حدیث نمبر: 1387
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ , أَخْبَرَنَا حَبَّانُ وَهُوَ ابْنُ هِلَالٍ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ , أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى , عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ جَدِّهِ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ قَتَلَ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا دُفِعَ إِلَى أَوْلِيَاءِ الْمَقْتُولِ , فَإِنْ شَاءُوا قَتَلُوا , وَإِنْ شَاءُوا أَخَذُوا الدِّيَةَ , وَهِيَ ثَلَاثُونَ حِقَّةً , وَثَلَاثُونَ جَذَعَةً , وَأَرْبَعُونَ خَلِفَةً , وَمَا صَالَحُوا عَلَيْهِ فَهُوَ لَهُمْ , وَذَلِكَ لِتَشْدِيدِ الْعَقْلِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کیا اسے مقتول کے وارثوں کے حوالے کیا جائے گا ، اگر وہ چاہیں تو اسے قتل کر دیں اور چاہیں تو اس سے دیت لیں ، دیت کی مقدار تیس حقہ ، تیس جذعہ اور چالیس خلفہ ۱؎ ہے اور جس چیز پر وارث مصالحت کر لیں وہ ان کے لیے ہے اور یہ دیت کے سلسلہ میں سختی کی وجہ سے ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : عبداللہ بن عمرو کی حدیث حسن غریب ہے ۔

وضاحت:
۱؎: حاملہ اونٹنی اس کی جمع خلفات و خلائف آتی ہے۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الديات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 1387
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن، ابن ماجة (2626)
تخریج حدیث «سنن ابی داود/ الدیات 4 (4506) ، سنن ابن ماجہ/الدیات 21 (2659) ، ( تحفة الأشراف : 8708) (حسن)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 4506 | سنن ابن ماجه: 2626

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´دیت میں دئیے جانے والے اونٹوں کی تعداد کا بیان۔`
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کیا اسے مقتول کے وارثوں کے حوالے کیا جائے گا، اگر وہ چاہیں تو اسے قتل کر دیں اور چاہیں تو اس سے دیت لیں، دیت کی مقدار تیس حقہ، تیس جذعہ اور چالیس خلفہ ۱؎ ہے اور جس چیز پر وارث مصالحت کر لیں وہ ان کے لیے ہے اور یہ دیت کے سلسلہ میں سختی کی وجہ سے ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الديات/حدیث: 1387]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
حاملہ اونٹنی اس کی جمع خلفات وخلائف آتی ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1387 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 4506 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´مقتول کا وارث دیت لینے پر راضی ہو جائے تو اس کے حکم کا بیان۔`
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی کافر کے بدلے مومن کو قتل نہیں کیا جائے گا، اور جو کسی مومن کو دانستہ طور پر قتل کرے گا، وہ مقتول کے وارثین کے حوالے کر دیا جائے گا، وہ چاہیں تو اسے قتل کریں اور چاہیں تو دیت لے لیں۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الديات /حدیث: 4506]
فوائد ومسائل:
مومن کو کافر کے بدلے قتل نہیں کیا جا سکتا، یہ مسئلہ آگے حدیث4530 میں آرہا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4506 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 2626 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´قتل عمد میں مقتول کے ورثاء دیت پر راضی ہو جائیں تو اس کے حکم کا بیان۔`
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے قصداً کسی کو قتل کر دیا، تو قاتل کو مقتول کے وارثوں کے حوالہ کر دیا جائے گا، وہ چاہیں تو اسے قتل کر دیں، اور چاہیں تو دیت لے لیں، دیت (خوں بہا) میں تیس حقہ، تیس جذعہ اور چالیس حاملہ اونٹنیاں ہیں، قتل عمد کی دیت یہی ہے، اور باہمی صلح سے جو بھی طے پائے وہ مقتول کے ورثاء کو ملے گا، اور سخت دیت یہی ہے۔ ۱؎ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2626]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
قتل عمد کی صورت میں قصاص اور دیت دونوں جائز ہیں۔

(2)
دیت کی مقدار میں مقتول کے وارثوں کی رضامندی سے کمی ہوسکتی ہے، اضافہ نہیں ہوسکتا۔

(3)
قتل کی تین سورتیں ہیں۔

قتل عمد: اس سے مراد وہ قتل ہے جس میں حملہ آور کا مقصد قتل کرنا ہوتا ہے، چنانچہ وہ تلوار یا کسی ایسے ہتھیار سے حملہ کرتا ہے جسے سے مضروب عام طور پر بچ نہیں سکتا۔
اس قتل کی صورت میں دیت کی وہ مقدار مقرر ہے جو حدیث میں بیان ہوئی ہے۔

 قتل شبہ عمد: اس سے مراد یہ ہے کہ حملہ آور نے ایسی چیز سے حملہ کیا جس سے مضروب عام طور پر مرتا نہیں، مثلاً لاٹھی کی ضرب، حملہ آور کا مقصد چوٹ لگانا یا زخمی کرنا تھا لیکن مصروب چوٹ یا زخموں کو برداشت نہ کرتے ہوئے فوت ہوگیا۔
اس کی دیت بھی قتل عمد کےبرابر ہے۔

 قتل خطا: اس سے مراد یہ ہے کہ قاتل کا ارادہ اس کو قتل کرنے یا نقصان پہنچانے کا نہ تھا۔
اتفاقاً اس سے بلا ارادہ قتل ہوگیا، مثلا: کسی ہرن وغیرہ پر فائر کیا یا تیر چلایا مگر نشانہ چوک گیا، یا اچانک  انسان سامنے آ گیا اور فائر یا تیر اسے جا لگا اور وہ مرگیا۔
اس کی دیت بھی سواونٹ ہی ہے لیکن ان کی عمر کم مقرر کی گئی ہے۔
اور حاملہ ہونے کی شرط نہیں ہے۔
دیکھئے، حدیث: 2630)
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2626 سے ماخوذ ہے۔