سنن ترمذي
كتاب الأحكام عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے احکامات اور فیصلے
باب مَا جَاءَ فِي الشُّفْعَةِ لِلْغَائِبِ باب: غائب (جو شخص موجود نہ ہو) کے شفعہ کا بیان۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ , حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْوَاسِطِيُّ , عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ , عَنْ عَطَاءٍ , عَنْ جَابِرٍ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْجَارُ أَحَقُّ بِشُفْعَتِهِ يُنْتَظَرُ بِهِ وَإِنْ كَانَ غَائِبًا إِذَا كَانَ طَرِيقُهُمَا وَاحِدًا " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ , وَلَا نَعْلَمُ أَحَدًا رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ غَيْرَ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ , عَنْ عَطَاءٍ , عَنْ جَابِرٍ , وَقَدْ تَكَلَّمَ شُعْبَةُ فِي عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ , مِنْ أَجْلِ هَذَا الْحَدِيثِ , وَعَبْدُ الْمَلِكِ : هُوَ ثِقَةٌ مَأْمُونٌ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ , وَلَا نَعْلَمُ أَحَدًا تَكَلَّمَ فِيهِ غَيْرَ شُعْبَةَ , مِنْ أَجْلِ هَذَا الْحَدِيثِ , وَقَدْ رَوَى وَكِيعٌ , عَنْ شُعْبَةَ , عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ , هَذَا الْحَدِيثَ , وَرُوِي عَنْ ابْنِ الْمُبَارَكِ , عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ , قَالَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ : مِيزَانٌ يَعْنِي : فِي الْعِلْمِ وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا الْحَدِيثِ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنَّ الرَّجُلَ أَحَقُّ بِشُفْعَتِهِ , وَإِنْ كَانَ غَائِبًا فَإِذَا قَدِمَ فَلَهُ الشُّفْعَةُ وَإِنْ تَطَاوَلَ ذَلِكَ .´جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پڑوسی اپنے پڑوسی ( ساجھی ) کے شفعہ کا زیادہ حقدار ہے ، جب دونوں کا راستہ ایک ہو تو اس کا انتظار کیا جائے گا ۱؎ اگرچہ وہ موجود نہ ہو “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث غریب ہے ، ہم عبدالملک بن سلیمان کے علاوہ کسی کو نہیں جانتے ہیں جس نے اس حدیث کو عطاء سے اور عطاء نے جابر سے روایت کی ہو ، ۲- شعبہ نے عبدالملک بن سلیمان پر اسی حدیث کی وجہ سے کلام کیا ہے ۔ محدثین کے نزدیک عبدالملک ثقہ اور مامون ہیں ، شعبہ کے علاوہ ہم کسی کو نہیں جانتے ہیں جس نے عبدالملک پر کلام کیا ہو ، شعبہ نے بھی صرف اسی حدیث کی وجہ سے کلام کیا ہے ۔ اور وکیع نے بھی یہ حدیث شعبہ سے اور شعبہ نے عبدالملک بن ابی سلیمان سے روایت کی ہے ۔ اور ابن مبارک نے سفیان ثوری سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا : عبدالملک بن سفیان میزان ہیں یعنی علم میں ، ۲- اہل علم کا اسی حدیث پر عمل ہے کہ آدمی اپنے شفعہ کا زیادہ حقدار ہے اگرچہ وہ غائب ہی کیوں نہ ہو ، جب وہ ( سفر وغیرہ ) سے واپس آئے گا تو اس کو شفعہ ملے گا گرچہ اس پر لمبی مدت گزر چکی ہو ۔
تشریح، فوائد و مسائل
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” پڑوسی اپنے پڑوسی (ساجھی) کے شفعہ کا زیادہ حقدار ہے، جب دونوں کا راستہ ایک ہو تو اس کا انتظار کیا جائے گا ۱؎ اگرچہ وہ موجود نہ ہو۔“ [سنن ترمذي/كتاب الأحكام/حدیث: 1369]
وضاحت:
1؎:
