حدیث نمبر: 1437
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ , حَدَّثَنَا شَرِيكٌ , عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ , عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ , " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجَمَ يَهُودِيًّا وَيَهُودِيَّةً " . قَالَ : وَفِي الْبَاب , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , وَالْبَرَاءِ , وَجَابِرٍ , وَابْنِ أَبِي أَوْفَى , وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ جَزْءٍ , وَابْنِ عَبَّاسٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ , وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ , قَالُوا : إِذَا اخْتَصَمَ أَهْلُ الْكِتَابِ , وَتَرَافَعُوا إِلَى حُكَّامِ الْمُسْلِمِينَ , حَكَمُوا بَيْنَهُمْ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ وَبِأَحْكَامِ الْمُسْلِمِينَ , وَهُوَ قَوْلُ : أَحْمَدَ , وَإِسْحَاق , وقَالَ بَعْضُهُمْ : لَا يُقَامُ عَلَيْهِمُ الْحَدُّ فِي الزِّنَا , وَالْقَوْلُ الْأَوَّلُ أَصَحُّ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´جابر بن سمرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودی مرد اور ایک یہودی عورت کو رجم کیا ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- جابر بن سمرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن غریب ہے ، ۲- اس باب میں ابن عمر ، براء ، جابر ، ابن ابی اوفی ، عبداللہ بن حارث بن جزء اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ، ۳- اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے ، وہ کہتے ہیں : جب اہل کتاب آپس میں جھگڑیں اور مسلم حکمرانوں کے پاس اپنا مقدمہ پیش کریں تو ان پر لازم ہے کہ وہ کتاب و سنت اور مسلمانوں کے احکام کے مطابق فیصلہ کریں ، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے ، ۴- بعض لوگ کہتے ہیں : اہل کتاب پر زنا کی حد نہ قائم کی جائے ، لیکن پہلا قول زیادہ صحیح ہے ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: کیونکہ یہ قول اس باب کی احادیث کے مطابق ہے۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الحدود عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 1437
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح بما قبله (1436)
تخریج حدیث «سنن ابن ماجہ/الحدود 10 (2557) ، ( تحفة الأشراف : 2175) (صحیح) (سند میں ’’ شریک القاضی ‘‘ حافظے کے کمزور ہیں، لیکن پچھلی حدیث سے تقویت پا کر یہ حدیث بھی صحیح لغیرہ ہے)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابن ماجه: 2557

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اہل کتاب کو رجم کرنے کا بیان۔`
جابر بن سمرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودی مرد اور ایک یہودی عورت کو رجم کیا۔ [سنن ترمذي/كتاب الحدود/حدیث: 1437]
اردو حاشہ:
وضاحت:
ؔ

1؎:
کیوں کہ یہ قول اس باب کی احادیث کے مطابق ہے۔

نوٹ:
(سند میں ’’شریک القاضی‘‘ حافظے کے کمزور ہیں، لیکن پچھلی حدیث سے تقویت پاکر یہ حدیث بھی صحیح لغیرہ ہے)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1437 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 2557 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´یہودی مرد اور عورت کے رجم کا بیان۔`
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودی اور ایک یہودیہ کو رجم کیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الحدود/حدیث: 2557]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
زنا سابقہ شریعتوں میں بھی جرم تھا اور یہود کے ہاں بھی اس کی سزا رجم ہے۔

(2)
اسلامی حکومت میں غیر مسلموں پر بھی اسلامی سزائیں نافذ ہوتی ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2557 سے ماخوذ ہے۔