سنن ترمذي
كتاب الأضاحى عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: قربانی کے احکام و مسائل
باب مَا يُكْرَهُ مِنَ الأَضَاحِي باب: جن جانوروں کی قربانی مکروہ ہے۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ , حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ , أَخْبَرَنَا شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ , عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ النُّعْمَانِ الصَّائِدِيِّ وَهُوَ الْهَمْدَانِيُّ , عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ , قَالَ : أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنْ نَسْتَشْرِفَ الْعَيْنَ , وَالْأُذُنَ , وَأَنْ لَا نُضَحِّيَ بِمُقَابَلَةٍ , وَلَا مُدَابَرَةٍ , وَلَا شَرْقَاءَ , وَلَا خَرْقَاءَ " , حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ , حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى , أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ , عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ النُّعْمَانِ , عَنْ عَلِيٍّ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ , وَزَادَ , قَالَ : " الْمُقَابَلَةُ : مَا قُطِعَ طَرَفُ أُذُنِهَا , وَالْمُدَابَرَةُ : مَا قُطِعَ مِنْ جَانِبِ الْأُذُنِ , وَالشَّرْقَاءُ : الْمَشْقُوقَةُ , وَالْخَرْقَاءُ : الْمَثْقُوبَةُ " , قَالَ أَبُو عِيسَى , هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ , قَالَ أَبُو عِيسَى , وَشُرَيْحُ بْنُ النُّعْمَانِ الصَّائِدِيُّ هُوَ كُوفِيٌّ مِنْ أَصْحَابِ عَلِيٍّ , وَشُرَيْحُ بْنُ هَانِئٍ كُوفِيٌّ وَلِوَالِدِهِ صُحْبَةٌ مِنْ أَصْحَابِ عَلِيٍّ , وَشُرَيْحُ بْنُ الْحَارِثِ الْكِنْدِيُّ أَبُو أُمَيَّةَ الْقَاضِي , قَدْ رَوَى عَنْ عَلِيٍّ , وَكُلُّهُمْ مِنْ أَصْحَابِ عَلِيٍّ فِي عَصْرٍ وَاحِدٍ , قَوْلُهُ أَنْ نَسْتَشْرِفَ : أَيْ أَنْ نَنْظُرَ صَحِيحًا .´علی بن ابی طالب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ( قربانی والے جانور کی ) آنکھ اور کان اچھی طرح دیکھ لیں ، اور ایسے جانور کی قربانی نہ کریں جس کا کان آگے سے کٹا ہو ، یا جس کا کان پیچھے سے کٹا ہو ، یا جس کا کان چیرا ہوا ہو ( یعنی لمبائی میں کٹا ہوا ہو ) ، یا جس کے کان میں سوراخ ہو ۔ اس سند سے بھی علی رضی الله عنہ سے اسی جیسی حدیث مروی ہے ، اس میں یہ اضافہ ہے کہ «مقابلة» وہ جانور ہے جس کے کان کا کنارہ ( آگے سے ) کٹا ہو ، «مدابرة» وہ جانور ہے جس کے کان کا کنارہ ( پیچھے سے ) کٹا ہو ، «شرقاء» جس کا کان ( لمبائی میں ) چیرا ہوا ہو ، اور «خرقاء» جس کے کان میں ( گول ) سوراخ ہو ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ۲- شریح بن نعمان صائدی ، کوفہ کے رہنے والے ہیں اور علی رضی الله عنہ کے ساتھیوں میں سے ہیں ، ۳- شریح بن ہانی کوفہ کے رہنے والے ہیں اور ان کے والد کو شرف صحبت حاصل ہے اور علی رضی الله عنہ کے ساتھی ہیں ، اور شریح بن حارث کندی ابوامیہ قاضی ہیں ، انہوں نے علی رضی الله عنہ سے روایت کی ہے ، یہ تینوں شریح ( جن کی تفصیل اوپر گزری ) علی رضی الله عنہ کے ساتھی اور ہم عصر ہیں ، ۳- «نستشرف» سے مراد «ننظر صحيحا» ہے یعنی قربانی کے جانور کو ہم اچھی طرح دیکھ لیں ۔
تشریح، فوائد و مسائل
علی بن ابی طالب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ (قربانی والے جانور کی) آنکھ اور کان اچھی طرح دیکھ لیں، اور ایسے جانور کی قربانی نہ کریں جس کا کان آگے سے کٹا ہو، یا جس کا کان پیچھے سے کٹا ہو، یا جس کا کان چیرا ہوا ہو (یعنی لمبائی میں کٹا ہوا ہو)، یا جس کے کان میں سوراخ ہو۔ اس سند سے بھی علی رضی الله عنہ سے اسی جیسی حدیث مروی ہے، اس میں یہ اضافہ ہے کہ «مقابلة» وہ جانور ہے جس کے کان کا کنارہ (آگے سے) کٹا ہو، «مدابرة» وہ جانور ہے جس کے کان کا کنارہ (پیچھے سے) کٹا ہو، «شرقاء» جس کا کان (لمبائی میں) چیر۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب الأضاحى/حدیث: 1498]
وضاحت:
نوٹ:
(سند میں ’’ابواسحاق سبیعی‘‘ مختلط اورمدلس ہیں، نیز ’’شریح‘‘ سے ان کا سماع نہیں، اس لیے سند میں انقطاع بھی ہے، مگر ناک کان دیکھ لینے کا مطلق حکم ثابت ہے)
