سنن ترمذي
كتاب الصلاة— کتاب: نماز کے احکام و مسائل
باب مَا جَاءَ فِي تَأْخِيرِ الظُّهْرِ فِي شِدَّةِ الْحَرِّ باب: سخت گرمی میں ظہر دیر سے پڑھنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ , وَأَبِى سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ فَأَبْرِدُوا عَنِ الصَّلَاةِ ، فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ " . قَالَ : وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي سَعِيدٍ , وَأَبِي ذَرٍّ , وَابْنِ عُمَرَ , وَالْمُغِيرَةِ , وَالْقَاسِمِ بْنِ صَفْوَانَ ، عَنْ أَبِيهِ وَأَبِي مُوسَى , وَابْنِ عَبَّاسٍ , وَأَنَسٍ ، قَالَ : وَرُوِيَ عَنْ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا وَلَا يَصِحُّ . قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَقَدِ اخْتَارَ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ تَأْخِيرَ صَلَاةِ الظُّهْرِ فِي شِدَّةِ الْحَرِّ ، وَهُوَ قَوْلُ ابْنِ الْمُبَارَكِ , وَأَحْمَدَ , وَإِسْحَاق ، قَالَ الشَّافِعِيُّ : إِنَّمَا الْإِبْرَادُ بِصَلَاةِ الظُّهْرِ إِذَا كَانَ مَسْجِدًا يَنْتَابُ أَهْلُهُ مِنَ الْبُعْدِ ، فَأَمَّا الْمُصَلِّي وَحْدَهُ وَالَّذِي يُصَلِّي فِي مَسْجِدِ قَوْمِهِ ، فَالَّذِي أُحِبُّ لَهُ أَنْ لَا يُؤَخِّرَ الصَّلَاةَ فِي شِدَّةِ الْحَرِّ . قَالَ أَبُو عِيسَى : وَمَعْنَى مَنْ ذَهَبَ إِلَى تَأْخِيرِ الظُّهْرِ فِي شِدَّةِ الْحَرِّ هُوَ أَوْلَى وَأَشْبَهُ بِالِاتِّبَاعِ ، وَأَمَّا مَا ذَهَبَ إِلَيْهِ الشَّافِعِيُّ ، أَنَّ الرُّخْصَةَ لِمَنْ يَنْتَابُ مِنَ الْبُعْدِ وَالْمَشَقَّةِ عَلَى النَّاسِ ، فَإِنَّ فِي حَدِيثِ أَبِي ذَرٍّ مَا يَدُلُّ عَلَى خِلَافِ مَا قَالَ الشَّافِعِيُّ , قَالَ أَبُو ذَرٍّ : كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ ، فَأَذَّنَ بِلَالٌ بِصَلَاةِ الظُّهْرِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا بِلَالُ أَبْرِدْ " , ثُمَّ أَبْرِدْ ، فَلَوْ كَانَ الْأَمْرُ عَلَى مَا ذَهَبَ إِلَيْهِ الشَّافِعِيُّ لَمْ يَكُنْ لِلْإِبْرَادِ فِي ذَلِكَ الْوَقْتِ مَعْنًى لِاجْتِمَاعِهِمْ فِي السَّفَرِ ، وَكَانُوا لَا يَحْتَاجُونَ أَنْ يَنْتَابُوا مِنَ الْبُعْدِ .´ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب گرمی سخت ہو تو نماز ٹھنڈا ہونے پر پڑھو ۱؎ کیونکہ گرمی کی تیزی جہنم کی بھاپ سے ہے “ ۲؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- ابوہریرہ کی حدیث حسن صحیح ہے ، ۲- اس باب میں ابوسعید ، ابوذر ، ابن عمر ، مغیرہ ، اور قاسم بن صفوان کے باپ ابوموسیٰ ، ابن عباس اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ، ۳- اس سلسلے میں عمر رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے جسے انہوں نے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے روایت کی ہے ، لیکن یہ صحیح نہیں ، ۴- اہل علم میں کچھ لوگوں نے سخت گرمی میں ظہر تاخیر سے پڑھنے کو پسند کیا ہے ۔ یہی ابن مبارک ، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے ۔ شافعی کہتے ہیں : ظہر ٹھنڈا کر کے پڑھنے کی بات اس وقت کی ہے جب مسجد والے دور سے آتے ہوں ، رہا اکیلے نماز پڑھنے والا اور وہ شخص جو اپنے ہی لوگوں کی مسجد میں نماز پڑھتا ہو تو میں اس کے لیے یہی پسند کرتا ہوں کہ وہ سخت گرمی میں بھی نماز کو دیر سے نہ پڑھے ، ۵- جو لوگ گرمی کی شدت میں ظہر کو دیر سے پڑھنے کی طرف گئے ہیں ان کا مذہب زیادہ بہتر اور اتباع کے زیادہ لائق ہے ، رہی وہ بات جس کی طرف شافعی کا رجحان ہے کہ یہ رخصت اس کے لیے ہے جو دور سے آتا ہوتا کہ لوگوں کو پریشانی نہ ہو تو ابوذر رضی الله عنہ کی حدیث میں کچھ ایسی باتیں ہیں جو اس چیز پر دلالت کرتی ہیں جو امام شافعی کے قول کے خلاف ہیں ۔ ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں : ہم لوگ ایک سفر میں نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ تھے ، بلال رضی اللہ عنہ نے نماز ظہر کے لیے اذان دی ، تو نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا : ” بلال ! ٹھنڈا ہو جانے دو ، ٹھنڈا ہو جانے دو “ ( یہ حدیث آگے آ رہی ہے ) ، اب اگر بات ایسی ہوتی جس کی طرف شافعی گئے ہیں ، تو اس وقت ٹھنڈا کرنے کا کوئی مطلب نہ ہوتا ، اس لیے کہ سفر میں سب لوگ اکٹھا تھے ، انہیں دور سے آنے کی ضرورت نہ تھی ۔
۲؎: اسے حقیقی اور ظاہری معنی پر محمول کرنا زیادہ صحیح ہے کیونکہ صحیحین کی روایت میں ہے کہ جہنم کی آگ نے رب عزوجل سے شکایت کی کہ میرے بعض اجزاء گرمی کی شدت اور گھٹن سے بعض کو کھا گئے ہیں تو رب عزوجل نے اسے دو سانس لینے کی اجازت دی ایک جاڑے میں اور ایک گرمی میں، جاڑے میں سانس اندر کی طرف لیتی ہے اور گرمی میں باہر نکالتی ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ” جب گرمی سخت ہو تو نماز ٹھنڈا ہونے پر پڑھو ۱؎ کیونکہ گرمی کی تیزی جہنم کی بھاپ سے ہے “ ۲؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 157]
1؎:
یعنی کچھ انتظار کر لو ٹھنڈا ہو جائے تب پڑھو، اس حدیث سے معلوم ہوا کہ موسم گرما میں ظہر قدرے تاخیر کرکے پڑھنی چاہئے اس تاخیر کی حد کے بارے میں ابو داود اور نسائی میں ایک روایت آئی ہے کہ رسول اللہ ﷺ موسم گرما میں ظہر میں اتنی تاخیر کرتے کہ سایہ تین قدم سے لے کر پانچ قدم تک ہو جاتا، مگر علامہ خطابی نے کہا ہے کہ یہ قاعدہ کلیہ نہیں ہے بلکہ طول البلد اور عرض البلد کے اعتبار سے اس کا حساب بھی مختلف ہو گا، بہر حال موسم گرما میں نمازِ ظہر قدرے تاخیر سے پڑھنی مستحب ہے، یہی جمہور کی رائے ہے۔
2؎:
اسے حقیقی اور ظاہری معنی پر محمول کرنا زیادہ صحیح ہے کیونکہ صحیحین کی روایت میں ہے کہ جہنم کی آگ نے رب عزوجل سے شکایت کی کہ میرے بعض اجزاء گرمی کی شدّت اور گھٹن سے بعض کو کھا گئے ہیں تو رب عزوجل نے اسے دو سانس لینے کی اجازت دی ایک جاڑے میں اور ایک گرمی میں، جاڑے میں سانس اندر کی طرف لیتی ہے اور گرمی میں باہر نکالتی ہے۔
فَيْحِ جَهَنَّم: جہنم کی گرمی کا انتشارو پھیلاؤ اور اس کا جوش۔
فوائد ومسائل: مولانا منظور احمد نعمانی رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا ہے دنیا میں ہم جو دیکھتے اور محسوس کرتے ہیں اس کے کچھ تو ظاہری اسباب ہوتے ہیں جنھیں ہم خود بھی سمجھتے اور جانتے ہیں اور کچھ باطنی اسباب ہوتے ہیں جو ہمارے احساس وادراک کی دسترس سے باہر ہوتے ہیں انبیاء علیہ السلام کبھی کبھی ان کی طرف اشارے فرماتے ہیں اس حدیث میں جو یہ فرمایا گیا ہے کہ گرمی کی شدت آتش دوزخ کے جوش سے ہےیہ اسی قبیل کی چیز ہے گرمی کی شدت کا ظاہر سبب تو آفتاب ہے اور اس بات کو ہر شخص سمجھتا ہے اور کوئی بھی اس سے انکار نہیں کر سکتا لیکن عالم باطن اور عالم غیب میں اس کا تعلق جہنم کی آگ سے بھی ہے اور یہ ان حقائق میں سے ہے جو انبیاء عليهم السلام ہی کے ذریعہ معلوم ہو سکتے ہیں۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جب گرمی سخت ہو تو نماز ٹھنڈی کر کے پڑھو، اس لیے کہ گرمی کی شدت جہنم کے جوش مارنے کی وجہ سے ہے “ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 501]
