حدیث نمبر: 1441
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ , حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ بْنُ قُدَامَةَ , عَنْ السُّدِّيِّ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ , عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، قَالَ : خَطَبَ عَلِيٌّ , فَقَالَ " يَا أَيُّهَا النَّاسُ , أَقِيمُوا الْحُدُودَ عَلَى أَرِقَّائِكُمْ مَنْ أَحْصَنَ مِنْهُمْ , وَمَنْ لَمْ يُحْصِنْ , وَإِنَّ أَمَةً لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَنَتْ , فَأَمَرَنِي أَنْ أَجْلِدَهَا , فَأَتَيْتُهَا فَإِذَا هِيَ حَدِيثَةُ عَهْدٍ بِنِفَاسٍ , فَخَشِيتُ إِنْ أَنَا جَلَدْتُهَا أَنْ أَقْتُلَهَا , أَوْ قَالَ : تَمُوتَ , فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ , فَقَالَ : " أَحْسَنْتَ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ , وَالسُّدِّيُّ اسْمُهُ : إِسْمَاعِيل بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَهُوَ مِنَ التَّابِعِينَ , قَدْ سَمِعَ مِنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ , وَرَأَى حُسَيْنَ بْنَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوعبدالرحمٰن سلمی کہتے ہیں کہ` علی رضی الله عنہ نے خطبہ کے دوران کہا : لوگو ! اپنے غلاموں اور لونڈیوں پر حد قائم کرو ، جس کی شادی ہوئی ہو اس پر بھی اور جس کی شادی نہ ہوئی ہو اس پر بھی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک لونڈی نے زنا کیا ، چنانچہ آپ نے مجھے کوڑے لگانے کا حکم دیا ، میں اس کے پاس آیا تو ( دیکھا ) اس کو کچھ ہی دن پہلے نفاس کا خون آیا تھا ۱؎ لہٰذا مجھے اندیشہ ہوا کہ اگر میں نے اسے کوڑے لگائے تو کہیں میں اسے قتل نہ کر بیٹھوں ، یا انہوں نے کہا : کہیں وہ مر نہ جائے ۲؎ ، چنانچہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا اور آپ سے اسے بیان کیا ، تو آپ نے فرمایا : ” تم نے اچھا کیا “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔

وضاحت:
۱؎: یعنی کچھ ہی دن قبل اس سے ولادت ہوئی تھی۔
۲؎: یہ شک راوی کی طرف سے ہے۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الحدود عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 1441
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، الإرواء (7 / 360)
تخریج حدیث «صحیح مسلم/الحدود 7 (1705) ، ( تحفة الأشراف : 10170) (صحیح)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 1705

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´لونڈیوں پر حد جاری کرنے کا بیان۔`
ابوعبدالرحمٰن سلمی کہتے ہیں کہ علی رضی الله عنہ نے خطبہ کے دوران کہا: لوگو! اپنے غلاموں اور لونڈیوں پر حد قائم کرو، جس کی شادی ہوئی ہو اس پر بھی اور جس کی شادی نہ ہوئی ہو اس پر بھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک لونڈی نے زنا کیا، چنانچہ آپ نے مجھے کوڑے لگانے کا حکم دیا، میں اس کے پاس آیا تو (دیکھا) اس کو کچھ ہی دن پہلے نفاس کا خون آیا تھا ۱؎ لہٰذا مجھے اندیشہ ہوا کہ اگر میں نے اسے کوڑے لگائے تو کہیں میں اسے قتل نہ کر بیٹھوں، یا انہوں نے کہا: کہیں وہ مر نہ جائے ۲؎، چنانچہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا اور آپ سے اسے بیان کیا۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب الحدود/حدیث: 1441]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یعنی کچھ ہی دن قبل اس سے ولادت ہوئی تھی۔

2؎:
یہ شک راوی کی طرف سے ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1441 سے ماخوذ ہے۔