سنن ترمذي
كتاب الأحكام عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے احکامات اور فیصلے
باب مَا جَاءَ فِي الْعَبْدِ يَكُونُ بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ فَيُعْتِقُ أَحَدُهُمَا نَصِيبَهُ باب: دو آدمیوں کے درمیان مشترک غلام کا بیان جس میں سے ایک اپنے حصہ کو آزاد کر دے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ , حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ , عَنْ أَيُّوبَ , عَنْ نَافِعٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ أَعْتَقَ نَصِيبًا , أَوْ قَالَ : شِقْصًا , أَوْ قَالَ : شِرْكًا لَهُ فِي عَبْدٍ فَكَانَ لَهُ مِنَ الْمَالِ مَا يَبْلُغُ ثَمَنَهُ بِقِيمَةِ الْعَدْلِ فَهُوَ عَتِيقٌ , وَإِلَّا فَقَدْ عَتَقَ مِنْهُ مَا عَتَقَ " . قَالَ أَيُّوبُ : وَرُبَّمَا قَالَ نَافِعٌ : فِي هَذَا الْحَدِيثِ يَعْنِي : فَقَدْ عَتَقَ مِنْهُ مَا عَتَقَ . قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ , وَقَدْ رَوَاهُ سَالِمٌ , عَنْ أَبِيهِ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ .´عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے کسی مشترک غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کیا “ ، اور اس کے پاس اتنا مال ہو جو غلام کی واجبی قیمت کو پہنچ رہا ہو تو وہ اس مال سے باقی شریکوں کا حصہ ادا کرے گا اور غلام ( پورا ) آزاد ہو جائے گا ورنہ جتنا آزاد ہوا ہے اتنا ہی آزاد ہو گا “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- ابن عمر رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے ، ۲- اسے سالم بن عبداللہ نے بھی بطریق : «عن أبيه عن النبي صلى الله عليه وسلم» اسی طرح روایت کیا ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
اگر اتنا مال نہ ہو تو بس جتنا حصہ اس کا تھا اتنا ہی آزاد ہوا۔
عینی نے اس مسئلہ میں چودہ مذہب بیان کئے ہیں۔
لیکن امام احمد ؒ اور شافعی ؒ اور اسحاق ؒنے اسی حدیث کے موافق حکم دیا ہے اور حضرت امام ابوحنیفہ ؒ کہتے ہیں کہ ایسی صورت میں دوسرے شریک کو اختیار رہے گا خواہ اپنا حصہ بھی آزاد کردے خواہ غلام سے محنت مشقت کراکر اپنے حصہ کے دام وصول کرے۔
خواہ اگر آزاد کرنے والا مال دار ہو تو اپنے حصے کی قیمت اس سے بھرلے۔
پہلی اور دوسری صورت میں غلام کا ترکہ دونوں کو ملے گا اور تیسری صورت میں صرف آزاد کرنے والے کو۔
باب اور حدیث میں مطابقت ظاہر ہے کہ غلام کی ٹھیک ٹھیک قیمت لگاکر اس کے جملہ مالکوں پر اسے تقسیم کردیا جائے۔
اس حدیث کو اس لیے لائے کہ اس میں عبد کا لفظ غلام کے لیے آیا ہے۔
پس مجازاً غلام پر عبد بولا جاسکتا ہے۔
اس مختصر روایت کو امام بیہقی ؒ نے بیان کیا ہے جس کے الفاظ یہ ہیں: ’’جس نے مشترک غلام سے اپنا حصہ آزاد کیا تو وہ غلام مکمل طور پر آزاد ہو جائے گا۔
‘‘ (السنن الکبریٰ للبیھقي: 277/10)
مگر اور راویوں نے جیسے عبیداللہ اور مالک وغیرہ ہیں، اس فقرے کو حدیث میں داخل کیا ہے اور وہی راجح ہے۔
امام بخاری ؒ کے بیان کردہ مسئلے میں بہت اختلاف ہے اور اس اختلاف کی بنیاد یہ ہے کہ آیا غلام کی آزادی قابل تقسیم ہے یا نہیں؟ امام بخاری ؒ کا موقف یہ ہے کہ آزادی کا تجزیہ ہو سکتا ہے۔
جب غلامی کا دور تھا تو کئی آدمی مل کر ایک غلام خرید لیتے تھے اب اگر کوئی اپنا حصہ آزاد کرنا چاہتا تو اس کے متعلق ضابطہ یہ تھا کہ پہلے غلام کی صحیح اور عادلانہ قیمت تجویز کی جائے پھر اپنا حصہ آزاد کرنے والا اگر مال دار ہے تو باقی شرکاء کو ان کے حصص کے مطابق قیمت ادا کرے، اس صورت میں وہ غلام مکمل طور پر آزاد ہو گا۔
