سنن ترمذي
كتاب الحدود عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: حدود و تعزیرات سے متعلق احکام و مسائل
باب مَا جَاءَ فِي الرَّجُلِ يَقَعُ عَلَى جَارِيَةِ امْرَأَتِهِ باب: بیوی کی لونڈی کے ساتھ زنا کرنے والے کے حکم کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ , حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ , عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ , عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ نَحْوَهُ ، قَالَ : وَفِي الْبَاب , عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْمُحَبَّقِ , قَالَ : أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ النُّعْمَانِ فِي إِسْنَادِهِ اضْطِرَابٌ , قَالَ : سَمِعْت مُحَمَّدًا , يَقُولُ : لَمْ يَسْمَعْ قَتَادَةُ مِنْ حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ هَذَا الْحَدِيثَ , إِنَّمَا رَوَاهُ عَنْ خَالِدِ بْنِ عُرْفُطَةَ , وَيُرْوَى عَنْ قَتَادَةَ , أَنَّهُ قَالَ : كُتِبَ بِهِ إِلَى حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ , وَأَبُو بِشْرٍ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ هَذَا أَيْضًا , إنما قَالَ أَبُو عِيسَى : وَقَدِ اخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ , فِي الرَّجُلِ يَقَعُ عَلَى جَارِيَةِ امْرَأَتِهِ , فَرُوِيَ عَنْ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , مِنْهُمْ عَلِيٌّ , وَابْنُ عُمَرَ , أَنَّ عَلَيْهِ الرَّجْمَ , وقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ : لَيْسَ عَلَيْهِ حَدٌّ , وَلَكِنْ يُعَزَّرُ , وَذَهَبَ أَحْمَدُ , وَإِسْحَاق , إِلَى مَا رَوَى النُّعْمَانُ بْنُ بَشِيرٍ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .´اس سند سے بھی` نعمان بن بشیر سے اسی جیسی حدیث آئی ہے ۔ قتادہ کہتے ہیں کہ انہوں نے کہا : حبیب بن سالم کے پاس یہ مسئلہ لکھ کر بھیجا گیا ۱؎ ۔ ابوبشر نے بھی یہ حدیث حبیب بن سالم سے نہیں سنی ، انہوں نے اسے خالد بن عرفطہٰ سے روایت کیا ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- نعمان کی حدیث کی سند میں اضطراب ہے میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا کہ قتادہ نے اس حدیث کو حبیب بن سالم سے نہیں سنا ہے ، انہوں نے اسے خالد بن عرفطہٰ سے روایت کیا ہے ، ۲- اس باب میں سلمہ بن محبق سے بھی روایت ہے ، ۳- بیوی کی لونڈی کے ساتھ زنا کرنے والے کے سلسلے میں اہل علم کا اختلاف ہے ، چنانچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کئی صحابہ سے مروی ہے جن میں علی اور ابن عمر بھی شامل ہیں کہ اس پر رجم واجب ہے ، ابن مسعود کہتے ہیں : اس پر کوئی حد نہیں ہے ، البتہ اس کی تادیبی سزا ہو گی ، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا مسلک اس ( حدیث ) کے مطابق ہے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بواسطہ نعمان بن بشیر آئی ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
اس سند سے بھی نعمان بن بشیر سے اسی جیسی حدیث آئی ہے۔ قتادہ کہتے ہیں کہ انہوں نے کہا: حبیب بن سالم کے پاس یہ مسئلہ لکھ کر بھیجا گیا ۱؎۔ ابوبشر نے بھی یہ حدیث حبیب بن سالم سے نہیں سنی، انہوں نے اسے خالد بن عرفطہٰ سے روایت کیا ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الحدود/حدیث: 1452]
وضاحت:
1؎:
گویا قتادہ نے یہ حدیث حبیب بن سالم سے نہیں سنی ہے۔