سنن ترمذي
كتاب النذور والأيمان عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: نذر اور قسم (حلف) کے احکام و مسائل
باب مَا جَاءَ فِيمَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ فَرَأَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا باب: کسی کام پر قسم کھانے کے بعد اس سے بہتر کام جان جائے تو اس کے حکم کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ , حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ , عَنْ يُونُسَ هُوَ : ابْنُ عُبَيْدٍ , حَدَّثَنَا الْحَسَنُ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ , لَا تَسْأَلِ الْإِمَارَةَ فَإِنَّكَ إِنْ أَتَتْكَ عَنْ مَسْأَلَةٍ وُكِلْتَ إِلَيْهَا , وَإِنْ أَتَتْكَ عَنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ أُعِنْتَ عَلَيْهَا , وَإِذَا حَلَفْتَ عَلَى يَمِينٍ فَرَأَيْتَ غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا , فَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ وَلْتُكَفِّرْ عَنْ يَمِينِكَ " , وَفِي الْبَاب , عَنْ عَلِيٍّ , وَجَابِرٍ , وَعَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ , وَأَبِي الدَّرْدَاءِ , وَأَنَسٍ , وَعَائِشَةَ , وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو , وَأَبِي هُرَيْرَةَ , وَأُمِّ سَلَمَةَ , وَأَبِي مُوسَى ، قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .´عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عبدالرحمٰن ! منصب امارت کا مطالبہ نہ کرو ، اس لیے کہ اگر تم نے اسے مانگ کر حاصل کیا تو تم اسی کے سپرد کر دیئے جاؤ گے ۱؎ ، اور اگر وہ تمہیں بن مانگے ملی تو اللہ کی مدد و توفیق تمہارے شامل ہو گی ، اور جب تم کسی کام پر قسم کھاؤ پھر دوسرے کام کو اس سے بہتر سمجھو تو جسے تم بہتر سمجھتے ہو اسے ہی کرو اور اپنی قسم کا کفارہ ادا کر دو “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- عبدالرحمٰن بن سمرہ کی حدیث حسن صحیح ہے ، ۲- اس باب میں علی ، جابر ، عدی بن حاتم ، ابو الدرداء ، انس ، عائشہ ، عبداللہ بن عمرو ، ابوہریرہ ، ام سلمہ اور ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔
تشریح، فوائد و مسائل
عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” عبدالرحمٰن! منصب امارت کا مطالبہ نہ کرو، اس لیے کہ اگر تم نے اسے مانگ کر حاصل کیا تو تم اسی کے سپرد کر دیئے جاؤ گے ۱؎، اور اگر وہ تمہیں بن مانگے ملی تو اللہ کی مدد و توفیق تمہارے شامل ہو گی، اور جب تم کسی کام پر قسم کھاؤ پھر دوسرے کام کو اس سے بہتر سمجھو تو جسے تم بہتر سمجھتے ہو اسے ہی کرو اور اپنی قسم کا کفارہ ادا کر دو۔“ [سنن ترمذي/كتاب النذور والأيمان/حدیث: 1529]
وضاحت:
1؎:
یعنی اللہ کی نصرت وتائید تمہیں حاصل نہیں ہوگی۔
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ قسم کا کفارہ، قسم توڑنے کے بعد ادا کیا جائے جبکہ صحیح بخاری کی ایک دوسری روایت میں ہے: ''اپنی قسم کا کفارہ دے دو اور وہ کام کرو جو بہتر ہو۔
'' (صحیح البخاری، الایمان والنذور، حدیث: 6622)
اس روایت کا تقاضا ہے کہ قسم توڑنے سے پہلے بھی کفارہ دیا جا سکتا ہے، اس سے امام بخاری رحمہ اللہ کا موقف ثابت ہوا کہ کفارہ، قسم توڑنے سے پہلے اور بعد میں دیا جا سکتا ہے، اس میں کوئی حرج نہیں۔
واللہ اعلم
ایسے لوگ ادائیگی میں کامیاب نہیں ہوں گے، الا ماشاءاللہ۔
1۔
