سنن ترمذي
كتاب السير عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: جہاد کے احکام و مسائل
باب مَا جَاءَ فِي النَّهْىِ عَنْ قَتْلِ النِّسَاءِ، وَالصِّبْيَانِ باب: عورتوں اور بچوں کے قتل کی ممانعت کا بیان۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ امْرَأَةً وُجِدَتْ فِي بَعْضِ مَغَازِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَقْتُولَةً ، فَأَنْكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ ، " وَنَهَى عَنْ قَتْلِ النِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ " ، وَفِي الْبَاب ، عَنْ بُرَيْدَةَ ، وَرَبَاحٍ وَيُقَالُ : رِيَاحُ بْنُ الرَّبِيعِ ، وَالْأَسْوَدِ بْنِ سَرِيعٍ ، وَابْنِ عَبَّاسٍ ، وَالصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ ، كَرِهُوا قَتْلَ النِّسَاءِ وَالْوِلْدَانِ ، وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ ، وَالشَّافِعِيِّ ، وَرَخَّصَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي الْبَيَاتِ ، وَقَتْلِ النِّسَاءِ فِيهِمْ وَالْوِلْدَانِ وَهُوَ قَوْلُ أَحْمَدَ ، وَإِسْحَاق ، وَرَخَّصَا فِي الْبَيَاتِ .´عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی غزوے میں ایک عورت مقتول پائی گئی ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی مذمت کی اور عورتوں و بچوں کے قتل سے منع فرمایا ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ۲- اس باب میں بریدہ ، رباح ، ان کو رباح بن ربیع بھی کہتے ہیں ، اسود بن سریع ابن عباس اور صعب بن جثامہ سے بھی احادیث آئی ہیں ، ۳- بعض اہل علم صحابہ اور دوسرے لوگوں کا اسی پر عمل ہے ، یہ لوگ عورتوں اور بچوں کے قتل کو حرام سمجھتے ہیں ، سفیان ثوری اور شافعی کا بھی یہی قول ہے ، ۴- کچھ اہل علم نے رات میں ان پر چھاپہ مارنے کی اور اس میں عورتوں اور بچوں کے قتل کی رخصت دی ہے ، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے ، ان دونوں نے رات میں چھاپہ مارنے کی رخصت دی ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی غزوے میں ایک عورت مقتول پائی گئی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی مذمت کی اور عورتوں و بچوں کے قتل سے منع فرمایا ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب السير/حدیث: 1569]
وضاحت:
1؎:
عورت کے قتل کرنے کی حرمت پرسب کا اتفاق ہے، ہاں! اگر وہ شریک جنگ ہوکر لڑے تو ایسی صورت میں عورت کا قتل جائز ہے۔
1۔
دوران جنگ میں بچوں اور عورتوں کو قتل کرنے کے متعلق عام طور پر دوموقف بیا ن کیے جاتےہیں:۔
انھیں قتل کرنا مطلق طور پر جائز ہے۔
۔
انھیں قتل کرنا مطلق طور پر ناجائز ہے۔
لیکن امام بخاری ؒ کے انداز بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ اس مسئلے میں کچھ تفصیل ہے۔
وہ اس طرح کہ تین صورتوں میں انھیں قتل کیا جاسکتا ہے: الف۔
جب وہ خود جنگ میں شریک ہوں اور باقاعدہ مسلمانوں کا مقابلہ کرنے کے لیے خم ٹھونک کر میدان میں آجائیں۔
ب۔
کفار ومشرکین انھیں بطور ڈھال استعمال کریں، یعنی دوران جنگ میں انھیں آگے کردیں۔
ج۔
شب خون مارتے وقت لاشعوری طور پرمارے جائیں۔
ان تین صورتوں کے علاوہ انھیں قتل کرنا جائز نہیں۔
2۔
حافظ ابن حجر ؒنے اس کی وجہ ان الفاظ میں بیان کی ہے: عورتیں اس لیے کہ کمزور ہیں اور میدان جنگ میں نہیں لڑ سکتیں اور بچے اس لیے کہ وہ فعل کفر سے قاصر ہیں کیونکہ کفر ہی قتال کا باعث ہے۔
واللہ أعلم۔
(فتح الباري: 179/6)
صد افسوس کہ یہ نوٹ ایسے وقت میں لکھ رہا ہوں کہ ملک بنگال مشرقی پاکستان میں خود مسلمانوں کے ہاتھوں مسلمان مرد‘ عورت‘ بچے بکریوں کی طرح ذبح کئے جا رہے ہیں۔
بنگالیوں اور بہاریوں اور پنجابیوں کے ناموں پر مسلمان اپنے ہی ہاتھوں سے اپنے اسلامی بھائیوں کی خون ریزی کر رہے ہیں۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے راستے میں ایک عورت کو دیکھا جسے قتل کر دیا گیا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں اور بچوں کے قتل سے منع فرما دیا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2841]
فوائد و مسائل:
(1)
عورتوں اور بچوں کو قتل کرنا منع ہے۔
اسی طرح بوڑھے راہب اور دوسرے ایسے افراد جو جنگ میں شریک نہیں ہوتے انھیں بھی قتل کرنا درست نہیں۔
(6)
جب کوئی غلط کام سامنے آئے تو اس سے فوراً روک دینا چاہیے تاکہ دوسروں کو بھی معلوم ہوجائے اور وہ اس غلطی کے ارتکاب سے بچیں۔