سنن ترمذي
كتاب الصيد والذبائح عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: شکار کے احکام و مسائل
باب مَا جَاءَ مَا يُؤْكَلُ مِنْ صَيْدِ الْكَلْبِ وَمَا لاَ يُؤْكَلُ باب: کتے کا کون سا شکار کھایا جائے اور کون سا نہ کھایا جائے؟
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ , حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ , حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ , عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ . ح وَالْحَجَّاجُ , عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ أَبِي مَالِكٍ , عَنْ عَائِذِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيَّ , قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّا أَهْلُ صَيْدٍ , قَالَ : " إِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ , وَذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِ , فَأَمْسَكَ عَلَيْكَ فَكُلْ " , قُلْتُ : وَإِنْ قَتَلَ , قَالَ : " وَإِنْ قَتَلَ " , قُلْتُ : إِنَّا أَهْلُ رَمْيٍ قَالَ : " مَا رَدَّتْ عَلَيْكَ قَوْسُكَ فَكُلْ " , قَالَ : قُلْتُ : إِنَّا أَهْلُ سَفَرٍ نَمُرُّ بِالْيَهُودِ , وَالنَّصَارَى , وَالْمَجُوسِ , فَلَا نَجِدُ غَيْرَ آنِيَتِهِمْ , قَالَ : " فَإِنْ لَمْ تَجِدُوا غَيْرَهَا , فَاغْسِلُوهَا بِالْمَاءِ , ثُمَّ كُلُوا فِيهَا , وَاشْرَبُوا " , قَالَ : وَفِي الْبَاب , عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ , قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ , وَعَائِذُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ هُوَ : أَبُو إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيُّ , وَاسْمُ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ : جُرْثُومٌ , وَيُقَالُ : جُرْثُمُ بْنُ نَاشِبٍ , وَيُقَالُ : ابْنُ قَيْسٍ .´ابوثعلبہ خشنی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ہم لوگ شکاری ہیں ؟ ( شکار کے احکام بتائیے ؟ ) آپ نے فرمایا : ” جب تم ( شکار کے لیے ) اپنا کتا چھوڑو اور اس پر اللہ کا نام یعنی بسم اللہ پڑھ لو پھر وہ تمہارے لیے شکار کو روک رکھے تو اسے کھاؤ ؟ میں نے کہا : اگرچہ وہ شکار کو مار ڈالے ، آپ نے فرمایا : ” اگرچہ مار ڈالے ، میں نے عرض کیا : ہم لوگ تیر انداز ہیں ( تو اس کے بارے میں فرمائیے ؟ ) آپ نے فرمایا : ” تمہارا تیر جو شکار کرے اسے کھاؤ “ ، میں نے عرض کیا : ہم سفر کرنے والے لوگ ہیں ، یہود و نصاریٰ اور مجوس کی بستیوں سے گزرتے ہیں اور ان کے برتنوں کے علاوہ ہمارے پاس کوئی برتن نہیں ہوتا ( تو کیا ہم ان کے برتنوں میں کھا لیں ؟ ) آپ نے فرمایا : ” اگر تم اس کے علاوہ کوئی برتن نہ پاس کو تو اسے پانی سے دھو لو پھر اس میں کھاؤ پیو “ ۱؎ ۔ اس باب میں عدی بن حاتم سے بھی روایت ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ۲- ابوثعلبہ خشنی کا نام جرثوم ہے ، انہیں جرثم بن ناشب اور جرثم بن قیس بھی کہا جاتا ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
ابوثعلبہ خشنی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم لوگ شکاری ہیں؟ (شکار کے احکام بتائیے؟) آپ نے فرمایا: ” جب تم (شکار کے لیے) اپنا کتا چھوڑو اور اس پر اللہ کا نام یعنی بسم اللہ پڑھ لو پھر وہ تمہارے لیے شکار کو روک رکھے تو اسے کھاؤ؟ میں نے کہا: اگرچہ وہ شکار کو مار ڈالے، آپ نے فرمایا: ” اگرچہ مار ڈالے، میں نے عرض کیا: ہم لوگ تیر انداز ہیں (تو اس کے بارے میں فرمائیے؟) آپ نے فرمایا: ” تمہارا تیر جو شکار کرے اسے کھاؤ “، میں نے عرض کیا: ہم سفر کرنے والے لوگ ہیں، یہود و نصاریٰ اور مجوس کی بستیوں۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 1464]
