساء 59:4) ...
ہر امتی کو چاہیے کہ رسول اللہ ﷺ کی طرف منسوب صرف اسی قول و فعل کو قبول کرے جو قابل حجت سند سے ثابت ہو، کیونکہ بہت سے لوگ مختلف مقاصد کی خاطر جھوٹی روایات گھڑ کر اُن پر حدیث کا لیبل لگا لیتے ہیں، لہذا حدیث کے معاملے میں عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ تعالی کی طرح ضرور تحقیق کر لینا چاہیے۔
نیز معلوم ہوا کہ مفضول یعنی کم رتبے والے کے پیچھے افضل شخصیت کی نماز ہو جاتی ہے جیسا کہ جبریل علیہ السّلام کے پیچھے سید کائنات ﷺ نے نماز ادا فرمائی اور ایسے ہی نبی کریم ﷺ کا ایک دفعہ سید نا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ تعالی عنہ کے پیچھے نماز پڑھنا ثابت ہے۔ (صحيح مسلم، كتاب الطهارة، باب المسح على الخفين: 633)
اس حدیث مبارکہ سے اصل مقصود یہ سمجھانا ہے کہ نمازِ عصر کو جلدی ادا کر لینا چاہیے، یہ بات مشہور بھی ہے اور ہر حاجی اس کا مشاہدہ بھی کرتا ہے کہ اُمہات المومنین کے حجرے چھوٹے چھوٹے سے تھے، اُن کا اندرونی صحن وسیع نہیں تھا اور یہ حقیقت ہے کہ ایسے مکانات کی دیواریں خواہ چھوٹی بھی ہوں، سورج کی دھوپ جلد ہی ان کے صحن سے ختم ہو جاتی ہے اور دیواروں پر چڑھ جاتی ہے۔
عصر کا وقت ایک مثل پر شروع ہو جاتا ہے یعنی جب آدمی کا سایہ اس کے قد کے برابر ہو جائے تو نمازِ عصر پڑھی جا سکتی ہے اور یہ ایک مثل سایہ، زوال کے وقت باقی رہنے والے سائے سے زائد ہوتا ہے۔۔
یاد رہے ظہر کا وقت ختم ہوتے ہی عصر کا وقت شروع ہو جاتا ہے، چنانچہ فرمانِ مصطفی علیہ السلام ہے: «وقت الظهْرِ مَالَمْ تَحْضُرِ العَصْرُ» ”ظهر کا وقت باقی رہے گا جب تک نماز عصر نہ آ جائے۔“ [مسلم: 173، 612]
نیز اختتام ظہر کے متعلق فرمایا: «وَكَانَ ظِلُّ الرَّجُلِ كَطُولِه» ”اور آدمی کا سایہ اس کے قد کے برابر ہو جائے۔“ [مسلم: 173، 612]
ایک روایت میں ہے: «وَصَلَّى بِيَ الْعَصْرَ حِيْنَ كَانَ ظله مِثْلَه» ”اور جبریل علیہ السلام نے مجھے نماز عصر اس وقت پڑھائی جب سایہ ایک مثل ہو گیا۔“ [ابو داؤد: 393، ترمذي: 149 وغيره]
یہی وجہ ہے کہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے تمام شاگردوں نے یہی موقف اختیار کیا، خود امام صاحب سے بھی ایک روایت میں یہی منقول ہے، مولانا رشید احمد گنگوہی حنفی رحمہ اللہ اور مولانا عبد الحئی لکھنوی حنفی رحمہ اللہ نے نے حاشیہ موطا امام محمد میں اس موقف کی بھر پور تائید کی ہے۔ [مرعاة المفاتيح: 289/2]
اس حدیث مبارکہ سے یہ بھی ثابت ہوا کہ خبر واحد حجت ہے، اسی طرح علماء کا حکمرانوں کی اصلاح کے لیے ان کے پاس جانا درست ہے، بصورتِ دیگر حکمرانوں کی صحبت سے بچنا ہی بہتر ہے۔ صحابہ رضی اللہ عنہم و تابعین رحمہ اللہ کا دور بہت سنہری تھا، وہ فریضہ «امر بالمعروف و نهي عن المنكر» کو بروقت ادا کرتے تھے اور اس میں غفلت و کوتاہی سے کام نہ لیتے تھے، سنت نبویہ کی ذرہ بھر مخالفت بھی ان کو گوارا نہ تھی، وہ نماز کی ادائیگی میں تھوڑی سی تاخیر پر بھی گرفت کرتے اور حاکموں کے درباروں میں بیباکی سے اظہارِ حق کرتے تھے، وہ یہ باور کراتے تھے کہ اوقاتِ نماز کا معاملہ بہت عظیم ہے جس کی خاطر اللہ نے سید الملائکہ جبریل علیہ السلام کو نازل فرمایا اور پریکٹیکل کے ذریعے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اوقات نماز بتائے۔۔
حدیث مذکور سے حضرت عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ کی فضیلت اور احتیاط بھی عیاں ہوئی کہ باہمی اختلاف کے حل کے لیے فوراََ سنت مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف رجوع کیا اور یہی حکم الہی ہے۔ [سورۃ نساء 59: 4]
ہر امتی کو چاہیے کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب صرف اُسی قول و فعل کو قبول کرے جو قابل حجت سند سے ثابت ہو، کیونکہ بہت سے لوگ مختلف مقاصد کی خاطر جھوٹی روایات گھڑ کر اُن پر حدیث کا لیبل لگا لیتے ہیں، لہذا حدیث کے معاملے میں عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ کی طرح ضرور تحقیق کر لینا چاہیے.
نیز معلوم ہوا کہ مفضول یعنی کم رتبے والے کے پیچھے افضل شخصیت کی نماز ہو جاتی ہے جیسا کہ جبریل علیہ السلام کے پیچھے سید کا ئنات صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا فرمائی اور ایسے ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک دفعہ سیدنا عبد الرحمن بن
عوف رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھنا ثابت ہے۔ [صحيح مسلم، كتاب الطهارة، باب المسح على الخفين: 633]