سنن ترمذي
كتاب السير عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: جہاد کے احکام و مسائل
باب مَا جَاءَ فِي قَتْلِ الأُسَارَى وَالْفِدَاءِ باب: قیدیوں کے قتل کرنے اور فدیہ لے کر انہیں چھوڑنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا أبو عُبَيْدَةَ بن أبي السَّفَرِ وَاسْمُهُ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْهَمْدَانِيُّ الْكُوفِيُّ ، وَمَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّاءَ بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ عَبِيدَةَ، عَنْ عَلِيٍّ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ جِبْرَائِيلَ هَبَطَ عَلَيْهِ ، فَقَالَ لَهُ : خَيِّرْهُمْ ، يَعْنِي : أَصْحَابَكَ ، فِي أُسَارَى بَدْرٍ ، الْقَتْلَ أَوِ الْفِدَاءَ ، عَلَى أَنْ يُقْتَلَ مِنْهُمْ قَابِلًا مِثْلُهُمْ ، قَالُوا : الْفِدَاءَ ، وَيُقْتَلُ مِنَّا " ، وَفِي الْبَاب ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ ، وَأَنَسٍ ، وَأَبِي بَرْزَةَ ، وَجُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ الثَّوْرِيِّ ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ ابْنِ أَبِي زَائِدَةَ ، وَرَوَى أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ عَبِيدَةَ، عَنْ عَلِيٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، نَحْوَهُ ، وَرَوَى ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ عَبِيدَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا ، وَأَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ اسْمُهُ عُمَرُ بْنُ سَعْدٍ .´علی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جبرائیل نے میرے پاس آ کر کہا : اپنے ساتھیوں کو بدر کے قیدیوں کے سلسلے میں اختیار دیں ، وہ چاہیں تو انہیں قتل کریں ، چاہیں تو فدیہ لیں ، فدیہ کی صورت میں ان میں سے آئندہ سال اتنے ہی آدمی قتل کئے جائیں گے ، ان لوگوں نے کہا : فدیہ لیں گے اور ہم میں سے قتل کئے جائیں ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث ثوری کی روایت سے حسن غریب ہے ، ہم اس کو صرف ابن ابی زائدہ ہی کی روایت سے جانتے ہیں ، ۲- ابواسامہ نے بسند «هشام عن ابن سيرين عن عبيدة عن علي عن النبي صلى الله عليه وسلم» اسی جیسی حدیث روایت کی ہے ، ۳- ابن عون نے بسند «ابن سيرين عن عبيدة عن النبي صلى الله عليه وسلم» مرسلاً روایت کی ہے ، ۴- اس باب میں ابن مسعود ، انس ، ابوبرزہ ، اور جبیر بن مطعم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔
تشریح، فوائد و مسائل
علی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جبرائیل نے میرے پاس آ کر کہا: اپنے ساتھیوں کو بدر کے قیدیوں کے سلسلے میں اختیار دیں، وہ چاہیں تو انہیں قتل کریں، چاہیں تو فدیہ لیں، فدیہ کی صورت میں ان میں سے آئندہ سال اتنے ہی آدمی قتل کئے جائیں گے، ان لوگوں نے کہا: فدیہ لیں گے اور ہم میں سے قتل کئے جائیں ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب السير/حدیث: 1567]
وضاحت:
1؎:
کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ صحابہ کی یہ دلی خواہش تھی کہ یہ قیدی مشرف بہ اسلام ہوجائیں اور مستقبل میں اپنی جان دے کر شہادت کا درجہ حاصل کرلیں۔
(حدیث کی سند اور معنی دونوں پر کلام ہے؟)