حدیث نمبر: 1576
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الْكِنْدِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ ثُوَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَّ كِسْرَى أَهْدَى لَهُ فَقَبِلَ ، وَأَنَّ الْمُلُوكَ أَهْدَوْا إِلَيْهِ فَقَبِلَ مِنْهُمْ " ، وَفِي الْبَاب ، عَنْ جَابِرٍ ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ، وَثُوَيْرُ بْنُ أَبِي فَاخِتَةَ اسْمُهُ سَعِيدُ بْنُ عِلَاقَةَ ، وَثُوَيْرٌ يُكْنَى أَبَا جَهْمٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´علی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے فارس کے بادشاہ کسریٰ نے آپ کے لیے تحفہ بھیجا تو آپ نے اسے قبول کر لیا ، ( کچھ ) اور بادشاہوں نے آپ کے لیے تحفہ بھیجا تو آپ نے ان کے تحفے قبول کئے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ، ۲- راوی ثویر ابوفاختہ کے بیٹے ہیں ، ابوفاختہ کا نام سعید بن علاقہ ہے اور ثویر کی کنیت ابوجہم ہے ، ۳- اس باب میں جابر سے بھی روایت ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب السير عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 1576
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف جدا التعليق على الروضة الندية (2 / 163) , شیخ زبیر علی زئی: (1576) إسناده ضعيف, ثوير: ضعيف (تقدم: 501)
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 10109) (ضعیف جدا) (سند میں ’’ ثویر بن علاقہ ابی فاختہ ‘‘ سخت ضعیف اور رافضی ہے)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´مشرکوں کے تحفے قبول کرنے کا بیان۔`
علی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے فارس کے بادشاہ کسریٰ نے آپ کے لیے تحفہ بھیجا تو آپ نے اسے قبول کر لیا، (کچھ) اور بادشاہوں نے آپ کے لیے تحفہ بھیجا تو آپ نے ان کے تحفے قبول کئے۔ [سنن ترمذي/كتاب السير/حدیث: 1576]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں ’’ثویر بن علاقہ ابی فاختہ ‘‘ سخت ضعیف اور رافضی ہے)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1576 سے ماخوذ ہے۔