حدیث نمبر: 1395
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ , وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ , حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ , عَنْ شُعْبَةَ , عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَزَوَالُ الدُّنْيَا أَهْوَنُ عَلَى اللَّهِ مِنْ قَتْلِ رَجُلٍ مُسْلِمٍ " . حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو , نَحْوَهُ وَلَمْ يَرْفَعْهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى : وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ أَبِي عَدِيٍّ , قَالَ : وَفِي الْبَاب , عَنْ سَعْدٍ , وَابْنِ عَبَّاسٍ , وَأَبِي سَعِيدٍ , وَأَبِي هُرَيْرَةَ , وَعُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ , وَابْنِ مَسْعُودٍ , وَبُرَيْدَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو , هَكَذَا رَوَاهُ ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ شُعْبَةَ , عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ , عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَرَوَى مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , وَغَيْرُ وَاحِدٍ , عَنْ شُعْبَةَ , عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ , فَلَمْ يَرْفَعْهُ , وَهَكَذَا رَوَى سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ , عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ مَوْقُوفًا , وَهَذَا أَصَحُّ مِنَ الْحَدِيثِ الْمَرْفُوعِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عمرو کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” دنیا کی بربادی اللہ کے نزدیک ایک مسلمان کے قتل ہونے سے کہیں زیادہ کمتر و آسان ہے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- ہم سے محمد بن بشار نے بسند «محمد بن جعفر حدثنا شعبة عن يعلى بن عطاء عن أبيه عن عبد الله بن عمرو» اسی طرح روایت کی ہے ، لیکن انہوں نے اسے مرفوع نہیں کیا ہے ، ۲- یہ روایت ابن ابی عدی کی روایت کے بالمقابل زیادہ صحیح ہے ( یعنی موقوف ہونا زیادہ صحیح ہے ) ، ۳- عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کی حدیث کو ابن ابی عدی نے شعبہ سے ، بسند «يعلى بن عطاء عن أبيه عن عبد الله بن عمرو عن النبي صلى الله عليه وسلم» اسی طرح روایت کیا ہے ، جب کہ محمد بن جعفر اور ان کے علاوہ دوسروں نے شعبہ سے بسند «يعلى بن عطاء» روایت کیا ہے ، لیکن انہوں نے اسے مرفوع نہیں کیا ہے ، اسی طرح سفیان ثوری نے یعلیٰ بن عطاء سے موقوفا روایت کی ہے اور یہ ( موقوف روایت ابن ابی عدی کی ) مرفوع حدیث سے زیادہ صحیح ہے ، ۴- اس باب میں سعد ، ابن عباس ، ابوسعید ، ابوہریرہ ، عقبہ بن عامر ، ابن مسعود اور بریدہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الديات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 1395
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح غاية المرام (439)
تخریج حدیث «سنن النسائی/المحاربة 2 (3992) ، ( تحفة الأشراف : 8887) (صحیح)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن نسائي: 3991 | سنن نسائي: 3992 | معجم صغير للطبراني: 926

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 3991 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´ناحق خون کرنے کی سنگینی کا بیان۔`
عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! کسی مومن کا (ناحق) قتل اللہ کے نزدیک پوری دنیا تباہ ہونے سے کہیں زیادہ بڑی چیز ہے " " ۱؎۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: ابراہیم بن مہاجر زیادہ قوی راوی نہیں ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 3991]
اردو حاشہ: یعنی اگر دنیا مومنین کے بغیر فرض کر لی جائے تو دنیا و مافیہا کی تباہی اللہ تعالیٰ کے نزدیک ایک مومن کی جان ناحق ضائع ہونے سے ہلکی ہے۔ یا کوئی بالفرض ساری دنیا جو مومنین سے خالی فرض کر لیا جائے، کو ہلاک کر دے تو اس کا گناہ ایک مومن کے ناحق قتل کے گناہ سے بہت کم ہے۔ مقصد مومن اور ایمان کی اہمیت کو ظاہر کرنا ہے جسے اس فرضی صورت سے ظاہر کر دیا گیا ہے۔ عرف میں یہ انداز عام ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3991 سے ماخوذ ہے۔