سنن ترمذي
كتاب الأحكام عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے احکامات اور فیصلے
باب مَا ذُكِرَ فِي إِحْيَاءِ أَرْضِ الْمَوَاتِ باب: غیر آباد زمین آباد کرنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ , أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ , عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ أَحْيَى أَرْضًا مَيِّتَةً فَهِيَ لَهُ , وَلَيْسَ لِعِرْقٍ ظَالِمٍ حَقٌّ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ , وَقَدْ رَوَاهُ بَعْضُهُمْ , عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا , وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا الْحَدِيثِ عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ , وَهُوَ قَوْلُ : أَحْمَدَ , وَإِسْحَاق , قَالُوا لَهُ : أَنْ يُحْيِيَ الْأَرْضَ الْمَوَاتَ بِغَيْرِ إِذْنِ السُّلْطَانِ , وَقَدْ قَالَ بَعْضُهُمْ : لَيْسَ لَهُ أَنْ يُحْيِيَهَا إِلَّا بِإِذْنِ السُّلْطَانِ , وَالْقَوْلُ الْأَوَّلُ أَصَحُّ , قَالَ : وَفِي الْبَاب , عَنْ جَابِرٍ , وَعَمْرِو بْنِ عَوْفٍ الْمُزَنِيِّ جَدِّ كَثِيرٍ , وَسَمُرَةَ , حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى , قَالَ : سَأَلْتُ أَبَا الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيَّ عَنْ قَوْلِهِ : وَلَيْسَ لِعِرْقٍ ظَالِمٍ حَقٌّ , فَقَالَ : الْعِرْقُ الظَّالِمُ : الْغَاصِبُ الَّذِي يَأْخُذُ مَا لَيْسَ قُلْتُ : هُوَ الرَّجُلُ الَّذِي يَغْرِسُ فِي أَرْضِ غَيْرِهِ . قَالَ : هُوَ ذَاكَ .´سعید بن زید رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے کوئی بنجر زمین ( جو کسی کی ملکیت میں نہ ہو ) آباد کی تو وہ اسی کی ہے کسی ظالم شخص کی رگ کا حق نہیں “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ، ۲- بعض لوگوں نے اسے ہشام بن عروہ سے انہوں نے اپنے والد عروہ سے اور عروہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسلاً روایت کی ہے ، ۳- صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کا اسی حدیث پر عمل ہے اور احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی یہی قول ہے ، یہ لوگ کہتے ہیں کہ حاکم کی اجازت کے بغیر غیر آباد زمین کو آباد کرنا جائز ہے ، ۴- بعض علماء کہتے ہیں : حاکم کی اجازت کے بغیر غیر آباد زمین کو آباد کرنا جائز نہیں ہے ، لیکن پہلا قول زیادہ صحیح ہے ، ۵- اس باب میں جابر ، کثیر کے دادا عمرو بن عوف مزنی اور سمرہ سے بھی احادیث آئی ہیں ، ۶- ہم سے ابوموسیٰ محمد بن مثنی نے بیان کیا ، وہ کہتے ہیں کہ میں نے ابوولید طیالسی سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قول «وليس لعرق ظالم حق» کا مطلب پوچھا ، انہوں نے کہا : «العرق الظالم» سے مراد وہ غاصب ہے جو دوسروں کی چیز زبردستی لے ۔ میں نے کہا : اس سے مراد وہ شخص ہے جو دوسرے کی زمین میں درخت لگائے ؟ انہوں نے کہا : وہی شخص مراد ہے ۔