اگر وہ شخص مال دار نہیں ہے تو پھر صرف اسی کا حصہ آزاد ہو گا، مکمل طور پر آزاد نہیں ہو گا۔
اس طرح اس کی آزادی تقسیم ہو سکتی ہے۔
کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ آزادی تقسیم نہیں ہو سکتی بلکہ ایک حصہ آزاد کرنے سے وہ مکمل آزاد ہو جائے گا۔
اگر وہ صاحب حیثیت ہے تو اسے باقی حصوں کی قیمت کا تاوان دینا ہو گا۔
اگر صاحب حیثیت نہیں ہے تو غلام کو محنت مزدوری پر مجبور کیا جائے گا۔
اس پر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر اپنا حصہ آزاد کرنے والا تنگ دست ہو اور غلام بھی محنت مزدوری کے قابل نہ ہو تو پھر کیا کیا جائے گا؟ بہرحال ہمارے رجحان کے مطابق آزادی قابل تجزیہ ہے اور غلام کا کچھ حصہ آزاد اور کچھ حصہ غلام ہو سکتا ہے، اس میں کوئی اشکال نہیں۔
امام بخاری ؒ نے آئندہ باب میں اس کا مزید حل پیش فرمایا ہے۔
عتق: عتق کا لفظ مختلف معانی کےلیے استعمال ہوتا ہے، کرم، جمال، شرف ونجابت، آزادی اور حریت، اور جب کہیں أَعْتَقَ العَبدَ فلان تو معنی ہوگا، اس نے غلام کو آزاد کر دیا۔
(2)
شرك حصہ۔
فوائد ومسائل: اسلام نے جنگی قیدیوں کو پہلے سے موجود اور ازواج پذیر، نظریہ کے مطابق ان کی بہتری اور تعلیم تربیت کی خاطر ان کو غلام بنانے کی اجازت دی ہے لیکن ان کو یونانیوں رومیوں اور مغربی اقوام کے دستور کے مطابق ڈھورڈنگروں کی طرح نہیں رکھا اور ان کو شرف انسانیت سے محروم نہیں کیا، ان کو شرف انسانی بخشا اور ان کے حقوق بیان کیے، بلکہ ان کو بھائی قرار دیا، ان سے حسن سلوک کی تعلیم دی، آپﷺ نے فرمایا: (أَكْرِمُوهُمْ كَرَامَةَ أَوْلادِكُمْ)
ان کو اپنی اولاد کی طرح عزت و شرف دو۔
اور فرمایا: کوئی انسان عبدی (میراغلام)
امتی (میری لونڈی)
نہ کہے اور مملوک اپنے آقا کو ربی نہ کہے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زندگی کے آخری سانس کے وقت فرمایا: (الصَّلاَةَ وما مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ)
نماز اور اپنے مملوکوں کا دھیان رکھنا، اس لیے مختلف طریقوں سے ان کو آزاد کرنے کی ترغیب دلائی، اس اصول کے مطابق اگر کوئی مشترکہ غلام میں اپنا حصہ آزاد کرتا ہے اور اس کو باقی حصہ آزاد کرنے کی توفیق حاصل ہے تو اس کو یہی حکم دیا کہ وہ باقی حصہ بھی آزاد کرے۔
(1)
وكس: نقصان و خسارہ۔
(2)
شطط: ظلم و جور یا زیادتی و اضافہ۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے رویت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو شخص (مشترک) غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کر دے تو اس غلام کی واجبی قیمت لگا کر ہر ایک شریک کو اس کے حصہ کے مطابق ادا کرے گا اور غلام اس کی طرف سے آزاد ہو جائے گا اور اگر اس کے پاس مال نہیں ہے تو جتنا آزاد ہوا ہے اتنا ہی حصہ آزاد رہے گا۔“ [سنن ابي داود/كتاب العتق /حدیث: 3940]
آزاد کر نے والے کو ترغیب وتشویق دی گئی ہے کہ اگر وہ یہ مالی بوچھ برداشت کرسکتا ہے تو کر لے، اس میں بڑی فضیلت ہے۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جس نے ایک غلام میں اپنا حصہ آزاد کر دیا تو جتنا حصہ باقی ہے وہ بھی اسی کے مال سے آزاد ہو گا بشرطیکہ اس کے پاس غلام کی (بقیہ) قیمت بھر مال ہو “ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4702]
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو شخص کسی غلام میں سے اپنے حصہ کو آزاد کر دے، تو کسی عادل شخص سے غلام کی قیمت لگوائی جائے گی، اور اس کے بقیہ شرکاء کے حصہ کی قیمت بھی اسے ادا کرنی ہو گی، بشرطیکہ اس کے پاس اس قدر مال ہو جتنی غلام کی قیمت ہے، اور اس طرح پورا غلام اس کی طرف سے آزاد ہو جائے گا، لیکن اگر اس کے پاس مال نہ ہو تو ایسی صورت میں بس اسی قدر غلام آزاد ہو گا جتنا اس نے آزاد کر دیا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب العتق/حدیث: 2528]
