حدیث نمبر: 142
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَرْقَمِ، قَالَ : أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَأَخَذَ بِيَدِ رَجُلٍ فَقَدَّمَهُ وَكَانَ إِمَامَ قَوْمِهِ ، وَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ وَوَجَدَ أَحَدُكُمُ الْخَلَاءَ فَلْيَبْدَأْ بِالْخَلَاءِ " . قَالَ : وَفِي الْبَاب عَنْ عَائِشَةَ , وَأَبِي هُرَيْرَةَ , وَثَوْبَانَ , وَأَبِي أُمَامَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَرْقَمِ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، هَكَذَا رَوَى مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ , وَيَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ وَغَيْرُ وَاحِدٍ مِنَ الْحُفَّاظِ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَرْقَمِ ، وَرَوَى وُهَيْبٌ وَغَيْرُهُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَرْقَمِ ، وَهُوَ قَوْلُ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالتَّابِعِينَ ، وَبِهِ يَقُولُ أَحْمَدُ , وَإِسْحَاق ، قَالَا : لَا يَقُومُ إِلَى الصَّلَاةِ وَهُوَ يَجِدُ شَيْئًا مِنَ الْغَائِطِ وَالْبَوْلِ ، وَقَالَا : إِنْ دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ فَوَجَدَ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ فَلَا يَنْصَرِفْ مَا لَمْ يَشْغَلْهُ ، وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ : لَا بَأْسَ أَنْ يُصَلِّيَ وَبِهِ غَائِطٌ أَوْ بَوْلٌ مَا لَمْ يَشْغَلْهُ ذَلِكَ عَنِ الصَّلَاةِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عروہ سے روایت ہے کہ` عبداللہ بن ارقم رضی الله عنہ اپنی قوم کے امام تھے ، نماز کھڑی ہوئی تو انہوں نے ایک شخص کا ہاتھ پکڑ کر اسے ( امامت کے لیے ) آگے بڑھا دیا اور کہا : میں نے رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے : ” جب نماز کے لیے اقامت ہو چکی ہو اور تم میں سے کوئی قضائے حاجت کی ضرورت محسوس کرے تو وہ پہلے قضائے حاجت کے لیے جائے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- عبداللہ بن ارقم رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے ، ۲- اس باب میں عائشہ ، ابوہریرہ ، ثوبان اور ابوامامہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ، ۳- اور یہی قول نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے صحابہ اور تابعین میں کئی لوگوں کا ہے ۔ احمد ، اسحاق بن راہویہ بھی یہی کہتے ہیں کہ جب آدمی کو پیشاب پاخانہ کی حاجت محسوس ہو تو وہ نماز کے لیے نہ کھڑا ہو ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر وہ نماز میں شامل ہو گیا ، پھر نماز کے دوران اس کو اس میں سے کچھ محسوس ہو تو وہ اس وقت تک نماز نہ توڑے جب تک یہ حاجت ( نماز سے ) اس کی توجہ نہ ہٹا دے ۔ بعض اہل علم نے کہا ہے کہ پاخانے یا پیشاب کی حاجت کے ساتھ نماز پڑھ لینے میں کوئی حرج نہیں جب تک کہ یہ چیزیں نماز سے اس کی توجہ نہ ہٹا دیں ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الطهارة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 142
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، ابن ماجة (616)
تخریج حدیث «سنن ابی داود/ الطہارة 43 (88) ، سنن النسائی/الإمامة 51 (853) ، سنن ابن ماجہ/الطہارة 114 (616) ، ( تحفة الأشراف : 5141) ، موطا امام مالک/ صلاة السفر 17 (49) ، مسند احمد (4/35) ، سنن الدارمی/الصلاة 137 (1467) (صحیح)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 88 | سنن نسائي: 853 | سنن ابن ماجه: 616 | مسند الحميدي: 896

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 88 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´کیا آدمی پیشاب و پاخانہ روک کر نماز پڑھ سکتا ہے`
«. . . إِذَا أَرَادَ أَحَدُكُمْ أَنْ يَذْهَبَ الْخَلَاءَ وَقَامَتِ الصَّلَاةُ، فَلْيَبْدَأْ بِالْخَلَاءِ . . .»
