سنن ترمذي
كتاب السير عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: جہاد کے احکام و مسائل
باب مَا جَاءَ فِي النَّفَلِ باب: نفل کا بیان۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ أَبِي سَلَّامٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَانَ يُنَفِّلُ فِي الْبَدْأَةِ الرُّبُعَ ، وَفِي الْقُفُولِ الثُّلُثَ " ، وَفِي الْبَاب ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، وَحَبِيبِ بْنِ مَسْلَمَةَ ، وَمَعْنِ بْنِ يَزِيدَ ، وَابْنِ عُمَرَ ، وَسَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى : وَحَدِيثُ عُبَادَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ أَبِي سَلَّامٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .´عبادہ بن صامت رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سریہ کے شروع میں جانے پر چوتھائی حصہ اور لڑائی سے لوٹتے وقت دوبارہ جانے پر تہائی حصہ زائد بطور انعام ( نفل ) دیتے تھے ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- عبادہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن ہے ، ۲- یہ حدیث ابوسلام سے مروی ہے ، انہوں نے ایک صحابی سے اس کی روایت کی ہے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کی ہے ، ۳- اس باب میں ابن عباس ، حبیب بن مسلمہ ، معن بن یزید ، ابن عمر اور سلمہ بن الاکوع رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔
تشریح، فوائد و مسائل
عبادہ بن صامت رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سریہ کے شروع میں جانے پر چوتھائی حصہ اور لڑائی سے لوٹتے وقت دوبارہ جانے پر تہائی حصہ زائد بطور انعام (نفل) دیتے تھے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب السير/حدیث: 1561]
وضاحت:
1؎:
کیونکہ لڑائی سے واپس آنے کے بعد پھرواپس جہاد کے لیے جانا مشکل کا م ہے۔
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم شروع لڑائی میں ملنے والے مال غنیمت کا چوتھا حصہ بطور ہبہ دیتے، اور لوٹتے وقت تہائی حصہ دیتے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2852]
فوائد ومسائل: حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ اگر جنگ کے شروع میں کوئی دستہ بہادری کا خاص انجام دے مثلاً دشمن پر حملہ کرنے میں پہل کرے اور غنیمت حاصل کرے اور غنیمت حاصل کرے تو انھیں اس میں سے چوتھائی حصہ بطور انعام دیا جائے اور اگر کوئی دستہ اس قسم کا کارنامہ اس وقت انجام دے جب لشکر واپس ہو رہا ہو تو انھیں اس غنیمت میں سے تیسرا حصہ انعام دیا جائے۔
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ بدر کے دن اپنی ذوالفقار نامی تلوار (علی رضی اللہ عنہ کو) انعام میں دی ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2808]
فوائد و مسائل:
(1)
اللہ تعالی نے مال غنیمت میں سے پانچواں حصہ اللہ اور اس کے رسول کا قراردیا ہے۔ (سورہ انفال آیت: 41)
اسلامی حکومت میں یہ حصہ بیت المال میں داخل ہو کر مسلمانوں کی اجتماعی ضروریات پر خرچ ہوتا ہے۔
(2)
رسول اللہ ﷺ اپنے ذاتی اخراجات غنیمت کے پانچویں حصے (خمس)
سے پورا کیا کرتے تھے اس لیے جہاد کی ضرورت کے لیے تلوار بھی خمس میں سے لے لی۔
(3)
اس تلوار کو ذوالفقار اس لیے کہتےتھے کہ اس پر کچھ گہرے نشانات تھےجس طرح کمر کی ہڈی کے مہرے ہوتے ہیں۔ (ديكھیے: (النهاية الابن أثير، ماده فقر)