حجیہ بن عدی سے روایت ہے کہ علی رضی الله عنہ نے کہا: گائے کی قربانی سات آدمیوں کی طرف سے کی جائے گی، حجیہ کہتے ہیں: میں نے پوچھا: اگر وہ بچہ جنے؟ انہوں نے کہا: اسی کے ساتھ اس کو بھی ذبح کر دو ۱؎، میں نے کہا اگر وہ لنگڑی ہو؟ انہوں نے کہا: جب قربان گاہ تک پہنچ جائے تو اسے ذبح کر دو، میں نے کہا: اگر اس کے سینگ ٹوٹے ہوں؟ انہوں نے کہا: کوئی حرج نہیں ۲؎، ہمیں حکم دیا گیا ہے، یا ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ہے کہ ہم ان کی آنکھوں اور کانوں کو خوب دیکھ بھال لیں۔ [سنن ترمذي/كتاب الأضاحى/حدیث: 1503]
وضاحت:
1؎:
یعنی قربانی کے لیے گائے خریدی پھر اس نے بچہ جنا تو بچہ کو گائے کے ساتھ ذبح کردے۔
2؎:
ظاہری مفہوم سے معلوم ہواکہ ایسے جانور کی قربانی علی رضی اللہ عنہ کے نزدیک جائز ہے، لیکن آگے آنے والی علی رضی اللہ عنہ کی مرفوع روایت ان کے اس قول کے مخالف ہے۔
(لیکن وہ ضعیف ہے)
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو حکم دیا کہ قربانی کے جانور کی آنکھ اور کان خوب دیکھ لیں (کہ اس میں ایسا نقص نہ ہو جس کی وجہ سے قربانی درست نہ ہو) اور کانے جانور کی قربانی نہ کریں، اور نہ «مقابلة» کی، نہ «مدابرة» کی، نہ «خرقاء» کی اور نہ «شرقاء» کی۔ زہیر کہتے ہیں: میں نے ابواسحاق سے پوچھا: کیا «عضباء» کا بھی ذکر کیا؟ تو انہوں نے کہا: نہیں («عضباء» اس بکری کو کہتے ہیں جس کے کان کٹے ہوں اور سینگ ٹوٹے ہوں)۔ میں نے پوچھا «مقابلة» کے کیا معنی ہیں؟ کہا: جس کا کان اگلی طرف سے کٹا ہو، پھر میں نے کہا: «مدابرة» کے۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الضحايا /حدیث: 2804]
اس حدیث سے واضح ہے کہ قربانی کے جانور کے کان اور آنکھ وغیرہ کوبغور دیکھ لینا چاہیے۔
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ (قربانی کے جانور) کی آنکھ اور کان غور سے دیکھ لیں (آیا وہ سلامت ہیں یا نہیں)۔ [سنن ابن ماجه/كِتَابُ الْأَضَاحِي/حدیث: 3143]
فوائد و مسائل:
(1)
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جانور کے کان سلامت ہونے چاہییں۔
(2)
آنکھیں دیکھ لینے کا مقصد یہ ہے کہ جانور کی دونوں آنکھیں سلامت ہوں۔
جس کو ایک آنکھ سے نظر نہ آتا ہو اس کی قربانی درست نہیں۔
(3)
قربانی کا اصل مقصد اللہ کے لیے اچھی چیز قربان کرنا ہےاس لیے بے عیب جانور ذبح کرنا چاہیے۔
گوشت کھانا ایک اضافی فائدہ ہےاصل مقصد نہیں۔
ورنہ آنکھ یا کان کا عیب گوشت کھانے کے مقصد میں رکاوٹ نہیں بنتا۔
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ہم (جانوروں کے) آنکھ اور کان دیکھ لیں اور کسی ایسے جانور کی قربانی نہ کریں جس کا کان سامنے سے کٹا ہو، یا جس کا کان پیچھے سے کٹا ہو، اور نہ دم کٹے جانور کی، اور نہ ایسے جانور کی جس کے کان میں سوراخ ہوں۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4377]
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں آنکھ اور کان دیکھ لینے کا حکم دیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4381]
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم قربانی والے جانور کی آنکھ، کان اچھی طرح دیکھ لیں۔ جو جانور یک چشم ہو یا اس کے کان کا سامنے والا یا پیچھے والا حصہ کٹ کر لٹک گیا ہو یا کان درمیان سے کٹا ہوا ہو یا دانت گر پڑے ہوں تو ایسے جانور ہم قربان نہ کریں۔ اسے احمد اور چاروں نے نکالا ہے ترمذی، ابن حبان اور حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 1165»
«أخرجه أبوداود، الضحايا، باب ما يكره من الضحايا، حديث:2804، والترمذي، الأضاحي، حديث:1498، والنسائي، الضحايا، حديث:4379، وابن ماجه، الأضاحي، حديث:3142، وأحمد:1 /95،101، 108، وابن حبان (الإحسان):7 /566، 5890، والحاكم:4 /224.»
تشریح: مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے جبکہ سنن ابی داود اور سنن ابن ماجہ میں اسی روایت کو حسن قرار دیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ فاضل محقق کو یہاں سہو ہو گیا ہے۔
علاوہ ازیں دیگر محققین نے بھی اسے حسن قرار دیا ہے۔
دیکھیے: (الموسوعۃ الحدیثیۃ مسند الإمام أحمد:۲ /۱۳۶‘ و ۲۱۱)
بنابریں مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہونے کے باوجود دیگر شواہد کی بنا پر قابل عمل ہے۔ واللّٰه أعلم