سنن ترمذي
كتاب الطهارة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: طہارت کے احکام و مسائل
بَابُ مَا جَاءَ فِي الاِسْتِتَارِ عِنْدَ الْحَاجَةِ باب: قضائے حاجت کے وقت پردہ کرنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ الْمُلَائِيُّ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِذَا أَرَادَ الْحَاجَةَ لَمْ يَرْفَعْ ثَوْبَهُ حَتَّى يَدْنُوَ مِنَ الْأَرْضِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَكَذَا رَوَى مُحَمَّدُ بْنُ رَبِيعَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَنَسٍ هَذَا الْحَدِيثَ ، وَرَوَى وَكِيعٌ , وَأَبُو يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، قَالَ : قَالَ ابْنُ عُمَرَ : " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ الْحَاجَةَ لَمْ يَرْفَعْ ثَوْبَهُ حَتَّى يَدْنُوَ مِنَ الْأَرْضِ " . وَكِلَا الْحَدِيثَيْنِ مُرْسَلٌ ، وَيُقَالُ : لَمْ يَسْمَعْ الْأَعْمَشُ مِنْ أَنَسٍ وَلَا مِنْ أَحَدٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَدْ نَظَرَ إِلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : رَأَيْتُهُ يُصَلِّي ، فَذَكَرَ عَنْهُ حِكَايَةً فِي الصَّلَاةِ ، وَالْأَعْمَشُ اسْمُهُ : سُلَيْمَانُ بْنُ مِهْرَانَ أَبُو مُحَمَّدٍ الْكَاهِلِيُّ ، وَهُوَ مَوْلًى لَهُمْ ، قَالَ الْأَعْمَشُ : كَانَ أَبِي حَمِيلًا فَوَرَّثَهُ مَسْرُوقٌ .´انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم جب قضائے حاجت کا ارادہ فرماتے تو جب تک زمین سے بالکل قریب نہ ہو جاتے اپنے کپڑے نہیں اٹھاتے تھے ۔ دوسری سند میں اعمش سے روایت ہے ، ابن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم جب قضائے حاجت کا ارادہ فرماتے کپڑے جب تک زمین سے قریب نہیں ہو جاتے نہیں اٹھاتے تھے ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ دونوں احادیث مرسل ہیں ، اس لیے کہ کہا جاتا ہے : دونوں احادیث کے راوی سلیمان بن مہران الأعمش نے نہ ہی تو انس بن مالک رضی الله عنہ سے سماعت کی ہے اور نہ ہی کسی اور صحابی سے ، صرف اتنا ہے کہ انس کو صرف انہوں نے دیکھا ہے ، اعمش کہتے ہیں کہ میں نے انہیں نماز پڑھتے دیکھا ہے پھر ان کی نماز کی کیفیت بیان کی ۔
تشریح، فوائد و مسائل
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم جب قضائے حاجت کا ارادہ فرماتے تو جب تک زمین سے بالکل قریب نہ ہو جاتے اپنے کپڑے نہیں اٹھاتے تھے۔ دوسری سند میں اعمش سے روایت ہے، ابن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم جب قضائے حاجت کا ارادہ فرماتے کپڑے جب تک زمین سے قریب نہیں ہو جاتے نہیں اٹھاتے تھے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الطهارة/حدیث: 14]
1؎:
یہاں مرسل سے ’’منقطع‘‘ مراد ہے، اس کی تشریح خود امام ترمذیؒ نے کردی ہے کہ اعمش کا انس رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں ہے، ویسے عام اصطلاحی مرسل: وہ حدیث ہوتی ہے جس کی سند کے آخر سے تابعی کے بعد والا راوی ساقط ہو، ا یسی روایت ضعیف ہوتی ہے کیونکہ اس میں اتصالِ سند مفقود ہوتا ہے جو صحیح حدیث کی ایک لازمی شرط ہے، اسی طرح محذوف راوی کا کوئی تعین نہیں ہوتا، ممکن ہے وہ کوئی غیر صحابی ہو، اس صورت میں اس کے ضعیف ہونے کا احتمال بڑھ جاتا ہے۔
اور انقطاع کا مطلب یہ ہے کہ سند میں کوئی راوی چھوٹا ہوا ہے۔
«. . . أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَرَادَ حَاجَةً لا يَرْفَعُ ثَوْبَهُ حَتَّى يَدْنُوَ مِنَ الْأَرْضِ . . .»
”. . . نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب قضائے حاجت (پیشاب و پاخانہ) کا ارادہ فرماتے تو اپنا کپڑا (شرمگاہ سے اس وقت تک) نہ اٹھاتے جب تک کہ زمین سے قریب نہ ہو جاتے تھے۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ: 14]
یہ روایت ضعیف ہے تاہم بہتر یہی ہے کہ انسان کو علیحدگی میں بھی عریاں (ننگا) ہونے سے ازحد احتیاط کرنی چاہیے، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ اس بات کا زیادہ حقدار ہے کہ اس سے حیا کی جائے۔