یہ حدیث اس بات پردلیل ہے کہ غیرحاضرشخص کا شفعہ باطل نہیں ہو تا، نیز اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ شفعہ کے لیے مجرد ہمسائیگی ہی کافی نہیں بلکہ اس کے لیے راستے میں اشتراک بھی ضروری ہے، اس کی تائید ذیل کے اس ارشاد سے بھی ہوتی ہے کہ ’’جب حدبندی ہوجائے اورراستے جدا جدا ہو جائیں تو پھر شفعہ کا استحقاق نہیں رہتا‘‘۔
(1)
جب شرکاء مشترکہ چیز تقسیم کر لیں تو پھر شفعے اور رجوع کا حق باقی نہیں رہتا کیونکہ معاشرے کا استحکام اسی بنیاد پر ہے کہ جب معاہدہ طے پا جائے تو رجوع کا حق ساقط ہو جائے۔
اگر ایسے حالات میں رجوع کا حق دیا جائے تو معاشرہ عدم استحکام کا شکار ہو جائے گا اور ریاست میں انتشار اور بدنظمی پھیلے گی۔
ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ بیس سال پہلے خرید و فروخت کا ایک معاہدہ ہوا اور آج کسی کو شفعے کا حق دیا جائے تو اس طریقے سے تو کوئی کاروبار نہیں چل سکتا۔
(2)
حدیث میں شفعے کا ذکر ہے جبکہ باب میں رجوع کا بھی ذکر کیا گیا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اگر شرکاء کو شفعے کا حق نہ رہے تو رجوع کا حق بالاولیٰ ختم ہو جائے گا کیونکہ اگر رجوع کا حق تسلیم کیا جائے تو شفعے کا بالاولیٰ تسلیم کرنا پڑے گا۔
جب نفئ شفعہ نفئ رجوع کو لازم ہے تو امام بخاری ؒ نے شفعے کے ساتھ رجوع کا بھی ذکر کر دیا۔
واللہ أعلم
جیسے مکان، زمین، باغ وغیرہ کیوں کہ جائیداد منقولہ میں بالاجماع شفعہ نہیں ہے اور عطاءکا قول شاذ ہے جو کہتے ہیں کہ ہر چیز میں شفعہ ہے۔
یہاں تک کہ کپڑے میں بھی۔
یہ حدیث شافعیہ کے مذہب کی تائید کرتی ہے کہ ہمسایہ کو شفعہ کا حق نہیں ہے صرف شریک کو ہے۔
یہاں امام بخاری ؒنے یہ حدیث لاکر باب کا مطلب اس طرح سے نکالا ہے کہ جب شریک کو شفعہ کا حق ہوا تو وہ دوسرے شریک کا حصہ خرید لے گا۔
پس ایک شریک کا اپنا حصہ دوسرے شریک کے ہاتھ بیع کرنا بھی جائز اور یہی ترجمہ باب ہے۔
شفعہ اس حق کو کہا جاتا ہے جو کسی پڑوسی یا کسی ساجھی کو اپنے دوسرے پڑوسی یا ساجھی کی جائیداد میں اس وقت تک باقی رہتا ہے جب تک وہ ساجھی یا پڑوسی اپنی اس جائیداد کو فروخت نہ کردے۔
شریعت کا حکم یہ ہے کہ ایسی جائیداد کی خرید و فروخت میں حق شفعہ رکھنے والا اس کا مجاز ہے کہ جائیداد اگر کسی غیر نے خرید لی تو وہ اس پر دعویٰ کرے اور وہ بیع اول کو فسخ کرا کر خود اسے خرید لے ایسے معاملات میں اولیت حق شفعہ رکھنے والے ہی کو حاصل ہے۔
باقی اس سلسلہ کی بہت سی تفصیلات ہیں۔
جن میں سے کچھ حضرت امام بخاری ؒ نے یہاں احادیث کی روشنی میں بیان بھی کر دی ہیں۔
مروجہ محمڈن لاء (بھارت)
میں اس کی بہت سی صورتیں مذکور ہیں۔
(1)
اس مال سے مراد غیر منقولہ جائیداد ہے،مثلاً: مکان، زمین اور باغ وغیرہ کیونکہ منقول جائیداد میں بالاتفاق کسی کو شفعے کا حق نہیں۔
(2)
ابن بطال ؒ فرماتے ہیں: امام بخاری ؒ کا مقصد مشترک چیز کی خریدوفروخت کا جواز ثابت کرنا ہے، یعنی یہ بیع اجنبی کی بیع کی طرح صحیح ہوگی۔
دوسرے حضرات فرماتے ہیں: عنوان سے مقصود شریک کو ترغیب دینا ہے کہ اگر وہ اپنا حصہ فروخت کرنا چاہے تو شریک کے پاس بیچے کیونکہ اگر کسی دوسرے کو فروخت کرے گا تو شریک کو شفعے کا حق ہوگا۔
(فتح الباري: 515/4)
علامہ عینی فرماتے ہیں: اس عنوان کی غرض شریک کو رغبت دلانا ہے کہ اگر وہ اپنا حصہ فروخت کرنا چاہے تو اسے شریک کے پاس فروخت کرے کیونکہ جب شریک فروخت کردہ حصہ بذریعہ عدالت لے سکتا ہے تو رضامندی سے اسے فروخت کرنا زیادہ بہتر ہے،ایسا کرنا اس کی خوش دلی کا باعث ہے۔
(عمدة القاري: 521/8)
واضح رہے کہ شفعے کے متعلق احکام ومسائل آئندہ کتاب الشفعہ میں بیان ہوں گے۔
بإذن الله.