وضاحت:
1؎:
حدیث کا ظاہری مفہوم یہ ہے کہ اگر دوسرے برتن موجود ہوں تو یہود ونصاریٰ کے برتن دھولینے کے بعد بھی استعمال میں نہ لائے جائیں۔
(واللہ اعلم)
ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جب تم کسی شکار کو تیر مارو اور تین دن بعد اس جانور کو اس طرح پاؤ کہ تمہارا تیر اس میں موجود ہو تو جب تک کہ اس میں سے بدبو پیدا نہ ہو اسے کھاؤ ۱؎۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصيد /حدیث: 2861]
حسب طلب وضرورت شکار کرنا اوراس کی تلاش میں جانا کوئی معیوب نہیں، معیوب یہ ہے کہ انسان اپنے دیگر دینی ودنیاوی فرائض سے غافل ہوجائے۔
2۔
کھانے پینے کی چیزوں کا ذائقہ اور بو اس انداز سے بگڑ جائے کہ نقصان دہ ہوسکتی ہیں۔
تو استعمال نہیں کرنی چاہیں۔
ہاں اگر کوئی ضرر واضح نہ ہو تو جائز ہے۔
ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے عرض کیا: ” ابوثعلبہ! جس جانور کو تم اپنے تیر و کمان سے یا اپنے کتے سے مارو اسے کھاؤ۔“ ابن حرب کی روایت میں اتنا اضافہ ہے کہ: ” وہ کتا سدھایا ہوا (شکاری) ہو، اور اپنے ہاتھ سے (یعنی تیر سے) شکار کیا ہوا جانور ہو تو کھاؤ خواہ اس کو ذبح کر سکو یا نہ کر سکو۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصيد /حدیث: 2856]
چونکہ کتا چھوڑتے ہوئے یا تیرکمان سے پھینکتے ہوئے بسم اللہ پڑھی جاتی ہے۔
تو جو اس طرح سے مر بھی جائے وہ حلال ہے۔
زندہ ملے تو بسم اللہ پڑھ کر ذبح کرلے۔
ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں سدھائے اور بےسدھائے ہوئے کتوں سے شکار کرتا ہوں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو شکار تم سدھائے ہوئے کتے سے کرو اس پر اللہ کا نام لو “ (یعنی «بِسْمِ اللهِ» کہو) اور کھاؤ، اور جو شکار اپنے غیر سدھائے ہوئے کتے کے ذریعہ کرو اور اس کے ذبح کو پاؤ (یعنی زندہ پاؤ) تو ذبح کر کے کھاؤ (ورنہ نہ کھاؤ کیونکہ وہ کتا جو تربیت یافتہ نہیں ہے تو اس کا مار ڈالنا ذبح کے قائم مقام نہیں ہو سکتا)۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصيد /حدیث: 2855]
بن سدھائے ہوئے کتے کا مارا ہوا حلال نہیں۔
خواہ کتے کو بسم اللہ پڑھ کر چھوڑا گیا ہو۔
ہاں اگر اس کو ذبح کرنے کا موقع مل گیا تو ذبح کے بعد اس کا کھانا جائز ہوگا۔
ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شکاری کتے کے سلسلہ میں فرمایا: ” جب تم اپنے (شکاری) کتے کو چھوڑو، اور اللہ کا نام لے کر (یعنی بسم اللہ کہہ) کر چھوڑو تو (اس کا شکار) کھاؤ اگرچہ وہ اس میں سے کھا لے ۱؎ اور اپنے ہاتھ سے کیا ہوا شکار کھاؤ ۱؎۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصيد /حدیث: 2852]
اصل مسئلہ وہی ہے۔
جو پیچھے کی صحیح احادیث میں گزرا ہے۔
کہ اگر کتے نے شکار میں سے کھایا ہو تو اس کا کھانا جائز نہیں۔
اس لئے بعض علماء نے اس حدیث کو منکر (صحیح احادیث کے خلاف) قرار دیا ہے۔
اور یہی بات زیادہ صحیح ہے۔
اور بعض حضرات اس حدیث کی وجہ سےشکا ر کے کتے کے کھانے کے باوجود اس کی حلت کے قائل ہیں۔
اور بعض نے اس کی یہ تاویل کی ہے۔
کہ شکاری کتے نے پہلے شکار کو پکڑ کر مار ڈالا پھر اس کو مالک کےلئے رکھ چھوڑا اور وہاں سے دور چلا گیا۔
پھر دوباہ واپس آکر کچھ کھا لے تو اس طرح اس کا کھا لینا مضر نہیں۔
مالک کے لئے اس شکار کا کھانا جائز ہے۔
کیونکہ اس نے پہلے تو مالک ہی کےلئے شکار کیا۔
اور اسی کے لئے اسے روکے رکھا اور کھایا اس نے بعد میں ہے اس لئے اس کھانے کا اعتبار نہیں ہوگا۔