. . . جب تم میں سے کسی کو پاخانہ کی حاجت ہو اور اس وقت نماز کھڑی ہو چکی ہو تو وہ پہلے قضائے حاجت (پیشاب و پاخانہ) کے لیے جائے . . . [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ: 88]
فوائد و مسائل:
➊ نماز کی قبولیت میں خشوع و خضوع انتہائی بنیادی امر ہے۔ اس کے لیے پوری پوری محنت اور کوشش کرنی چاہیے اور ہر اس حالت سے بچنا چاہئیے، جو اس میں خلل انداز ہو سکتی ہو۔ لہٰذا بیت الخلاء جانے کی ضرورت محسوس ہو رہی ہو تو پہلے اس سے فارغ ہونا چاہیے۔
➋ ایسے ہی کھانے کا مسئلہ ہے جب کھانا تیار ہو اور بھوک بھی ہو تو پہلے کھانا کھا لینا چاہیے۔ جیسے کہ درج ذیل حدیث میں آ رہا ہے۔
➌ لمبے سفروں میں مسنون یہ ہے کہ اجتماعیت قائم رکھی جائے۔ ایک شخص کو اپنا امیر سفر بنا لیا جائے جیسے کہ سیدنا عبداللہ بن ارقم رضی اللہ عنہ کے بارے میں اوپر بیان ہوا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 88 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 853 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´جماعت چھوڑنے کے عذر کا بیان۔`
عروہ روایت کرتے ہیں کہ عبداللہ بن ارقم رضی اللہ عنہ اپنے لوگوں کی امامت کرتے تھے، ایک دن نماز کا وقت آیا، تو وہ اپنی حاجت کے لیے چلے گئے، پھر واپس آئے اور کہنے لگے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے سنا ہے: جب تم میں سے کوئی پاخانہ کی حاجت محسوس کرے، تو نماز سے پہلے اس سے فارغ ہو لے۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 853]
853۔ اردو حاشیہ: ➊ اس دن وہ خود تشریف نہ لائے تھے۔ اپنی جگہ ایک آدمی بھیج دیا تھا جس نے امامت کروائی۔ نماز کے بعد پہنچے تو معذرت فرمائی۔
➋ قضائے حاجت محسوس ہو تو نماز سے پہلے فارغ ہولینا چاہیے، خواہ جماعت گزر ہی جائے کیونکہ فراغت کے بغیر نماز کی صورت میں توجہ ہٹتی رہے گی، ذہن منتشر رہے گا اور پیٹ میں گڑبڑ ہوتی رہے گی۔ فراغت کے بعد سکون سے نماز پڑھی جائے گی۔ باقی رہا جماعت کا ثواب تو ان شاء اللہ جماعت کے پابند شخص کو عذر کی صورت میں ملے گا جیسا کہ شرعی اصل (اصول) ہے۔ واللہ أعلم۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 853 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 616 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´پیشاب یا پاخانہ روک کر نماز پڑھنے کی ممانعت۔`
عبداللہ بن ارقم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی شخص قضائے حاجت کا ارادہ کرے، اور نماز کے لیے اقامت کہی جائے، تو پہلے قضائے حاجت سے فارغ ہو لے۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 616]
اردو حاشہ:
اس کی حکمت یہ ہے کہ اگر اسی کیفیت میں نماز شروع کرے گا تو توجہ نماز کی طرف نہیں ہوسکے گیا اور اطمینان سے نماز ادا نہیں کرسکے گا، اس لیے ضروری ہے کہ اس حاجت سے فارغ ہوکر نماز شروع کرے تاکہ توجہ اور اطمینان سے نماز پڑھ سکے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 616 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: مسند الحميدي / حدیث: 896 کی شرح از محمد ابراہیم بن بشیر ✍️
896- سیدنا عبداللہ بن ارقم زہری رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے ایک مرتبہ وہ مکہ تشریف لے جا رہے تھے کچھ لوگ ان کے ساتھ تھے وہ ان کی امامت کیا کرتے تھے۔ ایک دن انہوں نے نماز کے لیے اقامت کہی اور ایک اور شخص کو آگے کر دیا اور یہ بات بیان کی: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: جب نماز کے لیے اقامت کہہ لی جائے اور کسی شخص کو قضائے حاجت کی ضرورت محسوس ہو، تو اسے پہلے قضائے حاجت کر لینی چاہیے۔ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:896]
فائدہ:
اس حدیث میں نماز کے آداب میں سے ایک اہم ادب کا ذکر ہے کہ اگر قضائے حاجت کی ضرورت ہو تو پہلے اس سے فارغ ہونا چاہیے، پھر نماز پڑھنی چاہیے، خواد جماعت کے بغیر ہی پڑھنی پڑھے۔ کیونکہ اگر قضائے حاجت کی ضرورت بھی ہو اور انسان ویسے ہی نماز پڑھے تو نماز میں خشوع و خضوع نہیں ہو گا، اس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ ہر وہ کام جس سے نماز میں توجہ بٹ جائے، وہ نہیں کرنا چاہیے۔
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 895 سے ماخوذ ہے۔