حدیث نمبر: 1475
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى , حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , عَنْ الثَّوْرِيِّ، عَنْ سِمَاكٍ , عَنْ عِكْرِمَةَ , عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ , قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُتَّخَذَ شَيْءٌ فِيهِ الرُّوحُ غَرَضًا " , قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ , وَالْعَمَلُ عَلَيْهِ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی جاندار کو نشانہ بنانے سے منع فرمایا ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ۲- اہل علم کا اسی پر عمل ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الصيد والذبائح عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 1475
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، ابن ماجة (3187)
تخریج حدیث «صحیح مسلم/الصید 2 (1957) ، سنن النسائی/الضحایا 41 (4448) ، سنن ابن ماجہ/الذبائح 10 (3187) ، ( تحفة الأشراف : 6112) ، و مسند احمد (1/216، 273، 280، 285، 340، 345) (صحیح) (مؤلف اور ابن ماجہ کی سند میں سماک وعکرمہ کی وجہ سے کلام ہے، دیگر کی سند یں صحیح ہیں)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 1956 | سنن ابن ماجه: 3187 | سنن نسائي: 4448 | سنن نسائي: 4449

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´بندھا ہوا جانور جسے تیر مار کر ہلاک کیا گیا ہو کا کھانا مکروہ ہے۔`
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی جاندار کو نشانہ بنانے سے منع فرمایا ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 1475]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(مؤلف اورابن ماجہ کی سند میں سماک وعکرمہ کی وجہ سے کلام ہے، دیگرکی سند یں صحیح ہیں)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1475 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 4449 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´«مجثمہ» (جس جانور کو باندھ کر نشانہ لگا کر مارنے اور اس کو کھانے) کی حرمت کا بیان۔`
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ایسی چیز کو نشانہ نہ بناؤ جس میں روح اور جان ہو۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4449]
اردو حاشہ: جاندار چیز کو نشانہ بنانا ظلم ہے اور ظلم حرام ہے۔ انسان پر ہو یا حیوان پر۔ حتیٰ کہ بے جان چیزوں پر بھی۔ ہر چیز کے ساتھ حسن سلوک فرض ہے۔ (تفصیل کے لیے دیکھئے، حدیث: 4331)
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4449 سے ماخوذ ہے۔