➋”جہنم کا جوش“ بہت سے اہل علم نے اسے حقیقت پر محمول کیا ہے کہ گرمی کا تعلق جہنم کے ساتھ ہے۔ جب جہنم کو جوش آتا ہے تو گرمی زیادہ ہو جاتی ہے اور یہ کوئی بعید نہیں۔ اور الفاظ کا ظاہری معنیٰ مراد لینا ہی بہتر ہے۔ دنیا کا سارا نظام ہی غیرمرئی سہاروں پر قائم ہے۔ ممکن ہے کہ سورج کا جہنم سے کوئی تعلق ہو، البتہ بعض حضرات کے بقول اگر اسے تشبیہ پر محمول کیا جائے تو بلاغتِ کلام کا بہترین نمونہ ہو گا، یعنی گرمی کی شدت تکلیف دہ چیز ہے، جہنم کی لو کی طرح۔ اہل اسلام کے نزدیک سب سے لذیذ چیز جنت ہے اور سب سے تکلیف دہ اور قبیح چیز جہنم ہے، اس لیے مفید، اچھی اور لذیذ چیز کی نسبت جنت کی طرف اور تکلیف اور نقصان دہ اور قبیح چیز کی نسبت جہنم کی طرف کر دی جاتی ہے۔ یہی حال فرشتے اور شیطان کی طرف نسبت کا ہے کہ مقصد صرف تشبیہ اور ذہنی توجہ ہوتی ہے نہ کہ ظاہر الفاظ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بلیغ ترین انسان تھے۔ آپ کا کلام تشبیہات، استعارات اور کنایات کا اعلیٰ نمونہ ہوتا تھا، لہٰذا کوئی بعید نہیں کہ یہ کلام بھی تشبیہ بلیغ کا نمونہ ہو۔ واللہ اعلم۔
➌جنت اور جہنم کا وجود موجود ہے۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جب گرمی سخت ہو جائے تو نماز ٹھنڈی کر لو، اس لیے کہ گرمی کی شدت جہنم کی لپٹ سے ہے “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصلاة/حدیث: 677]
شدید گرمی میں نماز کو تاخیر سے ادا کرنے میں یہ حکمت ہے کہ گرمی کی شدت نماز میں توجہ اور خشوع سے رکاوٹ بنتی ہے اس لیے گرمی کی تخفیف کے وقت نماز زیادہ توجہ سے ادا کی جا سکے گی تاہم یہ تاخیر بہت زیادہ نہیں ہونی چاہیے۔
(2)
گرمی کی شدت کو جہنم کی بھاپ کی وجہ قرار دیا گیا ہے اس کو بعض علماء نے تشبیہ اور مجاز پر محمول کیا ہے لیکن زیادہ بہتر یہ ہے کہ اسے حقیقت پر محمول کیا جائے کیونکہ ظاہری حالات کے کچھ اسباب ہمیں معلوم ہوتے ہیں اور کچھ ایسے اسباب بھی ہوتے ہیں جن کا تعلق عالم غیب مثلاً: فرشتوں یا جنت یا جہنم سے ہوتا ہے۔
عالم غیب پر ایمان لانے کے بعد اس کے بعض امور کا ظاہری دنیا کے معاملات سے متعلق ہونا کسی اشکال کا باعث نہیں۔
رسول اللہﷺ نے فرمایا: جہنم نے رب سے شکایت کرتے ہوئے عرض کیا: یا رب میرا ایک حصہ دوسرے کو کھائے جا رہا ہے (میری حرارت خود میرے لیے ناقابل برداشت ہوئی جاتی ہے)
تو اللہ تعالی نے اسے دوسانس لینے کی اجازت دی ایک سانس سردی کے موسم میں اور ایک سانس گرمی کے موسم میں تم لوگ جو سخت ترین گرمی (کی لہر)
یا سخت ترین سردی (کی لہر)
محسوس کرتے ہو وہ یہی ہے۔ (صحيح البخاري، بدء الخلق، باب صفة النار وأنها مخلوقة، حديث: 3260، وصحيح مسلم، المساجد، باب استجاب الإبراد بالظهر في شدة الحر لمن يمضي الي جماعة ويناله الحر في طريقه، حديث: 618)
جو اللہ دوسری مخلوقات کو قوت گویائی دینے پر قادر ہے، یقیناً اُس نے جہنم کو بھی کلام کرنے کی صلاحیت عطا فرمائی، جہنم کی آگ کے ایک دوسرے کو کھانے سے مراد یہ ہے کہ وہ آپس میں گڈمڈ ہو چکی ہے اور جو حصہ نسبتاََ زیادہ سخت گرم اور تیز ہے وہ آگ کے دوسرے حصوں پر غالب آگیا ہے۔
اس باب کی احادیث سے امام مالک رحمہ اللہ عنوان میں بیان کردہ مسئلے کی طرف اشارہ کر رہے ہیں کہ جب زوالِ آفتاب کے بعد بھی کچھ تاخیر سے نماز پڑھنے کا حکم ہے تو دن کے عین درمیان میں جب گرمی کا مکمل عروج ہو، نماز ادا نہیں کرنا چاہیے۔
دراصل رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے پانچ اوقات میں نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے: ➊ جب سورج طلوع ہو رہا ہو.