1۔
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے شفعے کے سلسلے میں حیلے سازوں کے اقوال میں تناقض ثابت کرنے کے لیے چار صورتیں ذکر کی ہیں جن میں پہلی صورت یہاں بیان کی ہے فرماتے ہیں کہ انھوں نے پہلے پڑوس کا حق شفعہ ثابت کیا پھر خودہی اس حق کو برباد کرنے کا حیلہ بتایا کہ خریدار بیچنے والے سے اس گھر کے سو حصوں میں سے صرف ایک مشترک حصہ خرید لے جس کی بنا پر وہ خریدے ہوئے گھر میں بیچنے والے کا شریک ہو جائے گا۔
اب پڑوسی اس ایک حصے کو معمولی اور حقیر خیال کر کے شفعہ نہیں کرے گا پھر چونکہ خریدار اس گھر میں شریک بن چکا ہے اور شریک کا حق پڑوسی کے حق سے مقدم ہوتا ہے اس لیے اب وہ گھر کے باقی ننانوے حصے بھی خرید لے اب پڑوسی کے لیے ان باقی حصوں میں حق شفعہ نہیں رہے گا۔
اس انداز سے حیلہ سازوں نے پڑوسی کا حق شفعہ ثابت کرنے کے بعد اسے باطل کر دیا کہ نہ تو وہ پہلے میں شفعہ کر سکتا ہے کیونکہ وہ تو انتہائی تھوڑا ہے اور نہ باقی حصوں میں شفعہ کر سکے گا کیونکہ شریک کا حق اس سے مقدم ہے۔
اسی تناقص کو ثابت کرنے کے لیے امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے یہ حدیث پیش کی ہے۔
2۔
شریعت نے پڑوسی کو شفعے کا حق اس لیے دیا ہے تاکہ وہ آنے والے مکین کی اذیت رسانی سے محفوظ رہے کیونکہ فروخت کرنے والے نے تو گھر بیچ کر چلے جانا ہے اب فروخت کرنے والے نے یہ حیلہ کر کے اپنے پڑوسی کو نقصان پہنچایا ہے ہمیں ایسے لوگوں پر تعجب ہوتا ہے جو ایسے حیلے جائز قرار دیتے ہیں جنھیں عمل میں لانے سے ایک مسلمان اپنے حق سے محروم ہو جاتا ہے۔
3۔
ہمارے رجحان کے مطابق کسی کا حق مارنے کے لیے حیلہ کرنا حرام اور ناجائز ہے جس کی تفصیل ہم پہلے بیان آئے ہیں۔
4۔
واضح رہے کہ ہمارے نزدیک صرف ہمسائیگی سے حق شفعہ ثابت نہیں ہوتا بلکہ اس کے لیے مشترک راستہ ہونا ضروری ہے جیسا کہ ایک حدیث میں اس کی وضاحت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے۔
’’ہمسایہ اپنے ہمسائے کا شفعے میں زیادہ حق دار ہے۔
شفعےکی وجہ سے اس کا انتظار کیا جائے گا اگرچہ غائب ہو بشرطیکہ دونوں کا راستہ ایک ہو۔
‘‘ (سنن أبي داود، البیوع، حدیث3518)
اس موقف کی تائید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان سے بھی ہوتی ہے کہ جب حد بندی ہو جائے اور راستے جدا جدا ہو جائیں تو پھر شفعے کا حق ختم ہو جاتا ہے جیسا کہ مذکورہ حدیث میں ہے۔
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اس حدیث سے اسی موقف کی طرف اشارہ کیا ہے۔
واللہ أعلم۔
اس کی بحث پہلے بھی گزرچکی ہے۔
زمین، پلاٹ اور مکان وغیرہ میں شراکت جائز ہے۔
اگر کوئی شریک اپنی مرضی سے حصہ فروخت کر دے تو دوسرے شریک کو شفعے کا حق ہے۔
جب تقسیم ہو جائے اور شراکت کا وجود نہ رہے تو شفعے کا حق بھی ساقط ہو جاتا ہے، مثلاً: ایک حویلی میں چند کمرے ہیں اور اس میں چند ایک لوگوں کی شراکت ہے۔
