حدیث نمبر: 1496
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ , عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ : " ضَحَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَبْشٍ أَقْرَنَ , فَحِيلٍ يَأْكُلُ فِي سَوَادٍ , وَيَمْشِي فِي سَوَادٍ , وَيَنْظُرُ فِي سَوَادٍ " , قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ , لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگ والے ایک نر مینڈھے کی قربانی کی ، وہ سیاہی میں کھاتا تھا ، سیاہی میں چلتا تھا اور سیاہی میں دیکھتا تھا ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ، ۲- ہم اس کو صرف حفص بن غیاث ہی کی روایت سے جانتے ہیں ۔

وضاحت:
۱؎: یعنی اس کا منہ، اس کے پیر اور اس کی آنکھیں سب کالی تھیں۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الأضاحى عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 1496
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، ابن ماجة (3128) , شیخ زبیر علی زئی: (1496) إسناده ضعيف / د 2796، ن 4395، جه 3128
تخریج حدیث «سنن ابی داود/ الأضاحي 4 (2796) ، سنن النسائی/الضحایا 14 (4395) ، سنن ابن ماجہ/الأضاحی 4 (1328) ، ( تحفة الأشراف : 4297) (صحیح)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن نسائي: 4395 | سنن ابي داود: 2796 | سنن ابن ماجه: 3128

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´کس قسم کے جانور کی قربانی مستحب ہے؟`
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگ والے ایک نر مینڈھے کی قربانی کی، وہ سیاہی میں کھاتا تھا، سیاہی میں چلتا تھا اور سیاہی میں دیکھتا تھا ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الأضاحى/حدیث: 1496]
اردو حاشہ:
وضاحت: 1؎: یعنی اس کا منہ، اس کے پیراوراس کی آنکھیں سب کالی تھیں۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1496 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 4395 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´مینڈھے کا بیان۔`
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگ والے موٹے دنبہ کی قربانی کی جو چلتا تھا سیاہی میں کھاتا تھا سیاہی میں اور دیکھتا تھا سیاہی میں ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4395]
اردو حاشہ: (1) مینڈھے دنبے اور چھترے وغیرہ کی قربانی جائز ہے۔
(2) سینگوں والے مینڈھے کی قربانی کرنا مستحب ہے کیونکہ رسول اللہ ﷺ بذات خود سینگوں والے مینڈھے قربان فرمایا کرتے تھے۔
(3) حدیث مبارکہ سے سینگوں والے، چتکبرے اور نر مینڈھوں کی قربانی کا استحباب معلوم ہوتا ہے، نیز خصی جانور کو قربان کرنا بھی جائز ہے جیسا کہ دوسری حدیث میں آتا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4395 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 2796 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´کس قسم کا جانور قربانی میں بہتر ہوتا ہے؟`
ابوسعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سینگ دار فربہ دنبہ کی قربانی کرتے تھے جو دیکھتا تھا سیاہی میں اور کھاتا تھا سیاہی میں اور چلتا تھا سیاہی میں (یعنی آنکھ کے اردگرد)، نیز منہ اور پاؤں سب سیاہ تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الضحايا /حدیث: 2796]
فوائد ومسائل:
نبی کریم ﷺ نے خصی اور غیر خصی دونوں طرح کے جانوروں کی قربانی کی ہے۔
اس لیے قربانی میں دونوں قسم کے جانور ذبح کیے جا سکتے ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2796 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 3128 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´کن جانوروں کی قربانی مستحب ہے؟`
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایسے مینڈھے کی قربانی کی جو سینگ دار نر تھا، اس کا منہ اور پیر کالے تھے، اور آنکھیں بھی کالی تھیں (یعنی چتکبرا تھا)۔ [سنن ابن ماجه/كِتَابُ الْأَضَاحِي/حدیث: 3128]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
قربانی کا جانور دیکھنے میں بھی خوبصورت ہونا چاہیے۔

(2)
نر(فحيل)
سے مراد یہ ہے کہ وہ خصی نہ تھا
(3)
نر اور خصی دونوں قسم کا جانور قربانی میں دینا جائز ہے۔

(4)
سیاہی میں کھانے چلنے اور دیکھنے کا مطلب یہ ہے کہ اس کا منہ بھی سیاہ تھا اس کے پاؤں بھی کالے تھےاور اسکی آنکھوں کے ارد گرد کی جگہ بھی سیاہ تھی۔
اس طرح کا مینڈھا خوبصورت سمجھا جاتا ہےنیز دیکھنے میں بھی خوبصورت اور بھلا لگتا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3128 سے ماخوذ ہے۔