سنن ترمذي
كتاب الأضاحى عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: قربانی کے احکام و مسائل
باب مَا جَاءَ فِي الأُضْحِيَةِ عَنِ الْمَيِّتِ، باب: میت کی طرف سے قربانی کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْمُحَارِبِيُّ الْكُوفِيُّ , حَدَّثَنَا شَرِيكٌ , عَنْ أَبِي الْحَسْنَاءِ، عَنْ الْحَكَمِ , عَنْ حَنَشٍ , عَنْ عَلِيٍّ " أَنَّهُ كَانَ يُضَحِّي بِكَبْشَيْنِ , أَحَدُهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَالْآخَرُ عَنْ نَفْسِهِ " , فَقِيلَ لَهُ : فَقَالَ : أَمَرَنِي بِهِ يَعْنِي : النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَا أَدَعُهُ أَبَدًا , قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ شَرِيكٍ , وَقَدْ رَخَّصَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنْ يُضَحَّى عَنِ الْمَيِّتِ , وَلَمْ يَرَ بَعْضُهُمْ أَنْ يُضَحَّى عَنْهُ , وقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ : " أَحَبُّ إِلَيَّ أَنْ يُتَصَدَّقَ عَنْهُ , وَلَا يُضَحَّى عَنْهُ , وَإِنْ ضَحَّى , فَلَا يَأْكُلُ مِنْهَا شَيْئًا , وَيَتَصَدَّقُ بِهَا كُلِّهَا " , قَالَ مُحَمَّدٌ , قَالَ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ , وَقَدْ رَوَاهُ غَيْرُ شَرِيكٍ , قُلْتُ لَهُ : أَبُو الْحَسْنَاءِ مَا اسْمُهُ , فَلَمْ يَعْرِفْهُ , قَالَ مُسْلِمٌ اسْمُهُ : الْحَسَنُ .´علی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` وہ دو مینڈھوں کی قربانی کرتے تھے ، ایک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اور دوسرا اپنی طرف سے ، تو ان سے اس بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے بتایا کہ مجھے اس کا حکم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا ہے ، لہٰذا میں اس کو کبھی نہیں چھوڑوں گا ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث غریب ہے ، ہم اس کو صرف شریک کی روایت سے جانتے ہیں ، ۲- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں : علی بن مدینی نے کہا : اس حدیث کو شریک کے علاوہ لوگوں نے بھی روایت کیا ہے ، میں نے ان سے دریافت کیا : راوی ابوالحسناء کا کیا نام ہے ؟ تو وہ اسے نہیں جان سکے ، مسلم کہتے ہیں : اس کا نام حسن ہے ، ۳- بعض اہل علم نے میت کی طرف سے قربانی کی رخصت دی ہے اور بعض لوگ میت کی طرف سے قربانی درست نہیں سمجھتے ہیں ، عبداللہ بن مبارک کہتے ہیں : مجھے یہ چیز زیادہ پسند ہے کہ میت کی طرف سے صدقہ کر دیا جائے ، قربانی نہ کی جائے ، اور اگر کسی نے اس کی طرف سے قربانی کر دی تو اس میں سے کچھ نہ کھائے بلکہ تمام کو صدقہ کر دے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
علی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ وہ دو مینڈھوں کی قربانی کرتے تھے، ایک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اور دوسرا اپنی طرف سے، تو ان سے اس بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے بتایا کہ مجھے اس کا حکم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا ہے، لہٰذا میں اس کو کبھی نہیں چھوڑوں گا ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الأضاحى/حدیث: 1495]
وضاحت:
1؎:
اس ضعیف حدیث، اور قربانی کرتے وقت نبی اکرمﷺ کی دعا: ’’اللهم تقبل من محمد وآل محمد ومن أمة محمد‘‘ سے استدلال کرتے ہوئے بعض علماء کہتے ہیں کہ میت کی جانب سے قربانی کی جا سکتی ہے، پھراختلاف اس میں ہے کہ میت کی جانب سے قربانی افضل ہے یا صدقہ؟ حنابلہ اور اکثر فقہا کے نزدیک قربانی افضل ہے، جب کہ بعض فقہاء کا کہنا ہے کہ قیمت صدقہ کرنا زیادہ افضل ہے۔
صحیح بات یہ ہے کہ قربانی دراصل دیگر عبادات (صوم وصلاۃ) کی طرح زندوں کی عبادت ہے، قربانی کے استثناء کی کوئی دلیل پختہ نہیں ہے، علی رضی اللہ عنہ کی حدیث سخت ضعیف ہے، اور نبی اکرم ﷺ کی قربانی کے وقت کی دعاء سے استدلال زبردستی کا استدلال ہے جیسے بدعتیوں کا قبرستان کی دعاء سے غیر اللہ کو پکار نے پر استدلال کرنا، جب کہ اس روایت کے بعض الفاظ یوں بھی ہیں ’’عمن لم يضح أمتي‘‘ (یعنی میری امت میں سے جو قربانی نہیں کرسکا ہے اس کی طرف سے قبول فرما) اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ ’’میری امت میں سے جو زندہ شخص قربانی کی استطاعت نہ رکھتا ہو اور اس کی وجہ سے قربانی نہ کرسکا ہو اس کی طرف سے یہ قربانی قبول فرما‘‘، نیز امت میں میت کی طرف سے قربانی کا تعامل بھی نہیں رہا ہے۔
(واللہ اعلم بالصواب)
نوٹ:
(سند میں ’’شریک‘‘ حافظے کے کمزورہیں، اور ’’ابوالحسناء‘‘ مجہول، نیز ’’حنش‘‘ کے بارے میں بھی سخت اختلاف ہے)