سنن ترمذي
كتاب الحدود عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: حدود و تعزیرات سے متعلق احکام و مسائل
باب مَا جَاءَ فِي السَّتْرِ عَلَى الْمُسْلِمِ باب: مسلمان کے عیب پر پردہ ڈالنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ , حَدَّثَنَا اللَّيْثُ , عَنْ عُقَيْلٍ , عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ , عَنْ أَبِيهِ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ لَا يَظْلِمُهُ وَلَا يُسْلِمُهُ , وَمَنْ كَانَ فِي حَاجَةِ أَخِيهِ , كَانَ اللَّهُ فِي حَاجَتِهِ , وَمَنْ فَرَّجَ عَنْ مُسْلِمٍ كُرْبَةً , فَرَّجَ اللَّهُ عَنْهُ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ , وَمَنْ سَتَرَ مُسْلِمًا , سَتَرَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ .´عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مسلمان مسلمان کا بھائی ہے ۱؎ ، نہ اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ اس کی مدد چھوڑتا ہے ، اور جو اپنے بھائی کی حاجت پوری کرنے میں لگا ہو اللہ اس کی حاجت پوری کرنے میں لگا ہوتا ہے ، جو اپنے کسی مسلمان کی پریشانی دور کرتا ہے اللہ اس کی وجہ سے اس سے قیامت کی پریشانیوں میں سے کوئی پریشانی دور کرے گا ، اور جو کسی مسلمان کے عیب پر پردہ ڈالے گا اللہ قیامت کے دن اس کے عیب پر پردہ ڈالے گا “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” مسلمان مسلمان کا بھائی ہے ۱؎، نہ اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ اس کی مدد چھوڑتا ہے، اور جو اپنے بھائی کی حاجت پوری کرنے میں لگا ہو اللہ اس کی حاجت پوری کرنے میں لگا ہوتا ہے، جو اپنے کسی مسلمان کی پریشانی دور کرتا ہے اللہ اس کی وجہ سے اس سے قیامت کی پریشانیوں میں سے کوئی پریشانی دور کرے گا، اور جو کسی مسلمان کے عیب پر پردہ ڈالے گا اللہ قیامت کے دن اس کے عیب پر پردہ ڈالے گا۔“ [سنن ترمذي/كتاب الحدود/حدیث: 1426]
وضاخت: 1؎:
اللہ تعالیٰ کے فرمان: ﴿إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ﴾ (الحجرات: 10) کا بھی یہی مفہوم ہے۔
(1)
اس حدیث میں ترغیب ہے کہ مسلمانوں کو آپس میں تعاون اور اچھا معاملہ کرنا چاہیے اور جو گناہ کسی سے سرزد ہو جائے اس کی پردہ پوشی کی جائے، البتہ وہ گناہ جو انسان سے سرزد ہو سکتے ہیں اور خطرہ ہے کہ اگر مسلمان بھائی کو بروقت متنبہ نہ کیا تو وہ گناہ کا مرتکب ہو جائے گا تو ایسے گناہ سے اسے روکنا ضروری ہے۔
حدیث کے راویوں پر جرح و تعدیل کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔
اس سلسلے میں پردہ پوشی سے کام نہیں لینا چاہیے کیونکہ ان پر جرح کرنا غیبت میں شمار نہیں ہوتا۔
اسی طرح اگر کسی کے متعلق گواہی دینی پڑے تو بھی ٹھیک ٹھیک گواہی دینی چاہیے کیونکہ درست گواہی معاشرے کا حق ہے۔
ایسے حالات میں اسے قانون سے چھپانے کی کوشش کرنا اور مجرم کی پردہ پوشی کرنا جرم ہے۔
(2)
اس حدیث سے یہ بھی اشارہ ملتا ہے کہ انسان کو کسی دوسرے شخص کی غیبت نہیں کرنی چاہیے کیونکہ اس سے کسی کی پردہ دری ہوتی ہے، اس طرح انسان خود اللہ تعالیٰ کی پردہ پوشی سے محروم ہو جاتا ہے۔
(فتح الباري: 121/5)
اللہ رب العالمین بخاری شریف مطالعہ کرنے والے ہر بھائی بہن کو اس حدیث شریف پر عمل کی توفیق بخشے۔
آمین۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، وہ نہ (خود) اس پر ظلم کرتا ہے، اور نہ اسے (کسی ظالم) کے حوالہ کرتا ہے، جو شخص اپنے بھائی کی کوئی حاجت پوری کرنے میں لگا رہتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کی حاجت کی تکمیل میں لگا رہتا ہے، اور جو کسی مسلمان کی کوئی مصیبت دور کرے گا، تو اس کے بدلہ میں اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے مصائب و مشکلات میں سے اس سے کوئی مصیبت دور فرمائے گا، اور جو کوئی کسی مسلمان کی پردہ پوشی کرے گا تو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کی پردہ پوشی فرمائے گا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4893]
دوسرے مسلمان بہن بھائیوں، عزیزوں، رشتے داروں، ہمسائیوں اور احباب کے احوال کی خبر رکھنی چاہیئے۔
بالخصوص مشکلات میں ان سے بے پر واہ ہو جانا اور اُنھیں انکے احوال پر چھوڑ دینا خلافِ شریعت اور بہت بری خصلت ہے۔