حدیث نمبر: 1420
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاق الْهَمْدَانِيُّ , قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْكُوفِيُّ شَيْخٌ ثِقَةٌ , عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ , حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ طَلْحَةَ , قَالَ سُفْيَانُ , وَأَثْنَى عَلَيْهِ خَيْرًا , قَال : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو , يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أُرِيدَ مَالُهُ بِغَيْرِ حَقٍّ فَقَاتَلَ فَقُتِلَ فَهُوَ شَهِيدٌ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَسَنِ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ طَلْحَةَ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس آدمی کا مال ناحق چھینا جائے اور وہ اس کی حفاظت کے لیے دفاع کرتا ہوا مارا جائے تو وہ شہید ہے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ اس سند سے بھی عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی الله عنہما نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کی ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الديات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 1420
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح انظر ما قبله (1419)
تخریج حدیث «انظر ما قبلہ (صحیح)»

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 2480 کی شرح از حافظ عمران ایوب لاہوری ✍️
´کوئی شخص کسی کے مال، جان یا عزت پر حملہ کرے تو اس سے لڑائی کی جا سکتی ہے`
«. . . عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" مَنْ قُتِلَ دُونَ مَالِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ . . .»
. . . عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص اپنے مال کی حفاظت کرتے ہوئے قتل کر دیا گیا وہ شہید ہے . . . [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَظَالِمِ: 2480]
فہم الحدیث:
ایک دوسری روایت میں مال کے ساتھ دین، اہل و عیال اور نفس کا بھی ذکر ہے۔ [صحيح جامع الصغير: 6445، نسائي: 4095، ترمذي: 1421]
اس سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی شخص کسی کے مال، جان یا عزت پر حملہ کرے تو اس سے لڑائی کی جا سکتی ہے اور اس دوران اگر اپنا دفاع کرنے والا قتل کر دیا جائے تو وہ شہید ہے اور اگر حملہ کرنے والا مارا جائے تو اس کا خون رائیگاں جائے گا، نہ تو قاتل پر اس کا کوئی گناہ ہو گا اور نہ ہی اس سے قصاص و دیت کا مطالبہ کیا جائے گا۔
درج بالا اقتباس جواہر الایمان شرح الولووالمرجان، حدیث/صفحہ نمبر: 85 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 2480 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
2480. حضرت عبد اللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے، انھوں نے کہا: میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتےہوئے سنا: ’’جو شخص اپنے مال کی حفاظت کرتے ہوئے مارا جائے وہ شہید ہے۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:2480]
حدیث حاشیہ: کیوں کہ وہ مظلوم ہے، نسائی کی روایت میں یوں ہے کہ اس کے لیے جنت ہے، اور ترمذی کی روایت میں اتنا زیادہ ہے اور جو اپنی جان بچانے میں مارا جائے اور جو اپنے گھر والوں کو بچانے میں مارا جائے یہ سب شہید ہیں۔
آج کل اطراف عالم میں جو صدہا مسلمان ناحق قتل کیے جارہے ہیں۔
وہ سب اس حدیث کی رو سے شہیدوں میں داخل ہیں کیوں کہ وہ محض مسلمان ہونے کے جرم میں قتل کیے جارہے ہیں إنا للہ و إنا إلیه راجعون
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2480 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 2480 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
2480. حضرت عبد اللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے، انھوں نے کہا: میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتےہوئے سنا: ’’جو شخص اپنے مال کی حفاظت کرتے ہوئے مارا جائے وہ شہید ہے۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:2480]
حدیث حاشیہ:
امام بخارى ؒ کا مقصد یہ ہے کہ انسان کو اپنا اور اپنے مال کا دفاع کرنا چاہیے کیونکہ اگر قتل ہو گیا تو درجۂ شہادت مل جائے گا اور اگر اس نے قتل کر دیا تو اس پر دیت یا قصاص نہیں، چنانچہ حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک آدمی آیا اور عرض کرنے لگا: اللہ کے رسول! اگر کوئی چور مجھ سے میرا مال لینا چاہے تو میں کیا کروں؟ آپ نے فرمایا: ’’اسے اپنا مال مت دو۔
‘‘ اس نے کہا: اگر وہ مجھے قتل کرنا چاہے؟ آپ نے فرمایا: ’’اس سے قتال کر۔
‘‘ اس نے کہا: اگر وہ مجھے قتل کر دے؟ فرمایا: ’’تو شہید ہے۔
‘‘ اس نے کہا: اگر میں اسے قتل کر دوں؟ فرمایا: ’’وہ آگ میں ہو گا۔
‘‘ (صحیح مسلم، الإیمان، حدیث: 360(140)
مذکورہ حدیث کتاب المظالم میں اس لیے بیان کی گئی ہے کہ اگر کوئی شخص کسی کے مال پر قبضہ کرنا چاہے تو وہ اپنے مال کا دفاع کر سکتا ہے، خواہ وہ خود ہی کیوں نہ مارا جائے یا اسے قتل ہی کیوں نہ کر دیا جائے۔