فوائد و مسائل:
(1)
انصاف کے ساتھ قیمت لگانے مطلب یہ ہے کہ یہ اندازہ کیا جائے کہ اس زمانے میں اس جگہ یہ غلام کتنی قیمت میں فروخت ہوسکتا ہے مثلاً: اگر وہ آدھے غلام کا مالک تھا اور غلام کی قیمت کا اندازہ سو دینار ہے تو پچاس دینار اپنے دوسرے شریک یا شریکوں کو ادا کرکے باقی آدھا غلام بھی خرید کر آزاد کردے۔
(2)
مذکورہ مثال میں اگرآزاد کرنے والا پچاس دینار کی طاقت نہ رکھتا ہو تو یہ غلام آدھا آزاد سمجھا جائے گا اورآدھا غلام لہٰذا اگروہ قتل ہوجائے تو آدھی دیت (پچاس اونٹ)
لی جائے گئی اور غلام کی قیمت سے آدھی رقم بھی لی جائے گئی۔
اور جن معاملات میں اس طرح کی تقسیم ممکن نہیں تواسے غلام ہی تصور کیا جائے گا جس طرح نامکمل ادائیگی کرنے والے مکاتب کا حکم ہے۔
واللہ أعلم۔
«. . . 244- وبه: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ”من أعتق شركا له فى عبد فكان له مال يبلغ ثمن العبد قوم عليه قيمة العدل فأعطى شركاءه حصصهم وعتق عليه، وإلا فقد عتق منه ما عتق.“ . . .»
”. . . اور اسی سند کے ساتھ (سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے) روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص (مشترکہ) غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کر دے، پھر اس کا مال اگر غلام کی قیمت کے برابر ہو تو غلام کی قیمت کا حساب لگا کر اس کی ملکیت میں شریکوں کو ان کے حصے دیئے جائیں گے اور وہ غلام اس کی طرف سے آزاد ہو جائے گا ورنہ اتنا حصہ ہی اس میں سے آزاد ہو گا جو کہ آزاد ہوا ہے . . .“ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 518]
تفقه:
➊ اسلام اس بات کی ترغیب دیتا ہے کہ غلاموں کو آزاد کیا جائے۔
➋ جس شخص نے کسی غلام میں اپنا حصہ آزاد کردیا تو یہ غلام اس شخص کی غلامی سے آزاد ہوجائے گا لیکن اگر کسی اور شخص کا حصہ باقی رہا تو یہ غلام دوسرے شخص کا غلام ہی رہے گا اِلا یہ کہ وہ بھی آزاد کردے۔
➌ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے کسی غلام میں اپنا حصہ آزاد کیا تو اس کی پوری آزادی اسی کے ذمہ ہے بشرطیکہ اس کے پاس مال ہو ورنہ غلام کی قیمت لگائی جائے گی اور اس غلام سے کہا: جائے گا کہ وہ کوشش (مال جمع) کرکے اپنے آپ کو آزاد کروالے لیکن اس پر سختی نہ کی جائے۔ [صحيح بخاري: 2527، صحيح مسلم: 1503،]
➍ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے اپنی موت کے وقت اپنے چھ غلاموں کو آزاد کردیا، ان کے علاوہ اس کا اور کوئی مال نہیں تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان غلاموں کو بلایا اور ان کے تین حصے کئے پھر قرعہ اندازی کرکے دو غلاموں کو آزاد کردیا اور چار کو غلامی میں برقرار رکھا۔ آپ نے (اس طریقے سے) آزاد کرنے والے شخص کی مذمت فرمائی۔ [صحيح مسلم: 1668، دارالسلام: 4335]
معلوم ہوا کہ مرنے والا صرف ایک ثلث (ایک تہائی) کی وصیت کر سکتا ہے۔
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ غلامی تقسیم ہوسکتی ہے۔ ایک غلام کئی لوگ مل کر خرید تے تھے۔ اگر کوئی اپنا حصہ آزاد کرنا چاہتا تو اس کا طریقہ یہ تھا کہ پہلے غلام کی صحیح قیمت تجویز کی جائے پھر اگر آزاد کر نے والا مال دار ہے تو باقی شرکاء کو ان کے حصص کے مطابق قیمت ادا کرے اس طرح وہ غلام مکمل طور پر آزاد ہوگا۔ اگر وہ شخص مال دار نہیں ہے تو پھر صرف اس کا حصہ آزاد ہوگا مکمل طور پر آزاد نہیں ہوگا۔