سنن ترمذي
كتاب السير عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: جہاد کے احکام و مسائل
باب مَا جَاءَ فِي الْغُلُولِ باب: مال غنیمت میں خیانت کرنے کے بارے میں وارد وعید کا بیان۔
حدیث نمبر: 1574
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الخلال، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا سِمَاكٌ أَبُو زُمَيْلٍ الْحَنَفِيُّ، قَال : سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ : حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، قَالَ : قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ فُلَانًا قَدِ اسْتُشْهِدَ ، قَالَ : " كَلَّا ، قَدْ رَأَيْتُهُ فِي النَّارِ بِعَبَاءَةٍ قَدْ غَلَّهَا ، قَالَ : قُمْ يَا عُمَرُ ، فَنَادِ : إِنَّهُ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا الْمُؤْمِنُونَ " ، ثَلَاثًا ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ .ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عمر بن خطاب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` عرض کیا گیا : اللہ کے رسول ! فلاں آدمی شہید ہو گیا ، آپ نے فرمایا : ” ہرگز نہیں ، میں نے اس عباء ( کپڑے ) کی وجہ سے اسے جہنم میں دیکھا ہے جو اس نے مال غنیمت سے چرایا تھا “ ، آپ نے فرمایا : ” عمر ! کھڑے ہو جاؤ اور تین مرتبہ اعلان کر دو ، جنت میں مومن ہی داخل ہوں گے “ ( اور مومن آدمی خیانت نہیں کیا کرتے ) ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 114 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے عمر بن خطاب ؓ سے روایت سنائی کہ جب خیبر کا دن تھا تو نبی اکرم ﷺ کے کچھ ساتھی آئے اور کہنے لگے: فلاں شہید اور فلاں شہید ہوا، یہاں تک کہ ایک آدمی کا تذکرہ ہوا۔ تو کہنے لگے: وہ شہید ہے۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’یہ ہر گز نہیں، میں نے اسے ایک دھاری دار چادر یا عباء کی خیانت کرنے کی بناء پر آگ میں دیکھا ہے۔‘‘ پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’اے خطاب کے بیٹے! لوگوں میں جا کر اعلان کر دوکہ جنّت میں صرف مومن... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:309]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
: (1)
غُلُوْلٌ: غنیمت میں خیانت کرنا، اور بعض حضرات کے بقول ہر چیز میں خیانت غلول ہے۔
(2)
بُرْدَةٌ: دھاری دار چادر یا بڑی چادر اور بقول بعض منقش سیاہ لوئی۔
(3)
عَبَاءَةٌ: کپڑوں کے اوپر اوڑھنے والی بڑی چادر۔
: (1)
غُلُوْلٌ: غنیمت میں خیانت کرنا، اور بعض حضرات کے بقول ہر چیز میں خیانت غلول ہے۔
(2)
بُرْدَةٌ: دھاری دار چادر یا بڑی چادر اور بقول بعض منقش سیاہ لوئی۔
(3)
عَبَاءَةٌ: کپڑوں کے اوپر اوڑھنے والی بڑی چادر۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 114 سے ماخوذ ہے۔