سنن ترمذي
كتاب السير عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: جہاد کے احکام و مسائل
باب مَا جَاءَ فِي النُّزُولِ عَلَى الْحُكْمِ باب: دشمن کی مسلمان کے فیصلہ پر رضا مندی کا بیان۔
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَطِيَّةَ الْقُرَظِيِّ، قَالَ : " عُرِضْنَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ قُرَيْظَةَ ، فَكَانَ مَنْ أَنْبَتَ قُتِلَ ، وَمَنْ لَمْ يُنْبِتْ خُلِّيَ سَبِيلُهُ ، فَكُنْتُ مِمَّنْ لَمْ يُنْبِتْ فَخُلِّيَ سَبِيلِي " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ : أَنَّهُمْ يَرَوْنَ الْإِنْبَاتَ بُلُوغًا ، إِنْ لَمْ يُعْرَفْ احْتِلَامُهُ وَلَا سِنُّهُ ، وَهُوَ قَوْلُ أَحْمَدَ ، وَإِسْحَاق .´عطیہ قرظی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` ہمیں قریظہ کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیا ، تو جس کے ( زیر ناف کے ) بال نکلے ہوئے تھے اسے قتل کر دیا جاتا اور جس کے نہیں نکلے ہوتے اسے چھوڑ دیا جاتا ، چنانچہ میں ان لوگوں میں سے تھا جن کے بال نہیں نکلے تھے ، لہٰذا مجھے چھوڑ دیا گیا ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ۲- بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے ، اگر بلوغت اور عمر معلوم نہ ہو تو وہ لوگ ( زیر ناف کے ) بال نکلنے ہی کو بلوغت سمجھتے تھے ، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے ۔