حدیث نمبر: 1563
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل، عَنْ جَهْضَمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ شِرَاءِ الْمَغَانِمِ حَتَّى تُقْسَمَ " ، وَفِي الْبَاب ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ أَبُو عِيسَى : وَهَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوسعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تقسیم سے پہلے مال غنیمت کی خرید و فروخت سے منع فرمایا ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث غریب ہے ، ۲- اس باب میں ابوہریرہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب السير عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 1563
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، المشكاة (4015 - 4016 / التحقيق الثاني) , شیخ زبیر علی زئی: (1563) إسناده ضعيف / جه 2196, محمد بن إبراھيم الباھلي مجھول (تق:5703) وفي شيخه نظر و لبعض الحديث شواھد
تخریج حدیث «سنن ابن ماجہ/التجارات 24 (2196) ، (فی سیاق الحول من ذلک) ( تحفة الأشراف : 4073) (ضعیف) (سند میں ’’ محمد بن ابراہیم الباہلی، اور ’’ محمد بن زید العبدی ‘‘ دونوں مجہول راوی ہیں، اور ’’ جہضم ‘‘ میں کلام ہے)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´تقسیم سے پہلے مال غنیمت بیچنا مکروہ ہے۔`
ابوسعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تقسیم سے پہلے مال غنیمت کی خرید و فروخت سے منع فرمایا۔ [سنن ترمذي/كتاب السير/حدیث: 1563]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں ’’محمد بن ابراہیم الباہلی‘‘، اور’’محمد بن زید العبدی‘‘ دونوں مجہول راوی ہیں، اور ’’جہضم‘‘ میں کلام ہے)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1563 سے ماخوذ ہے۔