ایک شریک کا کمرہ الگ کر دیا گیا اور اسے راستہ دے دیا گیا تو دوسرے کمروں کو اگر مالک فروخت کرنا چاہے تو کر سکتا ہے کیونکہ شریک کا راستہ متعین ہے اور اس کی حد بندی بھی ہو چکی ہے۔
بہرحال اس مقام پر شفعے کے احکام و مسائل بیان کرنا مقصود نہیں بلکہ صرف زمین وغیرہ میں شراکت کی وضاحت مقصود ہے۔
شفعے کی مزید وضاحت آئندہ عنوان میں ہو گی۔
شفعة: شفع (جوڑا)
سے ماخوذ ہے، ایک چیز کو دوسری کے ساتھ ملانا، کیونکہ صاحب شفعہ، حق شفعہ والی چیز کو اپنی ملکیت کی چیز کے ساتھ ملا لیتا ہے۔
فوائد ومسائل: ائمہ اربعہ اور جمہور فقہاء کے نزدیک حق شفعہ کا تعلق صرف غیر منقولہ جائیداد سے ہے، جیسا کہ حدیث میں، زمین، گھر، اور باغ کی تصریح سے معلوم ہوتا ہے، لیکن حافظ ابن حزم کے نزدیک ہر مشترکہ چیز میں ہے، منقولہ ہو یا غیر منقولہ حق شفعہ ثابت ہے، اور ائمہ حجاز (مالک، شافعی، احمد)
کے نزدیک حق شفعہ، صرف حصہ دار کو حاصل ہے، اگر حصہ دار نہیں ہے، تو پھر حق شفعہ حاصل نہیں ہے، اور جہاں چار کو حق شفعہ دیا گیا ہے، وہاں مردار، جار (پڑوسی)
شریک ہے، وگرنہ الجار احق بسقبه، کہ پڑوسی اپنے قرب کی وجہ سے زیادہ حقدار ہے یا جار الدار احق بدار الجار، پڑوسی، پڑوسی کے گھر کا زیادہ حقدار ہے، کا معنی ہو گا کہ وہ حصہ دار سے بھی زیادہ حقدار ہے، کیونکہ حصہ دار ضروری نہیں ہے، پڑوسی ہو، حالانکہ احناف کے نزدیک سب سے زیادہ حقدار، حصہ دار ہے، اس کے بعد خلیط یعنی مبیع کے حقوق میں شریک، جو راستہ یا پانی میں شریک ہے، آخر میں پڑوس کا درجہ ہے، اور امام شاہ ولی اللہ کے نزدیک پڑوسی، قانونی رو سے تو حقدار نہیں ہے، لیکن اخلاقی رو سے حق دار ہے، اور الدين النصيحة، دین ہمدردی اور خیرخواہی کے نام کا تقاضا یہی ہے۔
حجۃ اللہ، ج 2، ص 113)
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شفعہ اور پڑوس کے حق کا حکم دیا۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4709]
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر مشترک مال جو تقسیم نہ ہوا ہو جیسے زمین یا باغ، میں شفعہ کا حکم دیا، اس کے لیے صحیح نہیں کہ وہ اسے بیچے جب تک کہ حصہ دار سے اجازت نہ لے لے، اگر وہ (شریک) چاہے تو اسے لے لے اور اگر چاہے تو چھوڑ دے، اور اگر اس (شریک) سے اس کی اجازت لیے بغیر بیچ دیا تو وہ اس کا زیادہ حقدار ہے۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4705]
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” شفعہ کا حق ہر چیز میں ہے، زمین ہو یا کوئی احاطہٰ (باغ وغیرہ)، کسی حصہ دار کے لیے جائز نہیں کہ اپنے دوسرے حصہ دار کی اجازت کے بغیر اپنا حصہ بیچے، اگر اس نے بیچ دیا تو وہ (دوسرا حصہ دار) اس کا زیادہ حقدار ہو گا یہاں تک کہ وہ خود اس کی اجازت دیدے۔“ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4650]
(2) یہ حدیث مبارکہ شریک کے لیے شفعے کے ثبوت کی صریح دلیل ہے۔ اہل علم کا اس پر اتفاق ہے۔
