سنن ترمذي
كتاب الأضاحى عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: قربانی کے احکام و مسائل
باب الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ الأُضْحِيَةَ سُنَّةٌ باب: قربانی کے سنت ہونے کی دلیل۔
حدیث نمبر: 1507
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ , وَهَنَّادٌ , قَالَا : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ , عَنْ حَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ , عَنْ نَافِعٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , قَالَ : " أَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ عَشْرَ سِنِينَ يُضَحِّي " , قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ .ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں دس سال مقیم رہے اور آپ ( ہر سال ) قربانی کرتے رہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´قربانی کے سنت ہونے کی دلیل۔`
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں دس سال مقیم رہے اور آپ (ہر سال) قربانی کرتے رہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الأضاحى/حدیث: 1507]
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں دس سال مقیم رہے اور آپ (ہر سال) قربانی کرتے رہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الأضاحى/حدیث: 1507]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں ’’حجاج بن ارطاۃ‘‘ مدلس راوی ہیں اور روایت عنعنہ سے ہے)
نوٹ:
(سند میں ’’حجاج بن ارطاۃ‘‘ مدلس راوی ہیں اور روایت عنعنہ سے ہے)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1507 سے ماخوذ ہے۔