حدیث نمبر: 1515
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ , عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ , عَنْ الرَّبَابِ، عَنْ سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ الضَّبِّيِّ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَعَ الْغُلَامِ عَقِيقَةٌ فَأَهْرِيقُوا عَنْهُ دَمًا , وَأَمِيطُوا عَنْهُ الْأَذَى " , حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ , عَنْ عَاصِمِ بْنِ سُلَيْمَانَ الْأَحْوَلِ , عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ , عَنْ الرَّبَابِ , عَنْ سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ , قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´سلمان بن عامر ضبی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” لڑکے کی پیدائش پر عقیقہ لازم ہے ، لہٰذا اس کی طرف سے خون بہاؤ ( جانور ذبح کرو ) اور اس سے گندگی دور کرو “ ۔ اس سند سے بھی سلمان بن عامر رضی الله عنہ سے اسی جیسی حدیث روایت مروی ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الأضاحى عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 1515
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، ابن ماجة (3164)
تخریج حدیث «صحیح البخاری/العقیقة 2 (5371) ، سنن ابی داود/ الضحایا 21 (2839) ، سنن النسائی/العقیقة 2 (4219) ، سنن ابن ماجہ/الذبائح 1 (3164) ، ( تحفة الأشراف : 4485) ، و مسند احمد (4/17، 18، 214) سنن الدارمی/الأضاحي 9 (2010) (صحیح)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 5471 | سنن ابي داود: 2839 | سنن نسائي: 4219 | سنن ابن ماجه: 3164 | مسند الحميدي: 842

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 4219 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´لڑکے کے عقیقہ کا بیان۔`
سلمان بن عامر ضبی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " لڑکے کی پیدائش پر ۱؎ اس کا عقیقہ ہے، تو اس کی جانب سے خون بہاؤ ۲؎ اور اس سے تکلیف دہ چیز کو دور کرو " ۳؎۔ [سنن نسائي/كتاب العقيقة/حدیث: 4219]
اردو حاشہ: (1) "ذبح کرو" حکم ہے، نیز عقیقہ آپ کا فعل ہے، لہٰذا کم از کم سنت تو ہے اگرچہ بعض اہل علم نے امر کی وجہ سے واجب کہا ہے۔
(2) "میل کچیل دور کرو" مراد سر کے بال ہیں۔ گویا عقیقہ کے ساتھ بچے کا سر بھی مونڈا جائے گا بلکہ ایک روایت کے مطابق اس کے بالوں کے برابر چاندی صدقہ کی جائے۔ بعض نے اس سے ختنہ مراد لیا ہے۔ یا اس سے مراد یہ ہے کہ جانور ذبح کرنے کے بعد اس کا خون بچے کے سر پر نہ ملا جائے جیسا کہ جاہلیت میں رواج تھا۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4219 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 3164 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´عقیقہ کا بیان۔`
سلمان بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: " لڑکے کا عقیقہ ہے تو تم اس کی طرف سے خون بہاؤ، اور اس سے گندگی کو دور کرو۔‏‏‏‏" [سنن ابن ماجه/كتاب الذبائح/حدیث: 3164]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
وہ جانور جو نومولود کی طرف سے ذبح کیا جاتا ہے اسے ’’عقیقہ‘‘ کہتے ہیں۔
لغت میں اس کے معنی: کاٹنا اور شق کرنا ہیں۔
یہ لفظ ہر نوزائیدہ بچے کے ان بالوں پر بھی بولا جاتا ہے جو شکم مادر میں اگے ہوں، اور اسی مناسبت سے اس ذبیحہ کو عقیقہ کہتے ہیں۔

(2)
خون بہانے کا مطلب جانور ذبح کرنا ہے۔

(3)
میل کچیل دور کرنے کا مطلب سر کے بال اتارنا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3164 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: مسند الحميدي / حدیث: 842 کی شرح از محمد ابراہیم بن بشیر ✍️
842- سیدنا سلمان بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ار شاد فر ماتے ہوئے سنا ہے: "بچے کاعقیقہ کیا جائے گا تم اس کی طرف سے خون بہاؤ اور اس سے گندگی دور کردو۔" [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:842]
فائدہ:
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عقیقہ واجب ہے اور یہی رائج ہے۔ «فأهريقوا» امر ہے جو کہ وجوب کے لیے ہے۔ یاد رہے عقیقہ میں لڑکے کی طرف سے دو جانور اور لڑکی کی طرف سے ایک جانور ذبح کرنا مشروع ہے۔ اور جانور بھی چھوٹا کیا جائے گا، مثلاً: بکرا، چھترا، دنبہ۔
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 846 سے ماخوذ ہے۔