حدیث نمبر: 1547
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ هُوَ أَخُو سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، وَغَيْرِهِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَيُّمَا امْرِئٍ مُسْلِمٍ أَعْتَقَ امْرَأً مُسْلِمًا ، كَانَ فَكَاكَهُ مِنَ النَّارِ ، يُجْزِي كُلُّ عُضْوٍ مِنْهُ عُضْوًا مِنْهُ ، وَأَيُّمَا امْرِئٍ مُسْلِمٍ أَعْتَقَ امْرَأَتَيْنِ مُسْلِمَتَيْنِ ، كَانَتَا فَكَاكَهُ مِنَ النَّارِ ، يُجْزِي كُلُّ عُضْوٍ مِنْهُمَا عُضْوًا مِنْهُ ، وَأَيُّمَا امْرَأَةٍ مُسْلِمَةٍ أَعْتَقَتِ امْرَأَةً مُسْلِمَةً ، كَانَتْ فَكَاكَهَا مِنَ النَّارِ ، يُجْزِي كُلُّ عُضْوٍ مِنْهَا عُضْوًا مِنْهَا " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى : وَفِي الْحَدِيثِ مَا يَدُلُّ عَلَى أَنَّ عِتْقَ الذُّكُورِ لِلرِّجَالِ أَفْضَلُ مِنْ عِتْقِ الْإِنَاثِ ، لِقَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَعْتَقَ امْرَأً مُسْلِمًا ، كَانَ فَكَاكَهُ مِنَ النَّارِ ، يُجْزِي كُلُّ عُضْوٍ مِنْهُ عُضْوًا مِنْهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوامامہ رضی الله عنہ اور دوسرے صحابہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ` آپ نے فرمایا : ” جو مسلمان کسی مسلمان کو آزاد کرے گا ، تو یہ آزاد کرنا اس کے لیے جہنم سے نجات کا باعث ہو گا ، اس آزاد کیے گئے مرد کا ہر عضو اس آزاد کرنے والے کے عضو کی طرف سے کفایت کرے گا ، جو مسلمان دو مسلمان عورتوں کو آزاد کرے گا ، تو یہ دونوں اس کے لیے جہنم سے خلاصی کا باعث ہوں گی ، ان دونوں آزاد عورتوں کا ہر عضو اس کے عضو کی طرف سے کفایت کرے گا ، جو مسلمان عورت کسی مسلمان عورت کو آزاد کرے گی ، تو یہ اس کے لیے جہنم سے نجات کا باعث ہو گی ، اس آزاد کی گئی عورت کا ہر عضو اس آزاد کرنے والے کے عضو کی طرف سے کفایت کرے گا “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے ، ۲- یہ حدیث دلیل ہے کہ مردوں کے لیے مرد آزاد کرنا عورت کے آزاد کرنے سے افضل ہے ، اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے کسی مسلمان مرد کو آزاد کیا وہ اس کے لیے جہنم سے نجات کا باعث ہو گا ، اس آزاد کئے گئے مرد کا ہر عضو اس کے عضو کی طرف سے کفایت کرے گا “ ۔ راوی نے پوری حدیث بیان کی جو اپنی سندوں کے اعتبار سے صحیح ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب النذور والأيمان عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 1547
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، ابن ماجة (2522)
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 4864) (صحیح) وأما حدیث غیرہ من أصحاب النبی ﷺ فأخرجہ من حدیث أبي نجیح السلمي (عمرو بن عبیسة) ، سنن ابی داود/ العتق 14 (3965، 3966) ، و مسند احمد (4/113، 386) ، ( تحفة الأشراف : 10755 و 10772) ومن حدیث کعب بن مرة: د (برقم 3967) ، و ن (رقم 3142) و سنن ابن ماجہ/العتق 4 (2522) ، و مسند احمد (4/234، 235، 321) ( تحفة الأشراف : 11163)»