اس حدیث میں اشارہ ہے کہ حاکم اعلیٰ کا کام ہے کہ وہ اپنی حکومت میں قابل ترین افراد کو تلاش کرکے امور حکومت ان کےحوالے کردے اور جو لوگ خود لالچی اور حریص ہوں انھیں کوئی منصب نہ دیاجائے۔
ایسے لوگ اسے چلانے میں ناکام رہیں گے۔
لیکن کوئی اگر اپنے اندرصلاحیت پاتا ہے اور حکومتی تقاضے پورے کرنے کی ہمت پاتا ہے اور اسے یہ بھی احساس ہے کہ اگر میں نے اسے حاصل نہ کیا تو نالائق آدمی اس پر قابض ہوجائے گا تو اس صورت میں عہدہ طلب کرنے میں کوئی حرج نہیں جیسا کہ حضرت یوسف علیہ السلام نے وزارت مال کا قلمدان مانگ کرلیاتھا۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے: \"یوسف علیہ السلام نے کہا: مجھے زمین کے خزانوں پر مقرر کردیجیے۔
میں ان کی حفاظت کرنے والا اور یہ کام میں جانتا بھی ہوں۔
\"(یوسف 12/55)
2۔
اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ حکومتی ذمہ داری محنت ومشقت سے خالی نہیں۔
اگراللہ تعالیٰ کی مدد شامل حال ہوتو انسان کی دنیا تباہ اور آخرت برباد ہوجاتی ہے،اس لیے کوئی عقلمند اسے مانگ کر کرلینے کی جراءت نہیں کرتا اور اگر اپنے اندر صلاحیت پاتا ہے اور طلب کے بغیر اسے کوئی ذمہ داری دی جاتی ہے تواللہ تعالیٰ کی مدد شامل حال ہوتی ہے جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی بشارت دی ہے۔
(فتح الباری 13/155) w
اگر غلط قسم کی صورت ہو تو اس کا کفارہ ادا کرنا ضروری ہے۔
1۔
اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ حکومتی عہدہ یا عدالتی منصب خود طلب کرکے نہیں لیناچاہیے اور جسے خواہش کے بغیر کوئی حکومتی ذمہ دار مل جائے تو وہ اللہ تعالیٰ پر توکل کرتے ہوئے اسے قبول کرے۔
ایسے بندوں کے لیے اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ وہ ان کی ضرور رہنمائی کرے گا جیسا کہ ایک دوسری حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: \" جو کوئی منصب قضا کا طالب ہوگا اور درخواست کرکے اسے حاصل کرے گا تو اسے کی ذات کے حوالے کردیا جائے گا اور جس شخص کو مجبور کرکے قاضی بنایاجائے تواللہ اس کی رہنمائی کے لیے فرشتہ اتار(مقررکر)
دیتا ہے جو اسے ٹھیک ٹھیک چلاتا ہے۔
(جامع الترمذی الاحکام حدیث 1323)
2۔
اس حدیث میں اللہ تعالیٰ کی مدد کی بھی وضاحت ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک فرشتہ اس کی رہنمائی کرے گا۔w
اگر کوئی آدمی خود کسی کو منصب کے اہل سمجھتا ہے اور اسے معلوم ہے کہ کوئی دوسرا اس منصب پر آ کر ملک و ملت کا نقصان کرے گا تو امارت طلب کرنے میں کوئی حرج نہیں جیسا کہ حضرت یوسف علیہ السلام نے وزارت مال کا قلمدان خود طلب کیا تھا۔
اس کی تفصیل کتاب الاحکام حدیث: 7146، 7147 میں بیان ہو گی، البتہ اس مقام پر یہ حدیث بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اگر کوئی شخص کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے کی قسم اٹھاتا ہے لیکن وہ سمجھتا ہے کہ قسم توڑ کر وہ کام کرنا یا نہ کرنا بہتر ہے تو اپنی قسم کا کفارہ دے دے جیسا کہ ایک دوسری حدیث میں ہے: ’’اگر کوئی قسم اٹھاتا ہے، پھر دیکھتا ہے کہ اس کے غیر میں بھلائی ہے تو بہتر کام کو کرے اور اپنی قسم کو چھوڑ دے۔
‘‘ (مسند أحمد: 258/4)
ایک حدیث میں ہے: ’’بہتر کام کر گزرے اور اپنی قسم کا کفارہ دے دے۔
‘‘ (صحیح مسلم، الإیمان، حدیث: 4277 (1651)
عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ” اے عبدالرحمٰن بن سمرہ! امارت و اقتدار کی طلب مت کرنا کیونکہ اگر تم نے اسے مانگ کر حاصل کیا تو تم اس معاملے میں اپنے نفس کے سپرد کر دئیے جاؤ گے ۱؎ اور اگر وہ تمہیں بن مانگے ملی تو اللہ کی توفیق و مدد تمہارے شامل حال ہو گی ۲؎۔“ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 2929]
انسان کا کوئی معاملہ ایسا نہیں۔
جو اللہ عزوجل کی خاص رحمت اور مدد کے بغیر درست ہوسکے جب کہ حکومت تو بہت بڑی اور کٹھن ذمہ داری ہے۔
اس لئے مانگ کر حکومت لینا اللہ کی رحمت سے محرومی کا سبب بنتا ہے۔
2۔
حضرت یوسف ؑ کا یہ فرمانا کہ (اجْعَلْنِي عَلَىٰ خَزَائِنِ الْأَرْضِ) (یوسف:55) مجھے زمین کے خزانوں پر مقرر کر دیجئے۔
کسی منصب کے طلب کےلئے نہیں، بلکہ ایک عمومی پیش کش پر نوعیت کی تعین کے لئے تھا۔
کیونکہ یہ بات اس وقت انہوں نے کہی جب عزیز مصر نے ذمہ داری کی پیشکش کرتے ہوئے کہا کہ (إِنَّكَ الْيَوْمَ لَدَيْنَا مَكِينٌ أَمِينٌ) (یوسف:54) آپ آج سے ہمارے ہاں ذی مرتبہ اور امانت دار ہیں، اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ جب ملک وقوم کے حالات دگرگوں ہوں اور کوئی باصلاحیت فرد نیک نیتی سے یہ سمجھتا ہو کہ وہ اس صورت حال سے عہدہ برآ ہ ہو سکتا ہے۔
تو اس کو آگے آنا چاہیے۔
ایسا شخص اگر امام عادل کے جیسے وصف سے موصوف ہو تو اس کے متعلق بشارتوں کا بھی اعلان ہے۔
عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” منصب طلب مت کرو، اس لیے کہ اگر مانگے سے وہ تمہیں ملا تو تم اسی کے سپرد کر دئیے جاؤ گے ۱؎ اور اگر وہ تمہیں بن مانگے مل گیا تو تمہاری اس میں مدد ہو گی۔“ [سنن نسائي/كتاب آداب القضاة/حدیث: 5386]
(2) ”اکیلا چھوڑ دیا جائے گا“ یعنی نہ اللہ تعالیٰ توفیق عطا فرمائے گا نہ لوگوں کا تعاون حاصل ہوگا۔ ظاہر ہے، پھر صرف بدنامی ہی ہوگی اور ناکامی کا سامنا ہوگا۔ لفظی معنیٰ ہیں: ”تجھے امارت کے سپرد کر دیا جائےگا۔“ (نیز دیکھیے: حدیث:5384)
سیدنا عبدالرحمٰن بن سمرہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ جب تم کسی کام پر قسم کھاؤ اور اس کام کے خلاف کو بہتر دیکھو تو قسم کا کفارہ ادا کر دو اور جو بہتر ہے وہ کر لو۔ “ (بخاری و مسلم) اور بخاری کے الفاظ یہ ہیں کہ ’’ جو کام بہتر ہے اسے کرو اور قسم کا کفارہ ادا کرو۔ “ اور ابوداؤد کی روایت میں اس طرح ہے کہ ’’ اپنی قسم کا کفارہ دے کر وہ کام کرو جو بہتر ہے۔ “ دونوں احادیث کی سند صحیح ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 1173»
«أخرجه البخاري، الأيمان والنذور، باب قول الله تعالي: "لا يؤاخذكم الله باللغو في أيمانكم"، حديث:6622، ومسلم، الأيمان، باب ندب من حلف يمينًا فرأي غير ها خيرًا منها...، حديث:1652، وأبوداود، الأيمان والنذور، حديث:3277.»
تشریح: حدیث کے مجموعی الفاظ کفارے کی ادائیگی قسم توڑنے سے پہلے بھی اسی طرح جائز قرار دیتے ہیں جس طرح قسم توڑنے کے بعد۔
جمہور کا یہی مسلک ہے مگر احناف کے نزدیک قسم کا کفارہ قسم توڑنے سے پہلے ادا کرنا کسی صورت درست نہیں ہے۔
لیکن ابوداود کی مذکورہ حدیث ان کے خلاف حجت ہے کیونکہ اس میں کفارے کے بعد ثُـمَّ کے لفظ سے ’’امر خیر‘‘ کا حکم ہے‘ اور ثُـمَّ کا لفظ ترتیب کا مقتضی ہے۔
راویٔ حدیث:
«حضرت عبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ» ان کی کنیت ابوسعید ہے۔
شرف صحابیت سے مشرف ہیں۔
فتح مکہ کے بعد دائرۂ اسلام میں داخل ہوئے۔
سجستان اور کابل کے فاتح ہیں۔
بصرہ میں سکونت پذیر ہوئے اور یہیں ۵۰ ہجری میں یا اس کے بعد وفات پائی۔