(3) شریعت مطہرہ کے اصول و ضوابط لوگوں کی خیر خواہی پر مبنی ہیں۔ ایک چیز میں مختلف شرکاء باہمی مشاورت اور دوسرے کو اعتماد میں لینے کے بعد ہی کوئی اقدام کر سکتے ہیں۔ مشترکہ چیز میں بلا مشاورت تصرف کرنے والے کا تصرف معتبر نہیں ہو گا۔
(4) شفعہ سے مراد وہ حق ہے جو ایک شریک کو دوسرے شریک کے حصے پر ہوتا ہے۔ وہ اس طرح کہ اس کی فروخت کی صورت میں وہ اسے خریدنے کا دوسروں سے بڑھ کو حق دار ہو گا۔ لیکن یہ حق مشترکہ چیز ہی میں ہے۔ جب کوئی چیز تقسیم ہو جائے، حد بندی ہو جائے، راستے تک الگ الگ ہو جائیں اور کچھ بھی اشتراک باقی نہ رہے تو یہ حق بھی ختم ہو جاتا ہے کیونکہ وہ اب شریک نہیں رہے، صرف پڑوس کی بنا پر کسی کو یہ حق نہیں مل سکتا۔ یہ مسئلہ تفصیلاً پیچھے بیان ہو چکا ہے۔
(5) ”ہر مشترکہ چیز“ بعض فقہاء نے اشیائے منقولہ کو شفعہ سے خارج کیا ہے مگر اس کی کوئی عقلی توجیہ سمجھ میں نہیں آتی۔ جن وجوہ کی بنا پر شفعہ مشروع کیا گیا ہے وہ منقولہ یا غیر منقولہ جائیداد میں برابر پائی جاتی ہیں۔
(6) اس روایت سے ثابت ہوا کہ مشترکہ چیز ساری کی ساری بھی بیچی جا سکتی ہے اور اس کے کچھ مخصوص حصے بھی، یعنی کوئی شریک صرف اپنا حصہ بھی فروخت کر سکتا ہے، خواہ شریک کو بیچے یا اس کی اجازت سے کسی اور کو۔ باب کا مقصد بھی یہی ہے۔
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شفعہ ہر اس جائیداد میں ٹھہرایا ہے جو تقسیم نہ کی گئی ہو، اور جب حد بندی ہو جائے اور راستے جدا ہو جائیں تو اب شفعہ نہیں ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الشفعة/حدیث: 2499]
فوائد و مسائل:
(1)
مشترک چیز میں اگر ایک شریک اپنا حصہ فروخت کرنا چاہے تو پہلے اپنے دوسرے شریکوں کو بتائے تاکہ اگر وہ خریدنا چاہیں تو خرید لیں۔
(2)
یہ حق زمین یا مکان میں بھی ہے اوردوسری کسی بھی مشترک چیز میں بھی۔
(3)
جب مشترک چیز تقسیم کر لی جائے اورمکان یا زمین کو تقسیم کرکے ہرشخص کا حصہ مقرر ہو جائے کہ یہاں تک فلاں کا حصہ ہے اوراس سے آگے فلاں کا حصہ ہے توشراکت ختم ہوجاتی ہے صرف ہمسائیگی باقی رہ جاتی ہے اس صورت میں جو شخص پہلے شریک تھا وہ ہمسائیگی کی بنیاد پرشفعے کا دعوی نہیں کر سکتا۔
(4)
بعض احادیث میں جو پڑوسی کے حق شفعہ کا ذکر ہے تو اس سے مراد مطلق پڑوسی نہیں بلکہ صرف وہ پڑوسی مراد ہے جو راستے یا زمین وغیرہ میں شریک ہو، اگر ایسا نہ ہوتو پھر پڑوسی بھی شفعے کا حق دار نہیں ہے اس لیے کہ جب یہ فرما دیا گیا کہ حد بندی اورراستے الگ الگ ہو جانےکے بعد حق شفعہ نہیں تو پھر محض پڑوسی ہونا پڑوسی کےحق شفعہ کا جواز نہیں بن سکتا۔
اس حدیث میں بیع کا ایک اہم اصول بیان ہوا ہے کہ شریک (حصے دار) اور ہمسائے کی اجازت کے بغیر زمین وغیر وفروخت نہ کی جائے، کیونکہ وہ اس کو خریدنے کا زیادہ حق دار ہے، اگر وہی لے لے تو باہر کسی اور کوفروخت کرنے کی ضرورت ہی نہیں رہتی، یہ اصول بہت زیادہ فوائد کو اپنے اندر لیے ہوئے ہے۔