حدیث نمبر: 1352
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ , حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ الْمُزَنِيُّ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ جَدِّهِ , أَنَّ ّرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الصُّلْحُ جَائِزٌ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ , إِلَّا صُلْحًا حَرَّمَ حَلَالًا , أَوْ أَحَلَّ حَرَامًا , وَالْمُسْلِمُونَ عَلَى شُرُوطِهِمْ إِلَّا شَرْطًا حَرَّمَ حَلَالًا , أَوْ أَحَلَّ حَرَامًا " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عمرو بن عوف مزنی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” صلح مسلمان کے درمیان نافذ ہو گی سوائے ایسی صلح کے جو کسی حلال کو حرام کر دے یا کسی حرام کو حلال ۔ اور مسلمان اپنی شرطوں کے پابند ہیں ۔ سوائے ایسی شرط کے جو کسی حلال کو حرام کر دے یا کسی حرام کو حلال “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الأحكام عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 1352
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، ابن ماجة (2353)
تخریج حدیث «سنن ابن ماجہ/الأحکام 23 (2353) ، ( تحفة الأشراف : 10775) (صحیح) (شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے، ورنہ ’’ کثیر بن عبداللہ ‘‘ ضعیف راوی ہیں، دیکھئے: الارواء رقم 1303)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´لوگوں کے درمیان صلح کرانے کے سلسلے میں رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کے ارشادات۔`
عمرو بن عوف مزنی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " صلح مسلمان کے درمیان نافذ ہو گی سوائے ایسی صلح کے جو کسی حلال کو حرام کر دے یا کسی حرام کو حلال۔ اور مسلمان اپنی شرطوں کے پابند ہیں۔ سوائے ایسی شرط کے جو کسی حلال کو حرام کر دے یا کسی حرام کو حلال۔‏‏‏‏" [سنن ترمذي/كتاب الأحكام/حدیث: 1352]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(شواہد کی بناپر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے، ورنہ ’’کثیر بن عبداللہ‘‘ ضعیف راوی ہیں، دیکھئے: الارواء رقم: 1303)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1352 سے ماخوذ ہے۔