سنن ترمذي
كتاب الصيد والذبائح عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: شکار کے احکام و مسائل
باب مَا جَاءَ فِي صَيْدِ كَلْبِ الْمَجُوسِ باب: مجوسی کے کتے کے شکار کا بیان۔
حدیث نمبر: 1466
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ عِيسَى , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , حَدَّثَنَا شَرِيكٌ , عَنْ الْحَجَّاجِ , عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ أَبِي بَزَّةَ , عَنْ سُلَيْمَانَ الْيَشْكُرِيِّ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ : " نُهِينَا عَنْ صَيْدِ كَلْبِ الْمَجُوسِ " , قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ , لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ , وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ , لَا يُرَخِّصُونَ فِي صَيْدِ كَلْبِ الْمَجُوسِ , وَالْقَاسِمُ بْنُ أَبِي بَزَّةَ هُوَ : الْقَاسِمُ بْنُ نَافِعٍ الْمَكِّيُّ .ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` ہمیں مجوسیوں کے کتے کے شکار سے منع کیا گیا ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث غریب ہے ، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں ، ۲- اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے ، یہ لوگ مجوسی کے کتے کے شکار کی اجازت نہیں دیتے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´مجوسی کے کتے کے شکار کا بیان۔`
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ہمیں مجوسیوں کے کتے کے شکار سے منع کیا گیا ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 1466]
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ہمیں مجوسیوں کے کتے کے شکار سے منع کیا گیا ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 1466]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں دوراوی ’’شریک القاضی‘‘ اور ’’حجاج بن ارطاۃ‘‘ ضعیف ہیں)
نوٹ:
(سند میں دوراوی ’’شریک القاضی‘‘ اور ’’حجاج بن ارطاۃ‘‘ ضعیف ہیں)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1466 سے ماخوذ ہے۔