حدیث نمبر: 1542
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا الْمُحَارِبِيُّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ الْمُزَنِيِّ، قَالَ : " لَقَدْ رَأَيْتُنَا سَبْعَةَ إِخْوَةٍ مَا لَنَا خَادِمٌ إِلَّا وَاحِدَةٌ ، فَلَطَمَهَا أَحَدُنَا ، فَأَمَرَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نُعْتِقَهَا " قَالَ : وَفِي الْبَاب ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَقَدْ رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ هَذَا الْحَدِيثَ ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، فَذَكَرَ بَعْضُهُمْ فِي الْحَدِيثِ قَالَ : " لَطَمَهَا عَلَى وَجْهِهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´سوید بن مقرن مزنی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` صورت حال یہ تھی کہ ہم سات بھائی تھے ، ہمارے پاس ایک ہی خادمہ تھی ، ہم میں سے کسی نے اس کو طمانچہ مار دیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ہم اس کو آزاد کر دیں ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ۲- اسے حصین بن عبدالرحمٰن سے کئی لوگوں نے روایت کیا ہے ، بعض لوگوں نے اپنی روایت میں یہ ذکر کیا ہے کہ سوید بن مقرن مزنی نے «لطمها على وجهها» کہا یعنی ” اس نے اس کے چہرے پر طمانچہ مارا “ ۔
۳- اس باب میں ابن عمر رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب النذور والأيمان عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 1542
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «صحیح مسلم/الأیمان 8 (1658) ، سنن ابی داود/ الأدب 133 (5166) ، ( تحفة الأشراف : 4811) ، و مسند احمد (3/448) ، و (5/444) (صحیح)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 1658 | سنن ابي داود: 5166 | سنن ابي داود: 5167

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 1658 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت معاویہ بن سوید رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے اپنے ایک مولیٰ کو تھپڑ مارا تو میں بھاگ گیا، پھر ظہر سے پہلے واپس آ گیا اور اپنے والد کی اقتدا میں نماز پڑھی، تو میرے والد نے، غلام کو اور مجھے طلب کیا، پھر غلام کو کہا، اس سے بدلہ لو، تو اس نے معاف کر دیا، پھر میرے والد نے بتایا، ہم مقرن کی اولاد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں صرف ایک خادمہ کے مالک تھے، تو ہم میں سے کسی ایک نے اسے تھپڑ مارا، اور رسول... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:4301]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: یہ صحابہ کرام کا کریمانہ اخلاق تھا کہ محض ایک تھپڑ مارنے پر، اپنے غلام کو کہا، اس سے وہی سلوک کرو جو اس نے تیرے ساتھ کیا ہے، حالانکہ ایسے مواقع پر محض سرزنش و توبیخ کافی ہوتی ہے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی صحابہ کرام کو سبق سکھایا، کہ وہ ان کے ساتھ ظلم و زیادتی سے پیش نہ آئیں، اور بلاوجہ مار پیٹ سے کام نہ لیں، اور اگر ایسا کر بیٹھیں، تو غلام آزاد کر دیں تاکہ کسی اور غلام کے ساتھ اس کام کا اعادہ نہ ہو۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 4301 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 5166 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´غلام اور لونڈی کے حقوق کا بیان۔`
ہلال بن یساف کہتے ہیں کہ ہم سوید بن مقرن رضی اللہ عنہ کے گھر اترے، ہمارے ساتھ ایک تیز مزاج بوڑھا تھا اور اس کے ساتھ اس کی ایک لونڈی تھی، اس نے اس کے چہرے پر طمانچہ مارا تو میں نے سوید کو جتنا سخت غصہ ہوتے ہوئے دیکھا اتنا کبھی نہیں دیکھا تھا، انہوں نے کہا: تیرے پاس اسے آزاد کر دینے کے سوا اور کوئی چارہ نہیں، تو نے ہمیں دیکھا ہے کہ ہم مقرن کے سات بیٹوں میں سے ساتویں ہیں، ہمارے پاس صرف ایک خادم تھا، سب سے چھوٹے بھائی نے (ایک بار) اس کے منہ پر طمانچہ مار دیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس کے آزاد کر دینے کا حکم دیا۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5166]
فوائد ومسائل:
چہرے پرمارنا سخت منع ہے۔
اور رسول اللہﷺ نے اس سے منع فرمایا ہے۔
آپﷺ کا ارشاد گرامی ہے۔
(إذا قَاتَلَ أحدُكُم أخاه فليجتنبِ الوجهَ) (صحيح مسلم، البر والصلة، حديث: 2612) جب تم سے کسی کی اپنے (مسلمان) بھائی کے ساتھ لڑائی ہوجائے تو چاہیے کہ اس کے چہرے (پرمارنے) سے بچے۔
حتیٰ کہ حیوان کے چہرے پر بھی نہین مارنا چاہیے۔

درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 5166 سے ماخوذ ہے۔