حدیث نمبر: 1457
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ , حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ , حَدَّثَنَا هَمَّامٌ , عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الْوَاحِدِ الْمَكِّيِّ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عُقَيْلٍ , أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا , يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ أَخْوَفَ مَا أَخَافُ عَلَى أُمَّتِي عَمَلُ قَوْمِ لُوطٍ " , قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ , إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عُقَيْلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ , عَنْ جَابِرٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مجھے اپنی امت کے بارے میں جس چیز کا سب سے زیادہ خوف ہے وہ قوم لوط کا عمل ( اغلام بازی ) ہے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ، ۲- اور ہم اسے صرف اسی سند «عن عبد الله بن محمد بن عقيل بن أبي طالب عن جابر» سے ہی جانتے ہیں ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الحدود عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 1457
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن، ابن ماجة (2563) , شیخ زبیر علی زئی: (1457) إسناده ضعيف /جه 2563, ابن عقيل :ضعيف (تقدم:997)
تخریج حدیث «سنن ابن ماجہ/الحدود 12 (2563) ، ( تحفة الأشراف : 2367) (حسن)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابن ماجه: 2563

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 2563 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´قوم لوط کے عمل (اغلام بازی) کی سزا کا بیان۔`
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے اپنی امت کے بارے میں سب سے زیادہ جس چیز کا خوف ہے وہ قوم لوط کے عمل یعنی اغلام بازی کا ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الحدود/حدیث: 2563]
اردو حاشہ:
فوائد و  مسائل: (1)
مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قراردیا ہے جبکہ دیگرمحققین نے صیحح قرار دیا ہےلہٰذا مذکورہ روایت صیحح ہونے کی صورت میں درج ذیل مسائل کا استنباط کیا جاسکتا ہے۔
مزیدتفصیل کے لیے دیکھیے:  (الإروء للألبانی رقم: 235)

(2)
رسول اللہ ﷺنے امت کے بارے جن خطرات کا اظہار فرمایا ہمیں چاہیے ان معاملات میں زیادہ احتیاط کریں
(3)
  اگر کوئی شخص اپنے لیے اس گناہ میں ملوث ہونے کا خطر ہ محسوس کرے توفوراً اسے درج ذیل احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہیے:      (1)
اگر وہ غیر شادی شدہ ہے توجلد از جلد شادی کرے تاکہ فطری ضرورت کی تسکین کا جائز ذریعہ میسرآ جائے۔

     (2)
جوفرد فتنے کا باعث بن رہا ہے اسے میل جول کم سےکم کر دے۔

     (3)
ایسے شخص کو نظربھرکے نہ دیکھے نیز اس کے جسمانی محاسن کی طرف توجہ نہ کرے اور غض بصر(نظرجکھا کر رکھنے)
کا اہتمام کرے۔

     (4)
قرآن مجید اور احادیث شریفہ میں سے ایسے مقامات کا مطالعہ کرے جن میں بدکاری کی شناعت اس کے گناہ اور اس پر اللہ کے عذاب نازل ہونے کا ذکر ہے۔

     (5)
اس بات پر غورکرے اس جرم کاعلم عام لوگو ں کوہوگیا توکس قدر بدنامی ہو گی اور یہ بھی غور کرے کہ اللہ تعالیٰ سے اس کا جرم پوشیدہ نہیں۔

     (6)
جذبات کی انگیخت کرنے والی کہانیاں اورناول اور اس قسم کی فلمیں اور ڈرامے وغیرہ دیکھنے سے اجتناب کرے۔

     (7)
نفلی روزے زیادہ رکھے۔

     (8)
اللہ تعالیٰ سے پاک دامنی کی دعا ئیں کرے وغیرہ۔

(4)
اگرکوئی شخص اس گناہ میں ملوث ہو چکا ہے لیکن اس کا راز فاش نہیں ہوا اسے سوچنا چاہیےکہ اگراب تک اللہ تعالیٰ نے پردہ رکھا ہےتوکسی موقع پراسے فاش بھی کرسکتا ہے پھر کتنی شرمندگی اورندامت ہوگی اورقیامت کو جب سب کے سامنے یہ راز فاش ہو گا تو کس قدررسوائی ہوگی۔
یہ سوچ کر فوراً توبہ کرے اورمذکورہ بالااحتیاطی تدابیر اختیار کرے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2563 سے ماخوذ ہے۔