➋ جب سورج غروب ہو رہا ہو کیونکہ سورج شیطان کے دو سینگوں کے درمیان میں طلوع اور غروب ہوتا ہے (یعنی ان دونوں اوقات میں شیطان سورج کے آگے کھڑا ہو جاتا ہے تا کہ جو لوگ اس کے ورغلانے سے سورج کی پوجا کریں تو اُن کا سجدہ وغیرہ سورج کی بجائے خود شیطان کی طرف ہو) اور (ان دونوں اوقات میں نماز کی ممانعت کا سبب کفار کی مشابہت ہے)، فرمانِ نبوی ہے: «وَحِينَئِذٍ يَسْجُدُ لَهَا الْكُفَّارُ» ”اور اس وقت (سورج کی پوجا کرنے والے) کافر اُسے سجدہ کر رہے ہوتے ہیں۔“
➌ دن کے عین درمیان میں اس وقت جہنم کو بھڑکایا جا رہا ہوتا ہے۔ [صحيح مسلم: 832]
➍ نمازِ فجر کے بعد سے لے کر طلوع آفتاب تک۔
➎ نمازِ عصر کے بعد سے غروب آفتاب تک۔
پہلے تین اوقات میں کوئی بھی نماز شروع کرنا ممنوع ہے لیکن آخری دونوں اوقات میں قضا ہونے والی فرض نمازیں اور بعض پیش آمدہ اسباب کی بنا پر بعض نفلی نمازیں پڑھنے کی گنجائش ہے۔
«. . . 376- مالك عن عبد الله بن يزيد مولى الأسود بن سفيان عن أبى سلمة بن عبد الرحمن وعن محمد بن عبد الرحمن بن ثوبان عن أبى هريرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ”إذا كان الحر فأبردوا عن الصلاة فإن شدة الحر من فيح جهنم“ وذكر ”أن النار اشتكت إلى ربها فأذن لها فى كل عام بنفسين، نفس فى الشتاء ونفس فى الصيف“ . . . .»
”. . . سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب گرمی (زیادہ) ہو تو نماز ٹھنڈی کر کے پڑھو کیونکہ گرمی کی شدت جہنم کے سانس لینے میں سے ہے۔ “ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کیا کہ (جہنم کی) آگ نے اپنے رب سے شکایت کی تو اسے ہر سال میں دو سانسوں کی اجازت دی، ایک سردیوں میں اور دوسرا گرمیوں میں۔ . . .“ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 25]
[وأخرجه مسلم 617/186، من حديث مالك به]
تفقه:
➊ نماز ٹھنڈی کر کے پڑھو، اس حکم کا تعلق سفر سے ہے۔ دیکھئے [الموطأ حديث: 323، وصحيح بخاري:533]
➋ جہنم کا سانس لینا برحق اور غیب میں سے ہے جس پر ایمان لانا واجب ہے۔
➌ جہاں موانع ہوں تو ان کی وجہ سے گرمی یا سردی سے رکاوٹ ہوسکتی ہے۔
➍ الله تعالیٰ جس سے اور جب چاہے کلام کرائے خواہ وہ زمین و آسمان ہوں یا جہنم ہو کیونکہ قوت گویائی اور ہر قوت اسی کے اختیار میں ہے۔
➎ جنت اور جہنم پیدا شدہ اور موجود ہیں۔
اس حدیث میں مسجد حرام میں نماز پڑھنے کی فضیلت وارد ہوئی ہے، مسجد حرام میں نماز پڑھنے کا ثواب دیگر مساجد میں نماز پڑھنے سے ایک لاکھ گنا زیادہ ہے، اور مسجد نبوی سے ایک سو گنا زیادہ ہے۔
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ جہنم بھی اللہ تعالیٰ کے تابع ہے، اور اس حدیث سے ثابت ہوا کہ انسان کے علاوہ بھی جو مخلوق اللہ تعالیٰ سے دعا کرتی ہے، اللہ تعالیٰ اس کی دعا سنتے ہیں۔