واللہ أعلم
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2480 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 141 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
عمرو بن عبد الرحمٰنؒ کے آزاد کردہ غلام ثابتؒ سے روایت ہے کہ جب عبداللہ بن عمروؓ اور عنبسہ بن ابی سفیانؓ کے درمیان اختلاف پیدا ہوا اور وہ لڑائی کے لیے تیار ہو گئے، تو خالد بن عاصؓ سوار ہو کر عبداللہ بن عمروؓ کے پاس گئے اور اسے نصیحت کی تو عبداللہ بن عمرو ؓ نے جواب دیا: کیا تمھیں معلوم نہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا: ’’جو اپنے مال کی حفاظت میں قتل کر دیا گیا وہ شہید ہے۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:361]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل:
عنبسہ بن ابی سفیانؓ، حضرت عبداللہ بن عمروؓ کے باغ سے زبردستی پانی کی گزر گاہ بنانا چاہتے تھے، اس لیے حضرت عبداللہ ؓ اپنے باغ کے تحفظ کے لیے لڑائی کے لیے آمادہ ہوگئے تھے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 141 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 1419 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´اپنے مال کی حفاظت کرتے ہوئے مارا جانے والا آدمی شہید ہے۔`
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اپنے مال کی حفاظت کرتے ہوئے مارا جائے وہ شہید ہے۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/كتاب الديات/حدیث: 1419]
اردو حاشہ:
وضاخت: 1؎:
مفہوم یہ ہے کہ اگر کوئی کسی دوسرے شخص کا ناحق مال لینا چاہتا ہے تو یہ دیکھے بغیر کہ مال کم ہے یا زیادہ مظلوم کو یہ حق حاصل ہے کہ اپنے مال کی حفاظت کے لیے اس کا دفاع کرے، دفاع کرتے وقت غاصب اگر مارا جائے تو دفاع کرنے والے پر قصاص اور دیت میں سے کچھ بھی نہیں ہے اور اگر دفاع کرنے والا مارا جائے تو وہ شہید ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1419 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 4093 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´جو اپنا مال بچانے میں مارا جائے۔`
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ناحق جس کا مال چھینا جائے اور وہ لڑے پھر مارا جائے وہ شہید ہے۔‏‏‏‏ (امام نسائی کہتے ہیں:) یہ حدیث غلط ہے، صحیح سعیر بن خمس کی حدیث ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4093]
اردو حاشہ: امام نسائی رحمہ اللہ کا مقصد ہے کہ یہ روایت بواسطہ عبداللہ بن حسن، عکرمہ سے صحیح ہے جیسا کہ سعیر بن خمس نے بیان کیا ہے، نہ کہ بواسطۂ عبداللہ بن حسن عن ابراہیم بن محمد جیسا کہ سفیان ثوری نے بیان کیا ہے۔ لیکن امام صاحب رحمہ اللہ کا سفیان کی حدیث کو خطا کہنا محل نظر ہے کیونکہ ثوری ثقہ اور حافظ ہیں اور پھر وہ منفرد بھی نہیں بلکہ عبدالعزیز بن مطلب نے ان کی متابعت کی ہے۔ اس روایت کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے بیان کیا ہے اور حسن کہا ہے۔ گویا اس روایت میں عبداللہ بن حسن کے دو استاد ہیں: عکرمہ اور ابراہیم بن محمد۔ اور روایت دونوں طریق سے صحیح ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھئے: (ذخیرة العقبی، شرح سنن النسائي: 32/73)
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4093 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 4091 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´جو اپنا مال بچانے میں مارا جائے۔`
عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اپنے مال کی حفاظت کرتے ہوئے مظلوم مارا گیا اس کے لیے جنت ہے۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4091]
اردو حاشہ: دیکھئے، حدیث: 4089۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4091 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 4089 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´جو اپنا مال بچانے میں مارا جائے۔`
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جو اپنا مال بچانے کے لیے لڑا اور مارا گیا تو وہ شہید ہے۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4089]
اردو حاشہ: شہید ہے یعنی شہید کی طرح اس کی بھی مغفرت ہو جائے گی۔ اسے اجر عظیم حاصل ہو گا کیونکہ وہ مظلوم مارا گیا۔ شہید بھی مظلوم مارا جاتا ہے۔ البتہ اس پر شہید فی سبیل اللہ والے احکام لاگو نہ ہوں گے، مثلاً: اسے عام میت کی طرح غسل دیا جائے گا اور اس کا جنازہ پڑھا جائے گا۔ میدان جنگ کے علاوہ جن کو شہید کہا گیا ہے، ان کا حکم بھی یہی ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ مظلوم شہید ہوئے تھے مگر انہیں غسل دیا گیا تھا اور ان کا جنازہ بھی پڑھا گیا تھا۔ حضرت علی اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا معاملہ بھی یہی ہوا۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4089 سے ماخوذ ہے۔