سنن ترمذي
كتاب الديات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: دیت و قصاص کے احکام و مسائل
باب مَا جَاءَ فِي الْقِصَاصِ باب: قصاص کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ , أَنْبَأَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ , عَنْ شُعْبَةَ , عَنْ قَتَادَةَ , قَال : سَمِعْتُ زُرَارَةَ بْنَ أَوْفَى يُحَدِّثُ , عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ , أَنَّ رَجُلًا عَضَّ يَدَ رَجُلٍ , فَنَزَعَ يَدَهُ , فَوَقَعَتْ ثَنِيَّتَاهُ , فَاخْتَصَمَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " يَعَضُّ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ , كَمَا يَعَضُّ الْفَحْلُ , لَا دِيَةَ لَكَ " , فَأَنْزَلَ اللَّهُ : وَالْجُرُوحَ قِصَاصٌ سورة المائدة آية 45 . قَالَ : وَفِي الْبَاب : عَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ , وَسَلَمَةَ بْنِ أُمَيَّةَ وَهُمَا أَخَوَانِ , قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .´عمران بن حصین رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` ایک آدمی نے ایک آدمی کا ہاتھ کاٹ کھایا ، اس نے اپنا ہاتھ کھینچا تو دانت کاٹنے والے کے دونوں اگلے دانت ٹوٹ گئے ، وہ دونوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنا معاملہ لے گئے تو آپ نے فرمایا : ” تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو اونٹ کے کاٹنے کی طرح کاٹ کھاتا ہے ، تمہارے لیے کوئی دیت نہیں ، پھر اللہ نے یہ آیت نازل کی : «والجروح قصاص» ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- عمران بن حصین رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے ، ۲ - اس باب میں یعلیٰ بن امیہ اور سلمہ بن امیہ رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں اور یہ دونوں بھائی ہیں ۔
تشریح، فوائد و مسائل
عمران بن حصین رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے ایک آدمی کا ہاتھ کاٹ کھایا، اس نے اپنا ہاتھ کھینچا تو دانت کاٹنے والے کے دونوں اگلے دانت ٹوٹ گئے، وہ دونوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنا معاملہ لے گئے تو آپ نے فرمایا: " تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو اونٹ کے کاٹنے کی طرح کاٹ کھاتا ہے، تمہارے لیے کوئی دیت نہیں، پھر اللہ نے یہ آیت نازل کی: «والجروح قصاص» ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الديات/حدیث: 1416]
وضاخت: 1؎:
یعنی: زخموں کا بھی بدلہ ہے۔
(المائدہ: 45)، لہٰذا جن میں قصاص لینا ممکن ہے ان میں قصاص لیاجائے گا اور جن میں ممکن نہیں ان میں قاضی اپنے اجتہاد سے کام لے گا۔
استعدي: نصرت و اعانت طلب کی۔
فوائد ومسائل: کوئی آدمی اس بات کو گوارا نہیں کرتا کہ دوسرا آدمی اس کا ہاتھ چبانے لگے، اور وہ اپنا ہاتھ اس کے منہ میں چھوڑ دے کہ وہ اسے چباتا رہے، یہ ایک طبعی اور انسانی فطرت ہے، اس لیے اس پر مؤاخذہ کیسے ہو سکتا ہے، اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے واقعاتی اور نفسیاتی انداز میں اس کو بات سمجھا دی کہ تیرا مطالبہ درست نہیں ہے، اگر تو ہوتا، تو تو بھی اپنا ہاتھ اس کے منہ سے کھینچ لیتا۔
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے ایک آدمی کا ہاتھ کاٹ لیا، اس نے اپنا ہاتھ کھینچا، تو اس کا ایک دانت ٹوٹ کر گر گیا (یا دو دانت) اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فریاد کی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: " تم مجھ سے کیا کہنا چاہتے ہو؟ کیا یہ کہ میں اسے حکم دوں کہ وہ اپنا ہاتھ تمہارے منہ میں دئیے رہے تاکہ تم اسے جانور کی طرح چبا ڈالو، اگر تم چاہو تو اپنا ہاتھ اسے دو تاکہ وہ اسے چبائے پھر اگر چاہو تو اسے کھینچ لینا " ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4762]
(2) اس حدیث مبارکہ سے ثابت ہوا کہ فیصلہ کرانے کے لیے حاکم وقت کے پاس مقدمہ پیش کرنا درست ہے، نیز یہ بھی ثابت ہوا کہ انسان خود بخود ہی قصاص لینا شروع نہ کر دے۔ ایسا کرنے سے ظلم وزیادتی اور شر وفساد پھیلنے کا اندیشہ ہے جس سے معاشرے کا امن وامان تباہ ہوگا۔
(3) بوقت ضرورت آدمی کو جانور کے ساتھ تشبیہ دینا جائز ہے۔ اس کا اصل مقصد ایسے برے فعل سے نفرت دلانا ہوتا ہے جو اس کے شایانِ شان نہ ہو۔ یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس شخص کے اس غلط کام کو جانور کے کام کے ساتھ تشبیہ دی ہے۔
(4) اس حدیث مبارکہ سے یہ بھی ثابت ہوا کہ حملہ آور سے اپنا دفاع کرنا، شرعاً درست اور جائز ہے۔ بالخصوص جب اس کے بغیر خلاصی ناممکن ہو۔ اس دوران حملہ آور کا اگر کوئی عضو ضائع بھی ہو جائے تو دفاع کرنے والے سے قصاص نہیں لیا جائے گا جیسا کہ حدیث میں مذکور ہاتھ چبانے والے شخص کا دانت اکھڑ گیا اور آپ نے اس کی کوئی قیمت نہ لگائی۔
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نے دوسرے کے بازو کو کاٹا، اس نے اپنا ہاتھ کھینچا تو اس کا سامنے کا دانت گر گیا، مقدمہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو باطل قرار دیا، اور فرمایا: " تم میں سے ایک (دوسرے کے ہاتھ کو) ایسے چباتا ہے جیسے اونٹ۔" [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2657]
فوائد و مسائل:
(1)
جس پر حملہ کیا جائے وہ اپنے دفاع کا حق رکھتا ہے۔
(2)
اس کوشش میں اگر حملہ آور کو نقصان پہنچ جائے تو اسے دوسرے سے جرمانہ نہیں دلایا جائے گا۔
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ یعلیٰ بن امیہ رضی اللہ عنہ کی ایک شخص سے لڑائی ہو گئی۔ ایک نے دوسرے کو دانتوں سے کاٹا تو اس نے اپنا ہاتھ اس کے منہ سے کھینچ کر باہر نکالا تو اس کا سامنے کا دانت ٹوٹ کر گر گیا۔ دونوں اپنا جھگڑا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عدالت میں لے گئے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ کیا تم ایک دوسرے کو اس طرح کاٹ کھاتے ہو جس طرح نر اونٹ کاٹتا ہے۔ اس کے لیے کوئی دیت نہیں۔ " (بخاری و مسلم) اور یہ الفاظ مسلم کے ہیں۔ «بلوغ المرام/حدیث: 1028»
«أخرجه البخاري، الديات، باب إذا عض رجلاً فوقعت ثناياه، حديث:6892، ومسلم، القسامة، باب الصائل علي نفس الإنسان وعضوه، إذا دفعه...، حديث:1673.»
تشریح: اس حدیث سے ثابت ہوا کہ کسی شخص کی طرف سے پہنچنے والے نقصان اور ضرر کو دور کرنے کے لیے اگر انسان سے کوئی جرم ہو جائے تو وہ جرم قابل مؤاخذہ نہیں۔
جمہور کا یہی مذہب ہے۔