سنن ترمذي
كتاب الصلاة— کتاب: نماز کے احکام و مسائل
باب مَا جَاءَ فِي التَّعْجِيلِ بِالظُّهْرِ باب: ظہر جلدی پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 155
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ : " مَا رَأَيْتُ أَحَدًا كَانَ أَشَدَّ تَعْجِيلًا لِلظُّهْرِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلَا مِنْ أَبِي بَكْرٍ , وَلَا مِنْ عُمَرَ " . قَالَ : وَفِي الْبَاب عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , وَخَبَّابٍ , وَأَبِي بَرْزَةَ , وَابْنِ مَسْعُودٍ , وَزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ , وَأَنَسٍ , وَجَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ عَائِشَةَ حَسَنٌ ، وَهُوَ الَّذِي اخْتَارَهُ أَهْلُ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَنْ بَعْدَهُمْ ، قَالَ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ : قَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ : وَقَدْ تَكَلَّمَ شُعْبَةُ فِي حَكِيمِ بْنِ جُبَيْرٍ مِنْ أَجْلِ حَدِيثِهِ الَّذِي رَوَى ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ سَأَلَ النَّاسَ وَلَهُ مَا يُغْنِيهِ " , قَالَ يَحْيَى : وَرَوَى لَهُ سُفْيَانُ , وَزَائِدَةُ ، وَلَمْ يَرَ يَحْيَى بِحَدِيثِهِ بَأْسًا ، قَالَ مُحَمَّدٌ : وَقَدْ رُوِيَ عَنْ حَكِيمِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي تَعْجِيلِ الظُّهْرِ .ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ` ظہر کو رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم سے بڑھ کر جلدی کرنے والا میں نے کسی کو نہیں دیکھا ، اور نہ ابوبکر اور عمر رضی الله عنہما سے بڑھ کر جلدی کرنے والا کسی کو دیکھا ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- اس باب میں جابر بن عبداللہ ، خباب ، ابوبرزہ ، ابن مسعود ، زید بن ثابت ، انس اور جابر بن سمرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں اور عائشہ رضی الله عنہا کی حدیث حسن ہے ، ۲- اور اسی کو صحابہ کرام اور ان کے بعد کے لوگوں میں اہل علم نے اختیار کیا ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ظہر جلدی پڑھنے کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ظہر کو رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم سے بڑھ کر جلدی کرنے والا میں نے کسی کو نہیں دیکھا، اور نہ ابوبکر اور عمر رضی الله عنہما سے بڑھ کر جلدی کرنے والا کسی کو دیکھا۔ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 155]
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ظہر کو رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم سے بڑھ کر جلدی کرنے والا میں نے کسی کو نہیں دیکھا، اور نہ ابوبکر اور عمر رضی الله عنہما سے بڑھ کر جلدی کرنے والا کسی کو دیکھا۔ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 155]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند کے ضعف کی وجہ یہ ہے کہ اس کے راوی ’حکیم بن جبیر‘ ضعیف ہیں، لیکن دوسری احادیث جیسا کہ مؤلف نے ذکر کیا ہے سے یہ حدیث ثابت ہے)
نوٹ:
(سند کے ضعف کی وجہ یہ ہے کہ اس کے راوی ’حکیم بن جبیر‘ ضعیف ہیں، لیکن دوسری احادیث جیسا کہ مؤلف نے ذکر کیا ہے سے یہ حدیث ثابت ہے)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 155 سے ماخوذ ہے۔