حدیث نمبر: 1587
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ بَجَالَةَ، أَنَّ عُمَرَ كَانَ لَا يَأْخُذُ الْجِزْيَةَ مِنْ الْمَجُوسِ ، حَتَّى أَخْبَرَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَخَذَ الْجِزْيَةَ مِنْ مَجُوسِ هَجَرَ " ، وَفِي الْحَدِيثِ كَلَامٌ أَكْثَرُ مِنْ هَذَا ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´بجالہ بن عبدہ سے روایت ہے کہ` عمر رضی الله عنہ مجوس سے جزیہ نہیں لیتے تھے یہاں تک کہ عبدالرحمٰن بن عوف رضی الله عنہ نے ان کو خبر دی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مقام ہجر کے مجوسیوں سے جزیہ لیا ، اس حدیث میں اس سے زیادہ تفصیل ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب السير عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 1587
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح انظر ما قبله (1586)
تخریج حدیث «انظر ما قبلہ (صحیح)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 1586

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 1586 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´مجوس سے جزیہ لینے کا بیان۔`
بجالہ بن عبدہ کہتے ہیں کہ میں مقام مناذر میں جزء بن معاویہ کا منشی تھا، ہمارے پاس عمر رضی الله عنہ کا خط آیا کہ تمہاری طرف جو مجوس ہوں ان کو دیکھو اور ان سے جزیہ لو کیونکہ عبدالرحمٰن بن عوف رضی الله عنہ نے مجھے خبر دی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقام ہجر کے مجوسیوں سے جزیہ لیا تھا ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب السير/حدیث: 1586]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مجوسی مشرکوں سے جزیہ وصول کیا جائے گا۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1586 سے ماخوذ ہے۔