سنن ترمذي
كتاب النذور والأيمان عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: نذر اور قسم (حلف) کے احکام و مسائل
باب مَا جَاءَ فِي الاِسْتِثْنَاءِ فِي الْيَمِينِ باب: قسم میں ان شاءاللہ کہنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ , حَدَّثَنِي أَبِي , وَحَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , عَنْ أَيُّوبَ , عَنْ نَافِعٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ فَقَالَ : إِنْ شَاءَ اللَّهُ , فَقَدِ اسْتَثْنَى , فَلَا حِنْثَ عَلَيْهِ " , قَالَ : وَفِي الْبَاب , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ , وَقَدْ رَوَاهُ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ , وَغَيْرُهُ , عَنْ نَافِعٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , مَوْقُوفًا , وَهَكَذَا رُوِيَ عَنْ سَالِمٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا , مَوْقُوفًا وَلَا نَعْلَمُ أَحَدًا رَفَعَهُ غَيْرَ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ , وقَالَ إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ : وَكَانَ أَيُّوبُ أَحْيَانًا يَرْفَعُهُ , وَأَحْيَانًا لَا يَرْفَعُهُ , وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ , أَنَّ الِاسْتِثْنَاءَ إِذَا كَانَ مَوْصُولًا بِالْيَمِينِ , فَلَا حِنْثَ عَلَيْهِ , وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ , وَالْأَوْزَاعِيِّ , وَمَالِكِ بْنِ أَنَسٍ , وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ , وَالشَّافِعِيِّ , وَأَحْمَدَ , وَإِسْحَاق .´عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے کسی امر پر قسم کھائی اور ساتھ ہی ان شاءاللہ کہا ، تو اس قسم کو توڑنے کا کفارہ نہیں ہے “ ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- ابن عمر رضی الله عنہما کی حدیث حسن ہے ، ۲- اس حدیث کو عبیداللہ بن عمرو وغیرہ نے نافع سے ، نافع نے ابن عمر سے موقوفا روایت کیا ہے ، اسی طرح اس حدیث کو سالم بن علیہ نے ابن عمر رضی الله عنہما سے موقوفاً روایت کی ہے ، ہمیں نہیں معلوم کہ ایوب سختیانی کے سوا کسی اور نے بھی اسے مرفوعاً روایت کیا ہے ، اسماعیل بن ابراہیم کہتے ہیں : ایوب اس کو کبھی مرفوعاً روایت کرتے تھے اور کبھی مرفوعاً نہیں روایت کرتے تھے ، ۳- اس باب میں ابوہریرہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے ، ۴- اکثر اہل علم صحابہ اور دوسرے لوگوں کا اسی پر عمل ہے کہ جب قسم کے ساتھ «إن شاء اللہ» کا جملہ ملا ہو تو اس قسم کو توڑنے کا کفارہ نہیں ہے ، سفیان ثوری ، اوزاعی ، مالک بن انس ، عبداللہ بن مبارک ، شافعی ، احمد اور اسحاق کا یہی قول ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " جس نے کسی امر پر قسم کھائی اور ساتھ ہی ان شاءاللہ کہا، تو اس قسم کو توڑنے کا کفارہ نہیں ہے " ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب النذور والأيمان/حدیث: 1531]
وضاحت:
1؎:
اس حدیث کی رو سے قسم کھانے والا ساتھ ہی اگر ’’إن شاء اللہ‘‘ کہہ دے تو ایسی قسم توڑنے پر کفارہ نہیں ہوگا، کیوں کہ قسم کو جب اللہ کی مشیئت پر معلق کردیا جائے تووہ قسم منعقد نہیں ہوئی، اورجب قسم منعقد نہیں ہوئی تو توڑنے پر اس کے کفارہ کا کیا سوال؟۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " جس نے قسم کھائی اور ان شاءاللہ کہا تو وہ چاہے قسم کو پورا کرے چاہے نہ پورا کرے وہ حانث (قسم توڑنے والا) نہ ہو گا۔" [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3262]
چونکہ تمام امور اللہ عزوجل کی مشیت سے پورے ہوتے ہیں۔
اس لئے قسم میں بھی حسن ادب یہ ہے کہ مستقبل کے امور میں (ان شاء اللہ)کہہ لے۔
اس طرح قسم کھانے کی صورت میں اگر کام نہ ہوسکا تو قسم نہیں ٹوٹے گی۔
لیکن اگر قسم کھانے والا مخالفت کی نیت رکھتے ہوئے محض اپنے مخاطب کوتسلی دینے کےلئے (ان شاء اللہ) کہتا ہے۔
تو یہ بہت بڑا گنا ہ ہے۔
(انما الاعمال بالنیات)
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جس نے قسم کھائی اور «إن شاء الله» کہا، وہ حانث یعنی قسم توڑنے والا نہ ہو گا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الكفارات/حدیث: 2106]
فوائد و مسائل:
(1)
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَلَا تَقُولَنَّ لِشَيْءٍ إِنِّي فَاعِلٌ ذَٰلِكَ غَدًا۔
إِلَّا أَن يَشَاءَ اللَّـهُ﴾ (الکہف: 18؍23، 24)
’’کسی کام کے بارے میں اس طرح ہر گز نہ کہیں کہ میں اسے کل کروں گا (بلکہ ساتھ یہ بھی کہیں)
مگر یہ کہ اللہ چاہے۔‘‘
اس لیے ان شاء اللہ کہنے کو استثناء بھی کہتے ہیں۔
اس سے اللہ پر اعتماد کا اظہار ہے کہ جو کچھ ہوگا اس کی توفیق سے ہوگا۔
(2)
قسم کے ساتھ ان شاء اللہ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ میرا پکا ارادہ تو یہی ہے کہ فلاں کام کروں گا لیکن اگر اللہ کا فیصلہ کچھ اور ہوا اور مجھے کوئی عذر پیش آ گیا تو پھر یہ کام نہیں ہو سکے گا۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " جو قسم کھائے اور ان شاءاللہ (اگر اللہ نے چاہا) کہے تو اگر چاہے تو وہ قسم پوری کرے اور اگر چاہے تو پوری نہ کرے، وہ قسم توڑنے والا نہیں ہو گا ۱؎۔" [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3824]
(2) "ان شاء اللہ" ان الفاظ کا ظاہراً کہنا مقصود ہے۔ اگر کوئی نیت میں "ان شاء اللہ" کہے گا تو اس کا اعتبار نہیں کیونکہ قسم کا انعقاد ظاہری الفاظ سے ثابت ہوتا ہے نیت سے نہیں۔
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ جو کسی کام پر قسم کھائے اور ساتھ ہی «إن شاء الله» کہے تو اس قسم کو توڑنے کا کفارہ نہیں ہے۔ " اسے احمد اور چاروں نے روایت کیا ہے اور ابن حبان نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 1174»
«أخرجه أبوداود، الأيمان والنذور، باب الاستثناء في اليمين، حديث:3261، والترمذي، النذور والأيمان، حديث:1531، والنسائي، الأيمان والنذور، حديث:3824، وابن ماجه، الكفارات، حديث:2105، 2106، وأحمد:2 /10، وابن حبان (الموارد)، حديث:1183، 1184.»
تشریح: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر قسم کھانے والا ساتھ ہی ان شاء اللہ کہہ دے تو وہ قسم توڑنے کا مرتکب کہلائے گا نہ اس پر کفارہ لازم ہوگاکیونکہ قسم کو جب مشیت الٰہی سے مقید کر دیا جائے تو بالاتفاق وہ قسم منعقد نہیں ہوتی۔