سنن ترمذي
كتاب الأضاحى عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: قربانی کے احکام و مسائل
باب الْعَقِيقَةِ بِشَاةٍ باب: عقیقہ میں ایک بکری ذبح کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1519
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْقُطَعِيُّ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ , عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ , قَالَ : " عَقَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْحَسَنِ بِشَاةٍ , وَقَالَ : يَا فَاطِمَةُ , احْلِقِي رَأْسَهُ , وَتَصَدَّقِي بِزِنَةِ شَعْرِهِ فِضَّةً , قَالَ : فَوَزَنَتْهُ , فَكَانَ وَزْنُهُ دِرْهَمًا أَوْ بَعْضَ دِرْهَمٍ " , قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ , وَإِسْنَادُهُ لَيْسَ بِمُتَّصِلٍ , وَأَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ لَمْ يُدْرِكْ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ .ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حسن کی طرف سے ایک بکری عقیقہ کیا ، اور فرمایا : ” فاطمہ ! اس کا سر مونڈ دو اور اس کے بال کے برابر چاندی صدقہ کرو “ ، فاطمہ رضی الله عنہا نے اس کے بال کو تولا تو اس کا وزن ایک درہم کے برابر یا اس سے کچھ کم ہوا ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ، ۲- اس کی سند متصل نہیں ہے ، اور راوی ابوجعفر الصادق محمد بن علی بن حسین نے علی بن ابی طالب کو نہیں پایا ہے ۔
وضاحت:
۱؎: اس حدیث میں دلیل ہے کہ نومولود کے سر کا بال وزن کر کے اسی کے برابر چاندی صدقہ کیا جائے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عقیقہ میں ایک بکری ذبح کرنے کا بیان۔`
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حسن کی طرف سے ایک بکری عقیقہ کیا، اور فرمایا: ” فاطمہ! اس کا سر مونڈ دو اور اس کے بال کے برابر چاندی صدقہ کرو “، فاطمہ رضی الله عنہا نے اس کے بال کو تولا تو اس کا وزن ایک درہم کے برابر یا اس سے کچھ کم ہوا ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الأضاحى/حدیث: 1519]
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حسن کی طرف سے ایک بکری عقیقہ کیا، اور فرمایا: ” فاطمہ! اس کا سر مونڈ دو اور اس کے بال کے برابر چاندی صدقہ کرو “، فاطمہ رضی الله عنہا نے اس کے بال کو تولا تو اس کا وزن ایک درہم کے برابر یا اس سے کچھ کم ہوا ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الأضاحى/حدیث: 1519]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اس حدیث میں دلیل ہے کہ نومولود کے سرکا بال وزن کرکے اسی کے برابر چاندی صدقہ کیا جائے۔
نوٹ:
(سند میں ’’محمدبن علی ابوجعفرالصادق‘‘ اور ’’علی رضی اللہ عنہ‘‘ کے درمیان انقطاع ہے، مگر حاکم کی راویت (4/237) متصل ہے، نیز اس کے شواہد بھی ہیں جسے تقویت پاکر حدیث حسن لغیرہ ہے)
وضاحت:
1؎:
اس حدیث میں دلیل ہے کہ نومولود کے سرکا بال وزن کرکے اسی کے برابر چاندی صدقہ کیا جائے۔
نوٹ:
(سند میں ’’محمدبن علی ابوجعفرالصادق‘‘ اور ’’علی رضی اللہ عنہ‘‘ کے درمیان انقطاع ہے، مگر حاکم کی راویت (4/237) متصل ہے، نیز اس کے شواہد بھی ہیں جسے تقویت پاکر حدیث حسن لغیرہ ہے)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1519 سے ماخوذ ہے۔